چین کا ایک بینک جو تھا ہی نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پولیس نے اس سکینڈل میں ایک خاتون سمیت پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے

چین میں ایک ایسے جعلی بینک کا معلوم ہوا ہے جہاں لوگوں کے نہ صرف اکاؤنٹس تھے بلکہ شہری تین کروڑ 20 لاکھ ڈالر جمع بھی کرا چکے تھے۔

سدرن میٹروپول ڈیلی ویب سائٹ کے مطابق یہ بینک مشرقی شہر نانجنگ میں قائم کیا گیا تھا۔

ویب سائٹ کے مطابق یہ دیکھنے میں بالکل کسی اصلی سرکاری بینک کی طرح تھا جس میں کاؤنٹرز پر یونیفام میں عملہ کام کرتا تھا۔

اس جعلی بینک میں دو سو افراد نے اپنے اکاؤنٹس بھی کھول رکھے تھے جن میں صرف ایک کاروباری شخصیت 19 لاکھ ڈالر جمع کرائے تھے۔

اس بینک کے مشکوک ہونے کے بارے میں اس وقت معلوم ہوا جب اس کاروباری شخص کو وعدے کے مطابق اکاؤنٹ پر منافع ادا نہیں کیا گیا۔

اس شخص نے بینک کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کرنے کے بارے میں پولیس کو آگاہ کیا۔

پولیس کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ایک دیہی کوآپریٹو ادارہ ہے اور اس کے پاس بینک کھولنے کے لیے درکار مطلوبہ اجازت نامہ نہیں ہے۔

پولیس کے مطابق جعلی بینک نے سرکاری بینکوں سے زیادہ منافعے کا اعلان کر رکھا تھا اور یہ ایک سال تک کام کرتا رہا ہے۔

پولیس نے اس سکینڈل میں ایک خاتون سمیت پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے۔اس خاتون کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق جوئے کے لیے مشہور شہر میکاؤ سے ہے۔

بینک کے سکینڈل پر چین میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ویبو پر حکام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ’ایک سال تک، ایسا لگتا ہے کہ حکام اندھے ہو گئے ہیں۔‘

ایک دوسرے صارف نے لکھا:’جعلی بینک اور جعلی مقامی حکومت۔‘