بھارت میں ذاتی گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ ختم

تصویر کے کاپی رائٹ 1
Image caption کار سازوں کو امید ہے کہ ٹیکس چھوٹ کی واپسی کے باوجود نئی گاڑیوں کی فروخت میں کمی نہیں آئے گی

اطلاعات کے مطابق نئے سال میں بھارتی حکومت ٹیکس پر چھوٹ واپس لینے کا ارادہ رکھتی ہے جس کی وجہ سے گاڑیاں، موٹر سائیکل اور دیگر اشیائے صرف کے مہنگے ہونے کا اندیشہ ہے۔

وزارت خزانہ کے حکام نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ 31 دسمبر کو ختم ہونے والی ایکسائز ڈیوٹی پر مراعات کی تجدید نہیں کی جائے گی۔

ٹیکس میں اضافے کے باعث کچھ گاڑیوں کی قیمتوں میں لاکھوں روپے کا اضافہ ہو جائے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی مالی حالت اچھی نہیں ہے اس لیے وہ ٹیکسوں کے ذریعے پیسے جمع کر نے کی کوشش کر رہی ہے۔

معیشیت میں تیزی لانے کی نیت سے ٹیکس مراعات کا اعلان سابقہ کانگریس حکومت نے فروری میں کیا تھا، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے حکومت میں آنے کے بعد ٹیکس چھوٹ میں سال کے آخر تک توسیع کی تھی۔

بھارتی اخبار ٹائمزآف انڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک حکومتی اہلکار کا کہنا تھا کہ ’ٹیکس میں چھوٹ عارضی تھی اور اس میں توسیع نہیں کی جائے گی۔‘

حکام کے مطابق اعداد و شمار ظاہر کر رہے ہیں کہ گاڑیوں کی صنعت میں بہتری آئی ہے اس لیے ایکسائیز ڈیوٹی پر مراعات واپس لی جا رہی ہیں۔

چھوٹی کاروں پر ایکسائز ڈیوٹی 8 فیصد سے بڑھ کر 12 فیصد سے ہو جا ئے گی، جس کی وجہ سے چھوٹی کار کی اوسط قیمت میں 8000 روپے کا اضافہ ہوگا۔

بڑے انجن والی کاروں پر ایکسائز ڈیوٹی 20 فیصد سے بڑھ کر 24 فیصد ہو جائے گی۔

کار ساز کمپنیوں کو امید ہے کہ ٹیکس چھوٹ کی واپسی کے باوجود نئی گاڑیوں کی فروخت میں کمی نہیں آئے گی۔

خبررساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوے بھارت کی سب سے بڑی کار ساز کمپنی ماروتی سوزوکی کے چیئرمین ’آر سی بارگاوا‘ کا کہنا تھا کہ ’یہ عارضی طور پر گاڑیوں کی فروخت کو متاثر کرے گا، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس کے کوئی طویل المیعاد منفی اثرات پڑیں گے۔‘

اسی بارے میں