افغانستان میں کابینہ کی تشکیل میں مزید مشکلات

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ’نامزد وزیر خزانہ نے صدر اشرف غنی سے اختلافات کے باعث عہدہ قبول کرنے سے انکار کیا‘

افغانستان کے صدر اشرف غنی کی کابینہ میں وزاتِ خزانہ کے لیے نامزد وزیر کی جانب سے انکار کے بعد کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق نامزد وزیر غلام جیلانی پوپل نے ذاتی وجوہات کی بنا پر ذمہ داری ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

صدر اشرف غنی کے عہدہ صدارت سنبھالنے کے چار ماہ بعد بھی کئی وزارتیں بغیر کسی سربراہ کے ہیں۔

صدر اشرف غنی کے پہلے سو دن

اس کے علاوہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ 25 رکنی کابینہ کے لیے نامزد 11 افراد کے پاس دوہری شہریت ہو سکتی ہے اور اگر ایسا ہوا تو وہ ملک کے قانون کے تحت وزارتِ کا عہدہ نہیں سنبھال سکتے ہیں۔

ایک سرکاری اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ غلام جیلانی پوپل نے افغان صدر سے کئی معاملات پر اختلافات کی وجہ سے وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالنےسے انکار کیا۔

صدارتی محل کی جانب غلام جیلانی کی ذاتی مصروفیات کی وجہ سے عہدہ سنبھالنے سے انکار کے بیان کے برعکس سرکاری اہلکار کا کہنا ہے کہ غلام جیلانی مقامی حکومتوں کے ایک خودمختار عہدے کے خواہش مند تھے۔

غلام جیلانی پوپل کے انکار کے بعد اب توقع ہے کہ اس وقت امریکہ میں افغانستان کے سفیر اکلیل احمد حکیمی کو وزیر خزانہ کے طور پر نامزد کیا جائے گا۔

کابینہ کی تشکیل میں مسائل سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک میں اقتدار کی شراکت کے فارمولے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے جس میں گذشتہ سال کے صدارتی انتخابات میں صدر اشرف غنی کے مدمقابل امیدوار عبداللہ عبداللہ کے پاس اس وقت ملک کے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ ہے۔

اہم وزارتوں کو پُر نہ کیے جانے کی وجہ سے معیشت متاثر ہو رہی ہے جبکہ ملک سے نیٹو افواج کے بعد طالبان کے خلاف کارروائیوں کی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

اس کے علاوہ دوہری شہریت کے معاملہ بھی افغان صدر کے لیے باعث تشویش ہے کیونکہ 25 رکنی کابینہ نے جمعے کو پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ لینا ہے۔

وزیروں کے ناموں کے لیے قائم کمیٹی کے رکن عبدل قادر زازئی کے مطابق غلام قادر جیلانی پوپل سمیت 11 ممکنہ وزیروں کے پاس دوہری شہریت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صدارتی انتخابات میں صدر غنی کے مدمقابل امیدوار اس وقت ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں

ایک دن پہلے اتوار کو افغان صدر اشرف غنی کی مشکلات میں اس وقت اضافہ ہوا جب کابینہ میں وزیر زراعت کا نام انٹرپول کی ’موسٹ وانٹڈ‘ فہرست میں شامل ہونے کا انکشاف ہوا۔

انٹرپول کی ویب سائٹ کے مطابق محمد یعقوب حیدری ایسٹونیا میں سنہ 2003 میں وسیع پیمانے پر ٹیکس چوری کرنے کے الزام میں مطلوب ہیں۔

اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد ایوان صدر کے ایک ترجمان نے بتایا کہ حکومت اس بات سے لاعلم تھی کہ یعقوب حیدری کو کسی قسم کا قانونی مسئلہ درپیش ہے لیکن اب اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

یعقوب حیدری کا کہنا ہے کہ وہ اس فہرست میں ضرور ہیں تاہم وہ سیاسی سازش کا شکار ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں