’امریکی فوجیوں کے مکمل انخلا پر نظر ثانی ہونی چاہیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی اور غیر ملکی فوجیوں کا انخلا شروع ہونے کے بعد طالبان نے اپنی کارروائیاں تیز کر دی تھیں۔

افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ دو سال میں افغانستان سے آخری امریکی فوجی کو بھی نکال لینے کی مدت پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے سنہ 2016 کے آخری میں تمام امریکی فوجیوں کو افغانستان سے واپس بلا لینے کا وعدہ کر رکھا ہے اور اس دوران افغانستان اپنی سکیورٹی کی ذمہ داریاں خود پوری کرنے لگے گا۔

لیکن گذشتہ برس سے طالبان نے امریکی فوج کے خلاف اپنی فتح کا اعلان کرتے ہوئے اپنی کارروائیاں تیز کر دی تھیں۔

صدر اشرف غنی نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’ڈیڈ لائن‘ عقیدہ نہیں ہوتیں۔

امریکی فوج کے افغانستان سے انخلاء کے نظام الاوقات کے بارے میں امریکی صدر براک اوباما کے اشرف غنی کے پیش رو حامد کرزائی کے ساتھ اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔

گزشتہ مہینے اتحادی فوجوں نے افغانستان میں اپنے امن مشن کو باضابط طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد تیرہ ہزار امریکی فوجی افغان فوجیوں کی تربیت اور معاونت کے لیے دو سال کے عرصے کے لیے افغانستان میں رہیں گے۔ ان میں چند ہزار امریکی فوجی ایسے ہوں گے جن کا مقصد انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں حصہ لینا ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption افغانستان میں رہ جانے والی فوجی افغان فوجیوں کی معاونت اور تربیت کا کام کریں گے

طالبان نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف فتح کا اعلان کرنے کے بعد ملک سے باقی ماندہ غیر ملکی فوجیوں کو نکالنے کے بعد شرعی نفاذ کرنے کا عزم کیا ہے۔

تیرہ برس جاری رہنے والی جنگ کے عروج کے دنوں میں پچاس سے زیادہ ملکوں کے ایک لاکھ تیس ہزار فوجی افغانستان میں موجود تھے۔

ڈاکٹر اشرف غنی نے سی بی ایس کے پروگرام ’سکسٹی منٹ‘ پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر دونوں فریق اور اس معاملے میں بہت سے شراکت داروں نے اپنی پوری کوشش کی اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اور واضح پیش رفت ہوئی ہے تو پھر اس ڈیڈ لائن پر نظر ثانی کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکی فوج جنرل کا کہنا ہے کہ افغان فوجی افغانستان کی حفاظت کر سکتے ہیں

ایک سوال پر کہ کیا صدر اوباما کو بتایا گیا ہے ڈاکٹر اشرف غنی نے کہا کہ صدر اوباما مجھے جانتے ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔

افغانستان میں رہ جانے والی فوجوں کی کمان کرنے والے جنرل جان کیمپبل نے سی بی ایس کو ایک علیحدہ انٹرویو میں بتایا کہ انھیں مکمل اعمتاد ہے کہ افغانستان کی سکیورٹی فورسز افغانستان کو شام اور عراق کی طرح داعش جیسے گروپوں کے ہاتھوں میں جانے سے بچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ عراق نہیں ہے اور ان کے پاس فوج ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ داعش افغانستان میں آ سکتی ہے جیسے وہ عراق میں آ گئی۔ افغانستان سکیورٹی فورسز ایسا نہیں ہونے دیں گی۔

انھوں نے کہا کہ افغان فوج افغانستان میں ایک باعزت ادارہ ہے۔ چند برس پہلے تک ایسا نہیں تھا اور نہ ہی وہ یہ کہہ سکتے تھے لیکن اب وہ یہ کہہ سکتے ہیں۔

ماضی قریب میں ناقدین طالبان کے خلاف افغان سکیورٹی فورسز کی تنظیم اور ان کے حوصلوں کے بارے میں سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ گزشتہ سال 4600 افغان سکیورٹی فورس کے اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں