سنکیانگ، چینی حکومت کے حربے کامیاب یا ناکام؟

چین گذشتہ چھ ماہ سے مغربی ریاست سنکیانگ میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کر رہا ہے۔ ان اقدامات میں شہری اور مذہبی حقوق پر پابندیاں شامل ہیں۔ یہ جاننے کے لیے کہ دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے میں چینی حکومت کے طریقے کتنے سود مند ثابت ہو رہے ہیں چین میں بی بی سی کی چائنہ ایڈیٹر کیری گریسی نے سنکیانگ کا دورہ کیا۔ کیری گریسی کاشغر بھی گئی۔ یہ رپورٹ ان کے مشاہدات پر مبنی ہے۔

’کاشغر میں استحکام نہیں ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption چین نے سنکیانگ میں پرتشدد واقعات کے بعد وہاں پکڑ دھکڑ شروع کر رکھی ہے

’کاشغر میں استحکام نہیں ہے‘یہ وہ الفاظ ہیں جو پیرا ملٹری پولیس آفیسر نے میرے پاس سے گزرتے ہوئے کہے جب میں چیئرمین ماؤ کے مجسمے کے سائے میں کھڑی تھی۔

یہ دراصل میرے اس سوال کا جواب تھا کہ یہاں اتنے آرمڈ ٹرک، مسلح اہلکار اور اتنے زیادہ پولیس کے کتے کیوں موجود ہیں۔ماضی میں اس علاقے میں بیرونی حملہ آوروں کی آمد اور خانہ جنگی کی تاریخ کی وجہ سے بہت سے چینی باشندے مضبوط مرکزی حکومت کے حامی ہیں۔

لیکن اس تحفظ کے لیے ان کے شہری حقوق غصب ہو رہی ہے جو بہرحال ایک بڑی قیمت ہے۔ یہ صورتحال ان سرحدی علاقوں میں مزید واضح ہو جاتی ہے جہاں کے رہائشی عام چینی باشندوں سے بہت مختلف ہیں۔

تین برائیوں کا مجموعہ

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption چین میں بی بی سی کی نامہ نگار کیری گریسی نے سنکیانگ کا دورہ کیا

سنکیانگ میں جو کچھ ہو رہا ہے چینی حکومت اسے تین برائیوں کا مجموعہ قرار دیتی ہے۔ چینی حکومت کے خیال میں سنکیانگ کی موجودہ صورتحال مذہبی شدت پسندی، علیحدگی پسندی اور دہشتگردی کا مجموعہ ہے اور حکومت ان تینوں ’برائیوں‘ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔

انسانی حقوق اور غیرممالک میں مقیم اویغوروں کے خیال میں حکومت خود حالات کو خراب کر رہی ہےاور پرتشدد کارروائیوں کی وجہ چینی حکومت کا جبر اور مذہب پر پابندیاں ہیں۔

اویغور ثقافت چینی ثقافت سے زیادہ وسطِ ایشا سے زیادہ قریب ہے۔ اویغور باشندے نسلی طور ترک مسلمان ہیں۔ سنکیانگ میں اویغور آبادی کا 45 فیصد ہیں جبکہ ہُن چینیوں کی تعداد 40 فیصد ہے۔

چین نے 1949 میں مشرقی ترکستان کے نام سے قائم ریاست کو ختم کر دیا تھا۔ اس وقت سے ہُن چینیوں کی بڑی تعداد نے سنکیانگ کا رخ کیا ہے۔ اویغوروں کا کہنا ہے کہ انھیں معاشی طور پر پیچھے کیا جا رہا ہے اور ان کی ثقافت کو ختم کیا جا رہا ہے۔

سنکیانگ چین کا سب سے بڑا انتظامی علاقہ ہے اور اس کی سرحدیں آٹھ ملکوں سے ملتی ہیں۔

مسلمان پہلے یا چینی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اویغور ثقافت چینی ثقافت سے زیادہ وسطِ ایشا سے زیادہ قریب ہے

میں یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ دہشتگردی کےخاتمے کے لیے چینی حکومت کے اقدامات کا کیا اثر ہو رہا ہے اور مسلمان اویغور باشندے علاقے میں عائد مذہبی پابندیوں کے بارے کیا رائے رکھتے ہیں۔

لیکن چینی حکومت نے میرے مقصد کے حصول کو انتہائی مشکل بنا دیا۔ چینی حکومت نہ صرف ایک غیر ملکی صحافی کی نگرانی کر رہی تھی بلکہ وہ ان لوگوں کی بھی نگرانی کر رہی تھی جن سے میں بات کرنا چاہتی تھی۔

کاشغر آخری شہر ہے جہاں سے نکل کر آپ پاکستان میں داخل ہو سکتے ہیں۔ کاشغر جغرافیائی طور پر بیجنگ سے دور اور بغداد سے نزدیک ہے۔

چینی حکومت کو اویغور باشندوں کی حب الوطنی پر یقین نہیں ہے۔ چین کو یہ یقین نہیں کہ وہ پہلے مسلمان ہیں یا پہلے چینی۔

چینی حکومت نے پچھلے چھ مہینوں علاقے میں سکیورٹی کے سخت اقدامات کے علاوہ مذہبی اظہار پر بھی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

اویغوروں نے پہلے بھی کئی بڑی سلطنتوں کو آتے جاتے دیکھا ہے۔ بیسویں صدی میں روسی بھی اس علاقے میں مداخلت کرتے رہے ہیں اور آزاد ایسٹ ترکستان کی حمایت کرتے رہے ہیں۔

چین کی حکمران جماعت کمیونسٹ پارٹی لوگوں کو بتانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس کی سنکیانگ کی معدنی دولت پر نظر نہیں ہے بلکہ چین کے محب وطن لوگوں کے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اویغور کیوں تشدد پر مائل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سنکیانگ چین کا سب سے بڑا انتظامی علاقہ ہے اور اس کی سرحدیں آٹھ ملکوں سے ملتی ہیں

میرے سنکیانگ آنے سے صرف دو روز پہلے یہاں تشدد کے واقعات میں پندرہ لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ پچھلے چھ ماہ میں سنکیانگ میں پرتشدد واقعات میں کم از کم 200 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ سنکیانگ کے شہری تشدد پر کیوں مائل ہو رہے ہیں۔

چینی حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان سے آنے والی پراپیگنڈہ سی ڈیز، موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں کو مقدس جنگ پر اکسایا جا رہا ہے۔ چینی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ہزاروں جہادی پراپیگنڈہ سی ڈیز کو قبضے میں لیا اور ایسی ویب سائٹس کو بلاک کیا ہے جہاں انھیں دہشتگردی کے طریقوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔

مذہبی پابندیاں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومتی اہلکار عبادت کے لیے مسجد میں نہیں جا سکتا

مجھے ایک اویغور باشندے نے بتایا ’حکومت مذہب کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے، کوئی حکومتی اہلکار عبادت کے لیے مسجد میں نہیں جا سکتا اور نہ ہی کوئی اٹھارہ سال سے کم عمر کا شہری مسجد جاسکتا ہے۔‘

یہ ہی بات مجھے ایک ایغور پولیس اہلکار نے بھی بتائی۔’میں ایک عملی مسلمان ہوں لیکن میں مسجد نہیں جا سکتا۔‘

جب میں نے اسے کہا کہ تمھیں یہ کیسا لگتا ہے، تو اس نے ادھر ادھر دیکھا اور کوئی جواب دیتے ہوئے خاموش ہو گیا۔

جب میں نے کاشغر اور اس کے قریبی علاقوں میں بس پر سفر کیا تو میں نے دیکھا نوجوان اویغور باشندے تابعداری کے ساتھ ہر چیک پوسٹ پر اپنے آپ کو تلاشی کے لیے پیش کرتے ہیں۔ ایک شخص جب پولیس کو اپنا موبائل فون چیک کروا کر واپس بس میں آیا تو کہا: ’اس میں کچھ مذہبی نہیں۔ آپ اس پر کچھ بھی نہیں رکھ سکتے۔‘

ہُن کو اویغور پر ترجیح

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سنکیانگ میں اویغور اب اقلیت میں ہیں اور ہر سطح پر ہن باشندوں کو اویغوروں پر ترجیج دی جاتی ہے۔ کچھ نے مجھ سے شکایت کی کہ ہمیں تفریق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایک تعمیراتی کمپنی کے اویغور سربراہ نے اس الزام کو تسلیم کیا: ’میری کمپنی میں تمام بڑے عہدے ہُن چینوں کے پاس ہیں۔ ان کے پاس تعلیم ہے جبکہ ہم اویغوروں کے پاس نہیں۔‘

ایک ہُن چینی نے اس صورتحال کو مزید سخت الفاظ میں بیان کیا: ’کوئی بھی اویغور ورکر کو ملازمت نہیں دے اگر اس کے پاس متبادل ہُن ورکر ہے۔ اویغور سست اور نااہل ہیں۔ اویغور کو ملازمت دینے سے آپ کا خرچ تین گنا بڑھ جائے گا۔‘

سنکیانگ عالمی جہاد کے ریڈار پر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اویغور ورکر انتہائی سست اور نااہل ہیں، ہن بہت محنتی ہیں: فیکٹری مالک

چینی حکام کا اصرار ہے کہ سنکیانگ اب عالمی جہاد کے ریڈار پر ہے اور سنکیانگ کے مسائل ملک سے باہر سے درآمد کیےگئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انٹرنیٹ کے ذریعے اویغور نوجوان کے ذہنوں کو پراگندہ کیا جا رہا ہے اور انھیں ’شہادت‘ کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

ایک سال پہلے تیان مِن سکوائر پر ہونے والے خود کش حملہ کے بعد جو ویڈیو منظر عام پر آئیں اس سے چینی حکام کے موقف کو تقویت ملتی ہے۔ میں نے ایسی خبریں پڑھی تھیں کہ تیان مِن سکوائر پر حملہ کرنے والا شخص بھی چینی حکام کی جانب ان کے گاؤں میں مسجد گرانے پر مشتعل ہو کر خود کش حملے پر تیار ہوا تھا۔ میں نے سنکیانگ کے دورے کے دوان تیان مِن سکوائر کے خود کش حملہ آور کےگاؤں جانے کی پوری کوشش کی لیکن چینی حکام نے ایسا نہیں ہونے دیا۔

2014 کے اوائل میں دولتِ اسلامیہ کے سربراہ ابوبکر البغداد ی نے بھی چینی حکومت کی پالیسوں پر تنقید کرتے ہوئے چینی مسلمانوں سے کہا تھا کہ وہ دولت اسلامیہ کے ساتھ الحاق کا عہد کریں۔ انگریزی زبان میں چھپنے والے القاعدہ کے میگزین میں بھی سنکیانگ کو مسلمانوں کا مقبوضہ علاقہ ظاہر کیا گیا ہے۔

تنقید برداشت نہیں

Image caption میں نے اپنے دورے کے دوران ایسی شکایت سنی ہیں کہ چینی حکام مسلمانوں کو داڑھے رکھنے کی اجازت نہیں دیتے

چینی ریاست کی نظر میں کسی قسم کی تنقید ’تین برائیوں‘ کے ساتھ ہمدردی کے مترادف ہے۔

میں نے اپنے دورے کے دوران ایسی شکایت سنی ہیں کہ چینی حکام مسلمانوں کو داڑھے رکھنے کی اجازت نہیں دیتے اور نہ ہی عورتوں کو حجاب پہننے کی اجازت ہے۔ سنکیانگ میں ایک ہسپتال میں ایک اویغور سکیورٹی گارڈ نے مجھے بتایا کہ جو عورتیں حجاب پہننے پر اصرار کر تی ہے انھیں علاج کے لیے ہسپتال میں داخل نہیں کیا جاتا۔

ایک اور اویغور حکومتی اہلکار نے مجھے بتایا کہ مجھے اپنے نوکری سے نفرت ہے۔ میں سچی بات نہیں کر سکتا اور ہر طرف جاسوس پھیلے ہوئے ہیں۔

پچھلے تیس برسوں میں چینی حکام کا موقف تھا کہ علاقے میں خوشحالی آنے سے مزاحمتی جذبے میں خود بخود کمی ہو جائے گی لیکن ایسا نہیں ہو پا رہا ہے۔

میرا تجزیہ

سنکیانگ کے مختصر دورے کے بعد میرے عبوری تجزیے کے مطابق سنکیانگ میں امن و امان کی مجموعی صورتحال قابو میں ہے اور چینی اقتدار کو مسلمان جنگجوؤں سے کوئی قابلِ ذکر خطرہ نہیں ہے۔ میں ایئرپورٹ، بڑی شاہراہوں اور شہر کی گلیوں میں پولیس کی بڑی تعداد دیکھی لیکن پولیس کے رویے اور تیاری سے مجھے کہیں یہ محسوس نہیں ہوا کہ چین دہشتگردی کے کسی خطرے سے نمٹ رہا ہے۔

میں نے دیکھا کہ اویغور آبادی کی، جس کو مذہبی اور اظہار رائے کی بندشوں کا سامنا ہے، سخت نگرانی ہو رہی ہے۔ لوگوں کو اپنے جذبات کا اظہار کا موقع نہ دینے کی صورت میں پرتشدد کی کارروائیاں جاری رہیں گی اور مشتعل اویغور نوجوان غلامی کی بجائے گولیوں کی بوچھاڑ کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوتے رہیں گے۔