بگرام کی اذیت کے زخم نہیں بھرتے

بگرام کے قیدی
،تصویر کا کیپشن

نیاز گل اور سردار خان پوچھتے ہیں کہ ان پر اذیت کا کون ذمہ دار ہے

دسمبر میں امریکی سینیٹ نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی طرف سے مختلف حراستی مراکز میں تفتیش کے دوران القاعدہ کے مشتبہ قیدیوں کو جسمانی اور ذہنی اذیت دینے کے طریقے استعمال کرنے کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کی تھی۔ ان مراکز میں سے ایک افغانستان میں بگرام ایئر بیس بھی تھا۔ بی بی سی کے سنجوئے مجمدر نے بگرام کے دو سابق قیدیوں سے بات کی ہے۔

میں نیاز گل اور سردار خان سے کابل کے نواحی علاقے وزیر اکبر خان کے ایک پارک میں سردیوں کی ایک صبح ملا۔ یہ ایک خاموش، الگ تھلگ سا علاقہ ہے اور یہاں دور دور تک کوئی نہیں ہے۔

یہ لوگ مشرقی صوبے کنڑ سے رات بھر سفر کر کے یہاں پہنچے ہیں۔ ان دونوں کا تعلق بھی کنڑ سے ہی ہے۔ دونوں کی عمریں 35 کے قریب ہیں لیکن یہ اس سے کہیں بوڑھے نظر آئے۔ انھیں چار سال قبل کابل کے شمال میں واقع بگرام جیل سے رہا کیا گیا تھا۔

سبز چائے پیتے ہوئے انھوں نے مجھے اپنی کہانی سنائی۔

نیاز گل نے کہا کہ ’میں سو رہا تھا۔ آدھی رات گزر چکی تھی جب امریکی فوجیوں کا ایک گروہ میرے گھر میں داخل ہوا۔‘

انھیں اپنے والد اور بھائی کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا۔

’ہمارے ہاتھ پیٹھ پیچھے باندھ دیے گئے اور ہمیں باہر کھڑی ایک گاڑی میں بٹھا دیا گیا۔ ہمیں ایک فوجی کیمپ لے گئے جہاں سے بگرام کے اڈے پر جہاز میں لے جایا گیا۔‘

سردار خان کو بھی امریکی فوجیوں نے رات گئے ان کے گھر سے اٹھایا تھا۔

انھوں نے اپنا ماتھا دکھاتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے میرا سر دیوار کے ساتھ مار دیا۔ مجھے جب گاڑی میں دھکیلا گیا تو میرا خون نکل رہا تھا۔‘

الزامات ثابت نہیں ہوئے

کنڑ صوبہ پاکستان کی سرحد کے ساتھ واقع ہے جہاں طالبان اور القاعدہ کے جنگجو بہت متحرک ہیں اور یہاں اتحادی فوج اور باغیوں کے درمیان اکثر لڑائی ہوتی رہتی ہے۔

سردار کہتے ہیں کہ ’انھوں نے مجھ پر نیٹو فوجیوں پر فائرنگ کرنے کا الزام لگایا۔ وہ درست نہیں تھا اور غلط اطلاع پر مبنی تھا۔‘

،تصویر کا کیپشن

بگرام کا حراستی مرکز امریکی فوجیوں کے کنٹرول میں افغانستان کا سب سے بڑا حراستی مرکز تھا

انھیں بگرام کے اڈے پر لے جایا گیا جہاں انھوں نے اگلے 18 ماہ گزارے۔

’وہ مجھ پر کبھی بھی الزامات ثابت نہیں کر سکے سو آخر کار مجھے رہا کرنا پڑا۔‘

کابل کے شمال میں واقع بگرام کا ہوائی اڈہ کچھ عرصے تک امریکی فوجیوں کا اڈہ تھا جہاں انھوں نے افغانستان کا سب سے بڑا حراستی مرکز بنایا تھا۔

بگرام کے دوسرے قیدیوں کی طرح ان دونوں کو بھی کبھی کبھار چھوٹے الگ تھلگ کمروں میں رکھا جاتا اور کبھی ان کو دوسرے قیدیوں سے بھرے لوہے کے پنجروں میں رکھا جاتا۔

سردار کہتے ہیں کہ ان سے کئی مرتبہ تفتیش کی گئی۔

نیاز کہتے ہیں کہ ’جب ہم سونا چاہتے تو وہ اونچی آواز میں موسیقی لگا دیتے۔ انھوں نے ہمیں آرام کرنے نہیں دیا۔‘

’ہمیں ایک چھوٹی سی جگہ پر رکھا گیا تھا۔ ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ اب دن ہے کہ رات۔ وہ ہمیں ٹوائلٹ بھی استعمال نہیں کرنے دیتے تھے اور بہت سے قیدی اپنے کپڑوں میں ہی پیشاب کر دیتے تھے۔‘

کبھی کبھار قیدیوں کو بہت گرم یا بہت ٹھنڈے پانی میں غسل کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا۔

ذہنی اذیت

نیاز کہتے ہیں کہ ’ہمیں سزا دینے کے لیے وہ ہمیں ایک کمرے میں بند کرنے کے بعد ایئر کنڈیشنر چلا دیتے اور کمبل لے جاتے۔ ہم ٹھنڈ میں جم جاتے۔‘

نیاز گل نے بگرام میں 22 مہینے گزارے جس کے بعد انھیں معصوم قرار دے کر رہا کر دیا گیا۔ لیکن اس کے بعد ان کے لیے زندگی آسان نہ ہو سکی۔ دونوں کا کہنا ہے کہ وہ ذہنی اذیت میں مبتلا رہتے ہیں اور ان کو اکثر سر میں درد رہتا ہے۔

نیاز کہتے ہیں کہ ’اب مجھے بڑی آسانی کے ساتھ خاندان کے افراد اور دوسرے لوگوں پر غصہ آ جاتا ہے۔ میری پوری زندگی اتھل پتھل ہو چکی ہے۔‘

میرے ساتھ گفتگو کے بعد نیاز اور سردار نے میرے ساتھ مصاحفہ کیا اور افغان روایت کے مطابق گلے لگایا۔ اس کے بعد وہ چلے گئے۔

دونوں نے تقریباً دو دو سال قید میں گزارے ہیں۔ اب وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ انھیں کیوں گرفتار کیا گیا اور ان پر کیے گئے مظالم کا کون ذمہ دار ہے۔