کشمیر میں اقتدار کا ہما کس کے سر بیٹھے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption 87 رکنی اسمبلی میں سب سے بڑی طاقت مفتی محمد سعید کی جماعت ’پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی‘ ہے جس کے پاس 28 نشستیں ہیں

اس بار ریاست جموں کشمیر کے انتخابات کا نتیجہ غیر معمولی قسم کا ہے۔ 87 رکنی اسمبلی میں سب سے بڑی طاقت مفتی محمد سعید کی جماعت ’پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی‘ ہے جس کے پاس 28 نشستیں ہیں۔

سب سے چھوٹی جماعت، سات آزاد ارکان چھوڑ کر، کانگریس پارٹی ہے جسے صرف 12 سیٹیں ہی ملی ہیں۔ درمیان میں بھارتیہ جنتا پارٹی ہے جس کے 25 امیدوار کامیاب ہوئے جبکہ عمر عبداللہ کی نیشنل کانفرنس (این سی) کو 15 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔

میں اسے غیر معمولی اس لیے کہتا ہوں کیونکہ حکومت تشکیل دینے کے امکانات کئی ایک ہیں۔ 44 نشستوں پر مشتمل سادہ اکثریت کئی طرح سے ایک دوسرے کے ساتھ ملنے سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ اوّل بی جے پی اور پی ڈی پی کے ساتھ ملنے سے، دوئم بی جے پی، این سی اور چند آزاد ارکان کے ساتھ جبکہ پی ڈی پی، این سی اور بعض دیگر آزاد ارکان کے ساتھ مل کر یا پھر کانگریس کے ساتھ مل کر بھی حکومت تشکیل دی جا سکتی ہے۔

مذہبی خطوط پر تقسیم کے سبب ہمارے ریاستی انتخابات میں اتنے سارے متبادل کا ہونا کوئی عام سی بات نہیں ہے۔ لیکن حقیقت میں اتنے سارے متبادل ہیں نہیں اور پی ڈی پی اور این سی، جو وادی کی سب سے بڑي جماعتیں ہیں، ایک ساتھ نہیں آسکتے۔ یہ بی جے پی ہی کو فیصلہ کرنا ہوگا ہے کہ آخر اسے کس کے ساتھ اتحاد کرنا چاہیے، پی ڈی پی کے ساتھ یا پھر این سی کے ساتھ۔

ریاست میں سیاست کی فضا کچھ ایسی ہے کہ بی جے پی اور اور پی ڈی پی ایک دوسرے کے سخت ترین مخالف ہیں۔ وادی کشمیر کے مسلمانوں، جو بیشتر علحیدگی پسندی کے جذبے سے سرشار ہیں، کی نمائندگی پی ڈی پی کرتی ہے۔ بی جے پی جموں کے ہندوؤں اور اس قومی جذبے کی نمائندہ ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ بنا رہے۔ دونوں جماعتوں کے دو مختلف حلقے اور ووٹرز ہیں۔ پی ڈی پی کا کوئی بھی رکن اسمبلی ہندو نہیں ہے اسی طرح بی جے پی کا بھی کوئی ممبر مسلم نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption انتخابات کے نتیجے میں سامنے آنے والی جماعتوں میں پی ڈی پی کا کوئی بھی رکن اسمبلی ہندو نہیں ہے اسی طرح بی جے پی کا بھی کوئی ممبر مسلم نہیں ہے

عجیب بات یہ ہے کہ ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں کشمیر میں بی جے پی اتنی اچھوت نہیں ہے (اگرچہ وزیراعظم نریندر مودی کا پارٹی میں اتنا قد بڑھنے کے بعد ایسا نہیں رہا)۔

ریاست میں فی الوقت نئی حکومت کی تشکیل کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ہے اور تمام سیاسی جماعتیں بہتر سے بہتر معاہدے کے لیے اپنی کوششوں میں لگی ہیں۔

کانگریس پارٹی کے سرکردہ رہنما منی شنکر ائیر نے یہ تسلیم کیا ہے ’حساب کی مناسبت سے واضح طور پر ساتھ آنے کی جو بات ہے وہ بی جے پی اور پی ڈی کا اتحاد ہے۔ دونوں کے ایک ساتھ آنے سے 87 رکنی ایوان میں 53 نشستیں ہوں گی اور اس سے بظاہر ایک مستحکم اکثریت کی یقین دہانی ہوسکےگي۔‘

میں لفظ ’بظاہر‘ پر خاص طور پر زور دے رہاں ہوں کیونکہ یہ دونوں کے پروگرامز میں پائے جانے والے تضاد اور مذہبی اور علاقائی خطوط پر دونوں کے درمیان اختلافات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

منی شنکر مزید کہتے ہیں کہ ’تمام 25 نشستیں جو بی جے پی نے جیتی ہیں وہ جموں کی ہیں۔ کشمیر میں اس نے جن 36 نششستوں پر انتخاب لڑا اس میں سے 35 پر تو اس کے امیدواروں کی ضمانتیں تک ضبط ہوگئیں۔ پی ڈی پی کو البتہ جموں میں دو نشستیں حاصل ہوئیں لیکن 28 میں سے اس کے 26 ارکانِ اسمبلی کا تعلق وادئ کشمیر سے ہے۔ انتخابی مہم کے دوران دونوں کے درمیان ہونے والی تلخ بیان بازیاں اس بات کی غماز ہیں کہ جموں کشمیر میں حکومت کرنے کے حوالے سے دونوں کی سوچ میں بہت فرق ہے۔‘

ائیر کے خیال میں یہ بہت مشکل ہے کیونکہ ’بی جے پی تب اور پہلے بھی پی ڈی پی پر عسکریت پسندوں کے تئیں نرم گوشہ رکھنے اوراحتجاجی مظاہرین، جنہیں مجموعی طور پر ’سنگ باز‘ کہا جاتا ہے، کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کا الزام لگا چکی ہے۔‘

بی جے پی جموں اور ملک کے دیگر حصے میں اپنے آپ کو ایک ایسی مضبوط پارٹی کے طور پر پیش کرنا پسند کرتی ہے جو ریاست سے کسی بھی طرح اور کسی بھی قیمت پر انتہا پسندی اور دراندازی کو ختم کرنے کا عزم رکھتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بی جے پی ہی کو فیصلہ کرنا ہوگا ہے کہ آخر اسے کس کے ساتھ اتحاد کرنا چاہیے، پی ڈی پی کے ساتھ یا پھر این سی کے ساتھ

بی جے پی اگر جموں کشمیر میں اس معاملے میں نرم رویہ اپناتی ہے تو پھر آر ایس ایس جیسی ہندو نظریاتی تنظیمیں اس پر سخت نکتہ چینی کریں گی جس سے جموں سمیت ملک کے دیگر حصے میں بھی اس کی مقبولیت میں کمی آئے گی۔ اور اگر پی ڈی پی سخت اور سرد موقف اختیار کرتی ہے تو وادئ کشمیر میں اسے جو حمایت ملی ہے وہ اس کے ہاتھ سے فوری طور پر نکلنے کا خطرہ ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ پی ڈی پی، این سی اور کانگریس کے اشتراک سے بھی کوئی دیر پا اتحاد بن سکے گا۔

ریڈیف ڈاٹ کام کی شیلا بھٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق پی ڈی پی کے ساتھ بات چيت میں بی جے پی کی سب سے بڑی مشکل اس کا یہ مطالبہ ہے کہ وزیراعلیٰ ایک ہندو ہونا چاہیے۔ شیلا بھٹ کے مطابق تجربہ کار پی ڈی پی کے رہنما مفتی سعید نے بی جے پی رہنماؤں کو بتایا ہے کہ ’اگر میں آپ کے اس مطالبے کو تسلیم کرلوں کہ آپ کا آدمی سری نگر کی حکومت کی قیادت کرے گا تو وادئ کشمیر میں میں عوام کو منہ دکھانے لائق نہیں رہوں گا۔‘

اس پر بی جے پی کے رہنما نے جواب دیا کہ ’اگر میں آپ کے مطالبے کو تسلیم کرلوں تو پورے ملک میں منہ دکھانے کے لائق نہیں رہوں گا۔‘

اگر کسی کو مذہبی بنیادوں پر وزیراعلیٰ کے انتخاب پر اعتراض بھی ہو تو بھی اسے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بی جے پی کے پاس تو کوئی مسلمان چہرہ ہے ہی نہیں جسے وہ پیش کر سکیں۔ اگر اقتدار میں شراکت کی بات آئے اور باری باری سے وزیر اعلیٰ بننے کا معاہدہ ہو تو بھی بی جے پی کا وزیر اعلیٰ ہندو ہی ہوگا۔

میں نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی بری چيز ہے۔ میرے خیال سے دو سخت گیر جماعتوں میں اتحاد اچھی بات ہے اور اس سے دونوں پر ہی اعتدال پسندی کے اثرات مرتب ہوں گے۔

دو ہزار دو اور آٹھ کے درمیان (جموں کشمیر کی اسمبلی کی معیاد چھ برس ہے) پی ڈی پی نے کانگریس کے ساتھ ایسا ہی معاہدہ کیا تھا۔ پہلے تین برس تک مفتی سعید وزیراعلیٰ رہے تھے اور پھر تین برس تک اقتدار کی کمان کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد کے ہاتھ میں رہی تھی۔ پی ڈی پی کو اسی طرح کا معاہدہ پھر بی جے پی کے ساتھ کرنا چاہیے۔

اسی بارے میں