بنگلہ دیش بس پر حملے میں چار افراد جل کر ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ focus bangla
Image caption بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی سربراہ خالدہ ضیا کو گذشتہ ہفتے ملک میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد ان کے دفتر میں نظر بند کر دیا تھا

بنگلہ دیش میں ایک بس پر ہونے والے حملے میں چار افراد ہلاک جبکہ حزبِ اختلاف کی رہنما خالدہ ضیا کے سینئیر مشیر قاتلانہ حملے میں بچ گئے ہیں۔

بنگلہ دیش کے شمالی قصبے میں بس پر یہ حملہ اس وقت ہوا جب حزبِ مخالف کے کارکنوں نے زبردستی ٹرانسپورٹ بلاک کرنے کی کوشش کی۔

بنگلہ دیش میں انتخابات کا ایک سال مکمل ہونے کے بعد یہ سب سے مہلک حملہ ہے۔

امریکہ نے بنگلہ دیش میں بس پر کیے جانے والے حملے کو ’ شرمناک اور بزدلانہ‘ قرار دیا ہے۔

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں فریقین سے تحمل کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

بیان میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ شہریوں کے پرامن سیاسی اظہار کے حق کو یقینی بنائے۔

ببگلہ دیش میں برطانوی ہائی کمشنر رابرٹ گبسن نے بھی تشدد کے خاتمے اور مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات پر زور دیا ہے۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی سربراہ خالدہ ضیا کو گذشتہ ہفتے ملک میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد ان کے دفتر میں نظر بند کر دیا تھا۔

سکیورٹی فورسز نے حزبِ اختلاف کی رہنما خالدہ ضیا کو ان کی پارٹی کے دفترسے نکلنے سے روک دیا تھا اور دارالحکومت میں تمام احتجاجی مظاہروں پر پابندی لگا دی تھی۔

بنگلہ دیش کے شمالی قصبے میتھاپوکر کے پولیس سربراہ ربیع عالم کا کہنا ہے کہ بس پر اس وقت بم حملہ کیا گیا جب وہ دارالحکومت کی جانب جا رہی تھی۔

انھوں نے اس حملے کا الزام اسلامی جماعت، جماعتِ اسلامی کے کارکنوں پر عائد کیا جو بنگلہ دیش کی نیشنلسٹ پارٹی کی اتحادی بھی ہے۔

انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بس پر کیے جانے والے حملے میں کم سے کم 14 افراد جل گئے اور چار افراد ہلاک ہوئے۔

ربیع عالم کا مزید کہنا تھا کہ جماعتِ اسلامی سے تعلق رکھنے والے آٹھ کارکنوں کو اس حوالے سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ادھر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے حملے میں اپنے کسی بھی اتحادی کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

دوسری جانب دارالحکومت ڈھاکہ میں پولیس نے سابق وزیرِ مملکت برائے خارجہ امور ریاض رحمان کے شدید زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

یاد رہے کہ نامعلوم حملہ آوروں نے منگل کو ریاض رحمان کو گولیاں مار دیں تھیں۔

ڈھاکہ پولیس کے ایک انسپیکٹر رفیع اسلام نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے ریاض رحمان کو قریب سے چار گولیاں ماریں تاہم اب ان کی حالت پہلے سے بہتر ہے۔

اسی بارے میں