اطالوی فوجی کو سپریم کورٹ سے مزید مہلت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لتوری کے دل کا ایک آپریشن ہوا ہے

بھارتی سپریم کورٹ نے ہندوستانی ماہی گیروں کے قتل کے مقدمے کے ملزم اطالوی فوجی کو خراب صحت کے پیش نظر مزید تین ماہ تک اٹلی میں رہنے کی اجازت دے دی۔

اطالوی فوجی میسیمیلیانو لتوری پر سنہ 2012 میں دو ہندوستانی ماہی گیروں کے قتل کا الزام ہے۔

لتوری نے گذشتہ ہفتے پانچ جنوری کو دل کے ایک آپریشن کے بعد علاج میں دی جانے والی مہلت میں توسیع کے لیے درخواست دی تھی۔

اس سے قبل دسمبر میں عدالت نے انھیں مزید مہلت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

لتوری اور ان کے ساتھ فوجی سلواتوری گیرونی پر دو بھارتی ماہی گیروں کے قتل کا الزام ہے اور دونوں کی ضمانت پر رہائي کی عرضی عدالت میں شنوائی کے لیے پڑی ہے۔

لتوری کو ستمبر کے مہینے میں علاج کے لیے چار مہینے کے لیے اپنے ملک اٹلی جانے کی اجازت ملی تھی۔

یہ فوجی بھارت کے جنوبی ساحل کیرالہ میں اٹلی کے ایک تیل بردار جہاز کی نگرانی پر مامور تھے جب انھوں فائرنگ کی جس میں دو لوگ ہلاک ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ان میں سے ایک فوجی کو صحت کی بنیاد پر اٹلی جانے کی اجازت دی گئي تھی

فوجیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان ماہی گیروں کو بحری قزاق سمجھ کر ان پر فائرنگ کی تھی۔

بھارت نے سزائے موت کو خارج کر دیا ہے جبکہ ان کے خلاف قزاقی کے خلاف قانون کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

اٹلی کا ہمیشہ سے یہ کہنا رہا ہے کہ چونکہ یہ واقعہ بین الاقوامی سمندر میں ہوا ہے اس لیے اس سلسلے کی عدالتی کارروائی اٹلی میں ہونی چاہیے۔

اسی معاملے پر گذشتہ سال دہلی اور روم کے درمیان سفارتی تلخی در آئی تھی جب اٹلی نے ان فوجیوں کو بھارت بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ انھیں فروری سنہ 2013 میں اپنے ملک کے انتخابات میں ووٹ دینے کے لیے وہاں جانے دیا گیا تھا۔

یہ فوجی ایک ماہ بعد بھارت بھیجے گئے اور عدالت نے ان کے ‏خلاف متنازع حکم واپس لے لیا۔

اسی بارے میں