دہلی اسمبلی کے انتخابات سات فروری کو

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption انتخابات کے لیے نامزدگیاں داخل کرنے کا عمل 21جنوری تک پورا ہو جائے گا

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں 70 رکنی اسمبلی کے لیے انتخابات 7 فروری کو ایک مرحلے میں منقعد ہوں گے اور ووٹوں کی گنتی 10 فروری کو عمل میں آئےگی۔

بھارت کے چیف الیکشن کمشنر وی ایس سمپت نے ایک نیوز کانفرنس میں دہلی کے انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے لیے نامزدگیاں داخل کرنے کا عمل 21جنوری تک پورا ہو جائیگا اور نامزدگیان وا پس لینے کی آخری تاریخ 24 جنوری ہوگی ۔

دہلی میں مجوعی طور پر ایک کروڑ 30 لاکھ ووٹرز ہیں۔ ووٹ ڈالنے کا پورا عمل مشینوں کے ذریعے ہو گا اور اس میں کسی کو بھی ووٹ نہ دینے کا بٹن بھی شامل ہو گا۔

تقریباً ایک برس قبل ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی، کانگریس اور عام آدمی پارٹی، کسی کو بھی واضح اکثریت نہیں مل سکی تھی۔

عام آدمی پارٹی نے کانگریس کی حمایت سے اروند کیجریوال کی قیادت میں حکومت تشکیل دی تھی لیکن 49 دنوں کے اقتدار کے بعد کیجریوال نے وزیر اعلی کے عہدے سے استعفی دے دیا۔

ان کے مستعفی ہونے کے بعد دہلی میں کسی کی حکومت نہیں بن سکی اور چند مہینے قبل ریاست میں صدر راج نافذ کر دیا گیا۔ 4 نومبر کو دہلی اسمبلی تحلیل کر دی گئی تھی۔

دہلی میں انتخابات کی تاریخوں کے اعلان سے قبل ہی بی جے پی اور عام آدمی پارٹی نے انتخابی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے گذشتہ اتوار کو دہلی کے رام لیلا میدان میں ایک ریلی سے خطاب کے ساتھ اپنی پارٹی کی انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ اطلاع کے مطابق وہ کئی حلقوں میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے ۔

دونوں جماعتوں نے متعدد امیدواروں کا بھی اعلان کر رکھا ہے ۔

عام آدمی پارٹی کے مستقبل کا بہت کچھ دارو مدار دہلی کے انتخابات پر منحصر ہے ۔ پارٹی اسمبلی انتخابات کو بہت سنجیدگی سے لے رہی ہے ۔ ریاست میں کانگریس کے کمزور ہونے کے سبب وہ اپنی حمایت بڑھنے کی توقع کر رہی ہے ۔ دہلی کے انتخابات میں اصل مقابلہ عام آدمی پارٹی اور بے جے پی کے درمیان ہونے کی توقع ہے ۔

عام آدمی پارٹی یعنی آپ پارٹی اک نئی پارٹی ہے اور اس کے لیے دہلی کے انتخاب جیتنا بہت ضروری ہے ۔ اگر وہ یہ انتخاب جیت جاتی تو وہ رفتہ رفتہ قومی سیاست میں بی جے پی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھر سکتی ہے لیکن اگر دہلی اسمبلی کے انتخابات میں اس کی واضح طور پر شکست ہوتی ہے تو وہ ملک کی سیاست میں پس منظر میں جا سکتی ہے۔

دوسری جانب کانگریس میں لوک سبھا کے انتخابات میں شرمناک شکست کے بعد ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ پارٹی نے اپنے ایک قدرے نوجوان رہنما اجے ماکن کو انتخابی کمیٹی کا سربراہ بنا کر انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے لیکن کسی بڑے اور ممتاز رہنما کی عدم موجودگی کے سبب اس کی انتخابی مہم پہلے سے ہی کمزور نظر آتی ہے ۔

بی جے اور آپ پارٹی کے پوسٹرز اور بینرز شہر میں نطر آنے لگے ہیں اور ریڈیو پر دونوں جماعتوں کے درمیان اشتہاروں کا زبردست ٹکرواؤ چل رہا ہے ۔

اسی بارے میں