پی آئی اے کی ’جائیداد غیرقانونی‘ قرار، ’نوٹس کا جواب دے دیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارتی اخبار دا ہندو کے مطابق اینفورسمینٹ ڈائریکٹوریٹ نے پی آئی اے کو نوٹس دیا ہے جس میں پی آئی اے کے دفتر کے لیے خریدی گئی جائیداد کو ’غیر قانونی‘ قرار دیا ہے

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے دفاتر کے لیے خریدی گئی زمین کو غیر قانونی قرار دینے کے معاملے پر پاکستان نے پی آئی اے سے کہا ہے کہ وہ قانونی طریقہ اختیار کرے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پی آئی اے کو کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے دفاتر کے لیے خریدی گئی زمین کو غیر قانونی قرار دینے کے معاملے پر قانونی طریقہ اختیار کرے۔

ترجمان نے بتایا کہ بھارتی حکام کو نئی دہلی میں پی آئی اے کے آفس کو اپنی املاک سے متعلق ملنے والے نوٹس کے بارے میں بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ دفترِ خارجہ نے بیان میں مزید کہا ہے کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ دہلی میں تعینات پی آئی اے کے ملازمین کے ویزوں کی توسیع کا معاملہ اٹھایا ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان نے بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ یہ مسئلہ جلد حل کرلیا جائے گا۔ بھارتی اخبار دا ہندو کے مطابق اینفورسمینٹ ڈائریکٹوریٹ نے پی آئی اے کو نوٹس دیا ہے جس میں پی آئی اے کے دفتر کے لیے خریدی گئی جائیداد کو ’غیر قانونی‘ قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان صرف پی آئی اے ہی آپریٹ کرتی ہے۔

اینفورسمینٹ ڈائریکٹوریٹ کے مطابق پی آئی اے نے یہ جگہ ریزرو بینک آف انڈیا کے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق حاصل نہیں کی ہے۔

تاہم دا ہندو سے بات کرتے ہوئے پی آئی اے کے شمالی بھارت میں آپریشنز کے مینیجر سعید احمد خان نے کہا کہ 2005 میں دہلی میں کنوٹ پلیس میں دفتر کے لیے لی جانے والی چار جگہوں کی کلیئرنس دے دی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی جگہ سے پی آئی اے تقریباً ایک دہائی سے کام کر رہا ہے۔

’یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ بھارت اب یہ قدم کیوں اٹھا رہا ہے۔ ہم دفتر کے بغیر کیسے آپریشنز جاری رکھیں گے۔‘

دا ہندو کے مطابق یہ معاملہ گذشتہ دو ماہ سے چل رہا ہے لیکن حل نہیں ہو سکا ہے۔

دا ہندو کے مطابق پی آئی اے نے جمعہ کو اینفورسمینٹ ڈائریکٹوریٹ کے نوٹس کا باضابطہ جواب دیتے ہوئے ریزرو بینک آف انڈیا سے کہا ہے کہ یہ نوٹس ’فوری طور پر واپس‘ لے۔

نوٹس کے جواب میں پی آئی اے نے کہا ہے کہ یہ نوٹس اس کے آپریشنز کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔

نوٹس کے جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا کو جائیداد کی خریداری کی اطلاع 20 جون 2005 کو ’آئی پی آئی فارم‘ کے ذریعے دے دی گئی تھی۔

اسی بارے میں