خودکش حملے میں دو سعودی اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سعودی عرب نے عراق کے ساتھ اپنی سرحد پر اضافی فوج تعینات کی ہوئی ہے

سعودی عرب کی عراق کے ساتھ سرحد پر ایک خودکش حملے میں دو سعودی گارڈ ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔

سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ واقعہ شمالی سرحدی صوبے میں پیر کی صبح ساڑھے چار بجے پیش آیا۔

حکام کے مطابق دو حملہ آوروں نے سعودی اہلکاروں پر فائرنگ کر دی جس کے بعد جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور مارا گیا اور دوسرے نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سعودی سرحدی فورس کے سینیئر اہلکار بھی شامل ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ نے ہلاک ہونے والے سینیئر اہلکار کا نام جنرل قُدح ال بلاوی بتایا ہے۔

اب تک کسی شدت پسند گروپ نے اِس واقعے کی ذمہ داری تو قبول نہیں کی ہے لیکن دولت اسلامیہ کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ سعودی عرب امریکہ کی قیادت میں اُس کثیر ملکی اتحاد میں شامل ہے جو دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے۔

سعودی ایئر فورس شام میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہی ہے۔

شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ کی مسلسل پیش رفت کے بعد سعودی عرب نے عراق کے ساتھ اپنی سرحد پر ہزاروں کی تعداد میں اضافی فوج تعینات کر دی ہے۔

سعودی عرب میں گذشتہ مہینے کم از کم 135 افراد کو دہشت گردی کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ عراق و شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف امریکہ کی قیادت میں جنگ میں شامل ہونے کے بعد یہ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف ردعمل سامنے آئے گا۔

کچھ عرصہ پہلے دولتِ اسلامیہ کے رہنما ابوبکر البغدادی کے مبینہ آڈیو پیغام میں سعودی سرزمین پر حملوں کی دھمکی دی گئی تھی۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق گرفتار کیے جانے والوں میں 40 افراد جنگ زدہ علاقوں سے واپس آئے تھے۔ انھوں نے شدت پسند تنظیموں میں شمولیت اختیار کر رکھی تھی اور دھماکہ خیز مواد بنانے کی تربیت حاصل کر چکے تھے۔

اسی بارے میں