منیلا میں پوپ کے استقبال کے لیے لاکھوں افراد جمع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پوپ فلپائن میں پورے دن رہیں گے جہاں ان کے ایشیا کے چھ روزہ دورے کا اختتام ہوگا

فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں پوپ فرانسس کی دعائیہ تقریب میں شرکت کے لیے لاکھوں افراد جمع ہیں۔

لاکھوں افراد اتوار کی صبح دعائیہ تقریب میں شرکت کے لیے منیلا کے ریزل پارک میں اکٹھا ہوئے جبکہ دعائیہ تقریب کا آغاز کچھ دیر کے بعد ہو گا۔

اندازوں کے مطابق اس دعائیہ تقریب کے شروع ہونے سے دو گھنٹے قبل 30 لاکھ افراد اکھٹے ہو چکے تھے۔

خیال رہے کہ 20 سال قبل جب پوپ جان پول دوئم نے یہاں دعائيہ تقریب میں شرکت کی تھی تو اس وقت 50 لاکھ افراد یہاں اکٹھا ہوئے تھے۔

ویٹیکن نے کہا ہے کہ پوپ فرانسس اس دعائیہ تقریب کو سنہ 2013 میں آنے والے طوفان میں ہلاک ہونے والوں کے نام منسوب کریں گے۔

سنہ 2013 میں آنے والے طوفان نے ملک میں زبردست پیمانے پر تباہی پھیلائی تھی۔

پوپ فلپائن میں پورے دن رہیں گے جہاں ان کے ایشیا کے چھ روزہ دورے کا اختتام ہوگا۔

واضح رہے کہ فلپائن میں تقریبا آٹھ کروڑ کیتھولک مسلک کے ماننے والے عیسائی رہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption منیلا میں پوپ کے دیدار کے لیے ہزاروں افراد نظر آ رہے ہیں

منیلا کی دعائیہ تقریب میں شامل ایک برنی نکاریو نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’ہم لوگ پوپ کے عقیدت مند ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’پوپ خدا کے آلہ کار ہیں اور اگر آپ ان سے بات کر لیتے ہیں تو یہ ایسا ہے جیسے آپ نے خدا سے بات کر لی۔‘

اس عوامی دعائیہ تقریب سے قبل پوپ نے صبح میں سینٹو ٹوماز یونیورسٹی میں مذہبی رہنماؤں اور نوجوانوں سے ملاقات کی۔

سینٹو ٹوماز یونیورسٹی ایشیا میں کیتھولک مسلک کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پوپ فرانسس نے یونیورسٹی میں 20 ہزار طلبہ سے ملاقات کی

پوپ فرانسس نے یونیورسٹی میں 20 ہزار طلبہ سے ملاقات کی اور اس 27 سالہ خاتون کو یاد کیا جو تکلوبان میں ان کے دورے کے دوران ہلاک ہو گئیں تھیں۔

اس کے بعد پوپ نے بہت سے بچوں کی باتیں سنیں جبکہ ایک لڑکی اپنی کہانی سناتے ہوئے رو پڑی۔

سنیچر کو پوپ نے طوفان سے متاثرہ علاقے کا بھی دورہ کیا۔

انھوں نے کہا جب انھیں طوفان کی تباہ کاریوں کا علم ہوا تو انھوں نے اسی وقت وہاں جانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

اسی بارے میں