پیرس واقعہ: بھارت میں بحث کیوں ضروری؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کیا مذاہب اور مذہبی کرداروں کوبھی تنقید اور تضحیک کے دائرے میں نہیں لانا چاہیے؟

گذشتہ بدھ کو فرانس کے معروف جریدے ’چارلی ایبڈو‘ کے صحافیوں کے قتل عام کی بھارت میں ہر طرف مذمت کی گئی ہے۔

مسلمانوں کی وفاقی تنظیم آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے پیرس میں دہشت گردوں کے ہاتھوں 12 افراد کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے: ’ہم پیرس کے جریدے کے دفتر پر ہونے والے بزدلانہ حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جس میں بارہ معصوم انسانوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسلام اور مسلم کسی بھی قومیت اور مذہب سے تعلق رکھنے والے معصوم انسانوں کے قتل کو مسترد کرتے ہیں۔صرف باضابطہ عدالتیں کسی کو سزا دینے کی مجاز ہیں اور صرف باضابطہ مسلم ریاست ہی جہاد کا اعلان کر سکتی ہے۔‘

تاہم مشاورت کے اسی بیان میں یہ بھی کہا کیا ہے کہ تمام مہذب معاشروں میں اظہار کی آزادی کا احترام کیا جانا چاہیے لیکن یہ آزادی ’تعمیری تنقید‘ تک محدود ہونی چاہیے اور اسے مختلف مذاہب کی کتابوں اور پیغمبروں وغیرہ کی اہانت کے لیے استعمال نہیں کی جانی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

بھارت میں پیرس جیسے تنازعے کا سامنا پہلی بار 1920 کے عشرے میں اس وقت ہوا جب غیر منقسم بھارت کے شہر لاہور میں ایک آریہ سماجی ہندو نے مسلمانوں کے پیغمبر اسلام کی ذاتی زندگی کےبارے میں ایک متنازع کتابچہ شا‏‏ئع کیا۔

پیغمبر اسلام پر لکھی جانے والی کتاب کے ناشر راج پال کو گرفتار کر لیا گیا اور ان کے خلاف مقدمہ چلا۔ اس وقت توہین مذہب کا کوئی قانوں نہیں تھا۔ کئی برس کی سماعت کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا۔ لیکن ایک مسلم نوجوان نے کتاب کے ناشر راج پال کو 1929 میں قتل کر دیا۔ قاتل کو اسی برس پھانسی کی سزا ہوئی۔ اس واقعے کے نتیجے میں تعزیرات ہند میں توہین مذہب کی دفعہ 295 اے شامل کی گئی۔

بھارت کے دو بڑے مذاہب ہندو اور اسلام کے پیروکار مذاہب اور مذہبی کرداروں پر لکھی جانے والی کتابوں فلموں اور فن پاروں پر پابندی عائد کرانے کے لیے اہانت مذہب کے اس قانون کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ پچھلے کچھ سالوں میں عدم روادی میں میں مزید شدت آئی ہے اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے گروپوں نے کئی بار پر تشدد احتجاج کے ذریعے کتابوں، فلموں اور نمائشوں پر بابندی لگوانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption رشدی کی کتاب پر بھارت میں پابندی لگائی گئی

برطانیہ کے معروف مصنف سلمان رشدی کی کتاب ’سیٹانک ورسز‘ پر مسلمانوں کے احتجاج اور دھمکیوں کے سبب بھارت میں 1988 میں پابندی عائد کی گئی تھی۔ دو برس قبل بعض مسلم تنظیموں کی دھمکی کے پیش نظر سلمان رشدی جے پور کے ادبی میلے میں شریک نہ ہو سکے۔

بھارت میں درجنوں کتابوں پر نام نہاد ’مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے‘ کے نام پرپابندی عائد ہے۔ ’ری ٹولڈ راما‘، ڈی این جھا کی کتاب ’دی میتھ آف دی ہولی کاؤ‘، وینڈی ڈونیجر کی ’دی ہندوز‘ اور ڈیسمنڈ ایسٹووارٹ کی ’ارلی اسلام‘ ان درجنوں ممنوعہ کتابوں میں شامل ہیں جنھیں بھارت میں پڑھنا جرم ہے۔

بنگلہ دیش کی مصنفہ تسلیمہ نسرین چند برس قبل کولکتہ میں مقیم تھیں وہاں مسلم انتہا پسندوں نے کولکتہ کی سڑکوں پران کے خلاف فساد برپا کر دیا جس کے نتیجے میں انھیں شہر چھوڑنا پڑا اور وہ کولکتہ واپس نہ جا سکیں۔ حیدرآباد میں ایک کتاب کے اجرا کے دوران وہاں کی دائیں بازو کی ایک سخت گیر مسلم جماعت کے کارکنوں نے تسلیمہ پر حملہ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایم ایف حسین نے خود اختیاری جلاوطنی کی حالت میں وفات پائی

ملک کے معروف مصورمقبول فدا حسین کے ذریعے تخلیق کردہ ہندو دیوی دیوتاؤں کے بعض فن پاروں کو بعض سخت گیر ہندو تنطیموں نے ہندوؤں کے دیوتاؤں کی توہین قرار دیا۔ فدا حسین کی پینٹنگز کی نمائشوں پر حملے کیے گئے اور وہ انتہا پسندوں کے حملے کے اندیشے سے اپنی سرزمین پر واپس نہ آ سکے اور غیر ملک میں آخری سانس لی۔

بھارت کا آئین ایک سیکولر، روادار اور اعتدال پسند معاشرے کا ضامن ہے۔ آئین میں اظہار کی آزادی کو فرد کے بنیادی حقوق کا سب سے اہم جز تصور کیا گیا ہے۔ اظہار کی آزادی انسان کا ایک آفاقی اور فطری حق ہے اور جمہوریت اوررواداری میں یقین رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ریاست اورمذہب اس انسانی حق کو سلب نہیں کر سکتا۔

پیرس میں چارلی ایبڈو کے صحافیوں کے بہیمانہ قتل عام کے بعد بھارت میں یہ سوال اور بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ کسی جمہوری معاشرے میں تمام دوسرے اداروں کی طرح کیا مذاہب اور مذہبی کرداروں کو بھی تنقید اور تضحیک کے دائرے میں نہیں لانا چاہیے؟

اسی بارے میں