’۔۔ مگر صاحب نے بلایا ہی نہیں‘

Image caption مشیل اور براک اوباما کے ساتھ مودی کو دیکھ کر انھوں نے کہا، ’مجھے معلوم ہے کہ جب اوباما کا استقبال ہو رہا تھا تب مجھے بھی دہلی میں ہونا چاہیے تھا لیکن صاحب (مودی) ایسا نہیں چاہتے۔

جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی امریکی صدر براک اوباما ان کی اہلیہ مشیل اوباما کا استقبال کر رہے تھے، تب جشودا بین اپنی صبح کی پوجا میں مشغول تھیں۔

وہی جانیں کہ خدا سے انھوں نے کیا دعا کی۔

جشودا بین سرخ و سنہری ساڑھی پہن کر خوب طرح تیار ہوئی تھیں، لیکن اوباما کے استقبال میں جانے کے لیے نہیں بلکہ شمالی گجرات کے اپنے گاؤں برہمواڑي سے 120 کلومیٹر دور ایک شادی میں جانے کے لیے۔

ان کے بھتیجے نے ٹی وی آن کیا تو اوبامہ کے استقبال کی براہ راست نشریات جاری تھی۔ کچھ دیر انھوں نے اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کی لیکن پھر اپنے شوہر کو غور سے دیکھنے لگیں۔

مشیل اور براک اوباما کے ساتھ مودی کو دیکھ کر انھوں نے کہا، ’مجھے پتہ ہے کہ جب اوباما کا استقبال ہو رہا تھا تب مجھے بھی دہلی میں ہونا چاہیے تھا لیکن صاحب (مودی) ایسا نہیں چاہتے، اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جشودا بین کو سکیورٹی سے سخت شکایت ہے

جشودابین نے کہا: ’اگر وہ مجھے آج بلائیں گے تو میں کل پہنچ جاؤں گی، لیکن میں پہلے کبھی نہیں جاؤں گی، انھیں مجھے بلانا ہوگا۔ یہ میری عزت نفس کا معاملہ ہے جس سے میں پیچھے نہیں ہٹوں گي، ہم دونوں کے درمیان مرتبے یا حیثیت کی کوئی بات نہیں ہے، ہم دونوں انسان ہیں۔‘

میرے سوالات کے درمیان جشودابین اپنی بھابھی سے پوچھ رہی تھیں کہ ان کی ساڑھی کے ساتھ کون سے زیورات اچھے لگیں گے۔

جشودابین بولیں: ’میں شکر گزار ہوں کہ انھوں نے گذشتہ سال مجھے اپنی بیوی تسلیم کر لیا۔ میں حکومت سے مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ مجھے میرا حق دے جس کی میں حقدار ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ انھوں نے ملک کے لیے اپنی ازدواجی زندگی کو قربان کیا، اگر میں ان کے ساتھ ہوتی تو وہ شاید اتنا کچھ نہیں کر پاتے، میرے دل میں کوئی کڑواہٹ نہیں ہے۔‘

عام انتخابات سے ٹھیک پہلے مودی نے جسودابین کو اپنی بیوی تسلیم کیا تھا۔

Image caption جشودا بین اب ریٹائر ہو چکی ہیں

جشودابین کا کہنا تھا: ’جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تب انھوں نے تسلیم نہیں کیا کہ میں ان کی بیوی ہوں۔ میں جب کہتی تھی کہ میں مودی کی بیوی ہوں تو بی جے پی کے لوگ مجھے جھوٹا کہتے تھے۔‘

جشودابین کی شادی نریندر مودی سے 17 سال کی عمر میں 1968 میں ہوئی تھی۔ وہ ریٹائرڈ سکول ٹیچر ہیں اور 14 ہزار روپے کی پنشن پرگزارا کرتی ہیں۔

’شادی کے بعد وہ میرے ساتھ چند ماہ تک رہے، وہ صبح آٹھ بجے چلے جاتے تھے اور شام کو دیر سےگھر آتے تھے۔ ایک بار وہ گئے تو پھر نہیں آئے، میں اپنی سسرال میں تین سال تک رہی جس کے بعد مجھے لگا کہ اب وہ میرے پاس نہیں آئیں گے، پھر میں پڑھائی کر کے ٹیچر بن گئی۔‘

مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد گجرات حکومت نے ان کے گھر کے باہر چار کمانڈوز تعینات کر دیے ہیں۔ وہ سائے کی طرح ان کے ساتھ چلتے ہیں، یہاں تک کہ حال ہی میں ان کے ساتھ وہ ممبئی بھی گئے تھے.

تصویر کے کاپی رائٹ deepa epa
Image caption ان کی نریندر مودی سے سنہ 1968 میں شادی ہوئي تھی

جشودابین نے حقِ اطلاعات کے تحت دو بار درخواست کی ہے کہ انھیں اس سکیورٹی نظام کے بارے میں معلومات دی جائیں، لیکن انھیں معلومات نہیں دی گئیں اور کہا گیا کہ یہ ایک خفیہ معاملہ ہے۔

جشودابین نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ’میں مندر جاتی ہوں تو یہ میرے پیچھے آتے ہیں، اگر میں بس پر چڑھتي ہوں تو یہ پیچھے پیچھے کار سے آتے ہیں، ان کی موجودگی مجھے ڈرانے والی لگتی ہے، اندرا گاندھی کو تو ان کے گارڈز نے ہی مار ڈالا تھا، میں جاننا چاہتی ہوں کہ کس کی ہدایت پر ان کی تعیناتی کی گئی ہے۔‘

وہ کہتی ہیں: ’ان کی وجہ سے گاؤں میں میرا مذاق بن گیا ہے، ان کے ساتھ مجھے آتے دیکھ کر لوگ مذاق اڑاتے ہیں - دیکھو، مودی کی بارات جا رہی ہے۔‘

Image caption حسرت کے ساتھ انھوں نے ٹی وی پر امریکی صدر کا استقبال دیکھا

یہ کمانڈوز ہر اس آدمی کا پتہ درج کرتے ہیں جو جشودابین سے ملنے آتا ہے، جشودابین کے رشتہ داروں کے خیال میں یہ کمانڈوز حفاظت کے لیے نہیں بلکہ ان پر نظر رکھنے کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔

جشودابین کو سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ پولیس نے ان کی درخواست کا جو جواب بھیجا اس میں انھیں ’جشودابین چمن بھاي مودی‘ لکھا گیا ہے جبکہ انھوں نے درخواست میں اپنا نام ’جشودابین نریندركمار مودی‘ لکھا تھا۔

اسی بارے میں