دلی میں ایک اور چرچ پر حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حالیہ ہفتوں عیسائیوں کی متعد عبادت گاہوں اور اداروں کو حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

بھارت کے دارالحکومت دلی میں بدھ کی صبح عیسائیوں کی ایک عبادت گاہ کو بعض نامعلوم افراد نے نقصان پہنچایا ہے۔ حملہ آروں نے مغربی دلی کے ایک چرچ کے دروازے پر نصب حضرت مریم کے مجسمے کو توڑ کر گرا دیا ۔حالیہ ہفتوں میں دلی میں چرچ پر حملے کا یہ چوتھا واقعہ ہے ۔ عیسائی برادری نے اس حملے کو سازش قرار دیا ہے ۔

آج کا حملہ دلی کے وکاس پوری علاقے میں واقع ’ لیڈی آف گریسیز‘ چرچ پر کیا گیا ۔ چرچ کے دروازے پر نصب ایک سی سی ٹی وی کیمرے کی ریکارڈنگ میں صبح سوا چار بجے ایک حملہ آور کو مجسمے کے شیشے توڑے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔ کچھ ہی دیر بعد وہ اپنے ایک ساتھی کے ساتھ وہاں پہنچتا ہے اور مجسمے کو زمین پر گرا دیتا ہے ۔ کیمرے کی ریکارڈنگ میں حملہ آوروں کے چہرے قابل شناخت ہیں ۔

پولیس سی سی ٹی وی کیمرے کی ریکارڈنگ کا جائزہ لے رہی ہے اور حملہ آورووں کو شناخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ابھی تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے ۔

چرچ کے ترجمان فادر ’سواری موتھو شنکر‘ نے اس حملے پر گہری تشویش اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ کیمرے کی ریکارڈنگ کی مدد سے حملہ آوروں کو پکڑا جا سکے گا ’ان کو پکڑنے سے اتنا تو پتہ چل سکے گا کہ انھوں نے یہ حملہ اپنے طور پر کیا تھا کہ یا اس کے پیچھے کسی اور کا ہاتھ ہے ۔‘

خیال رہے کہ گزشتہ سوا مہینے میں دلی میں چرچ پر حملے کا یہ چوتھا واقعہ ہے ۔ تقریباً ایک مہینے قبل مشرقی دلی کے دلشاد گارڈں علاقے میں ’سینٹ سیبیسٹین‘ چرچ پراسرار طور پر جل کر خاکستر ہو گیا تھا ۔ عیسائیوں کو شک ہے کہ اس میں ہندو اتنہا پسندوں کا ہاتھ تھا ۔تاہم پولیس ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ہے ۔

اس واقعے کے خلاف عیسائیون نے دلی پولیس کے صدر دفاتر کے باہر احتجاج کیا تھا۔

آج کا حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب حکمران جماعت بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ کئی ہندو تنظمیوں نے ملک کے کئی علاقوں میں عیسائیوں اور مسلمانوں کو ہندو بنانے کی مہم چھیڑ رکھی ہے ۔

حالیہ مہینوں میں ملک کی کئی ریاستوں بالخصوص بی جے پی کے اقتدار والی ریاستیں مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ اور سماجوادی پارٹی کے اقتدار والی ریاست اتر پردیش میں عیسائیوں کی عبادت گاہوں اور اداروں کو حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ۔

دلی کی ایک عیسائی خاتون ن نے ان حملوں کی گہرائی سے تفتیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’چالیس دن میں دلی میں چار چرچوں کو نشانہ بنایا گيا ہے ۔ یہ حملے کسی منطم سازش کے تحت کیے جا رہے ہیں ۔‘

حز ب اختلاف کی جماعتوں نے بھی ان واقعات پر تشویش ظاہر کی ہے اور وویر اعظم نریندر مودی پر زور دیا ہے کہ وہ ان واقعات پر قابو پائیں ۔

اسی بارے میں