’اوباما اور مودی دوستی سطحی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایک جگہ چینی میڈیا میں کہا گیا ہے کہ مودی اور اوباما صرف ظاہری طور پر ایک ساتھ ہیں

ہر چند کہ بھارتی میڈیا امریکی صدر براک اوباما کے بھارتی دورے کو خاصی اہمیت دے رہا ہے لیکن چین اور پاکستان کی میڈیا نے صدر اوباما کےاور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ’دوستی‘ کو ’سطحی‘ قرار دیا ہے۔

چینی ماہرین اور اخباروں کے خیال میں اوباما کے دورے کا مقصد بھارت کو چین کے خلاف استعمال کرنے کی مزید ایک کوشش ہے۔

چینی حکومت کے اخبار گلوبل ٹائمز کے ایک مضمون میں بھارت اور چین کو یہ کہتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ ’وہ مغرب کے بچھائے جال میں نہ پھنسے۔‘

گلوبل ٹائمز نے لکھا: ’نئی دہلی میں بھارتی وزیر اعظم اور امریکی صدر کے ایک دوسرے کے گلے ملنے کی بات کو بڑھا چڑھا کر دکھانے کے پس پشت میڈیا کی وہی فرسودہ ذہنیت کار فرما ہے۔‘

مضمون میں کہا گیا ہے کہ ’بندھے ٹکے اور ایک خط پر سوچنے کا ایک طرز بن گیا ہے جس کی مغرب خوب تشہیر کر رہا ہے۔ واضح طور پر اس کا مقصد چینی ڈریگن اور بھارتی ہاتھی کو ایک دوسرے کا روایتی اور مستقل حریف بتانا ہے۔‘

گلوبل ٹائمز کے مطابق چین اور بھارت یہ نہیں چاہتے لیکن مغربی اثرات میں ہندوستان پھسلتا چلا جا رہا ہے۔

دیگر جگہ چینی میڈیا میں کہا گیا ہے کہ مودی اور اوباما صرف ظاہری طور پر ایک ساتھ ہیں کیونکہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اب بھی کئی مسائل پر زبردست اختلافات برقرار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت اور امریکہ کے درمیان ابھی ایک کھرب ڈالر کی سالانہ تجارت ہوتی ہے

شنہوا نیوز ایجنسی نے امریکہ اور بھارت کے درمیان ابھرنے والے سفارتی اختلافات کو یاد کرتے ہوئے مودی اور اوباما کی دوستی اور گرمجوشی کو ’سطحی‘ بتایا ہے اور کہا ہے کہ دونوں ممالک کے بڑے رہنماؤں کے درمیان زبردست اختلافات ہیں۔

ایجنسی کا کہنا ہے ’یہ ایک سطحی مصالحت ہے جسے ایک سودے کی طرح دیکھا جانا چاہیے کیونکہ اوباما کو بھارت کی ضرورت ہے تاکہ امریکی سیاست میں وہ اپنی کامیابیاں گنوا سکیں۔‘

ایک دوسری جگہ چینی میڈیا نے اوباما اور مودی کی ملاقات کے درمیان آنے والے مسائل میں ماحولیات، زراعت سے متعلق تنازع اور جوہری توانائی میں تعاون کی بات کی ہے۔

مضمون کے آخر میں کہا گیا ہے کہ ’اختلافات کی اتنی طویل فہرست کے ہوتے ہوئے ہندوستان کو پکا دوست بنا پانا اوباما کے لیے ٹیڑھی کھیر ثابت ہوگا۔‘

پاکستانی اخبارات نے ہندوستان کو نصیحت دی ہے کہ وہ پاکستان کی منفی تصویر دکھانے کے لیے اوباما کے دورے کا استعمال نہ کرے۔

ڈان اخبار نے بھارتی میڈیا کو ’نیشنلسٹ میڈیا‘ کہتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ پاکستان پر وار کرنے کے لیے اوباما کے دورے کا استعمال کرنے سے باز آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چینی میڈیا نے اوباما اور مودی کی ملاقات کے درمیان آنے والے مسائل میں ماحولیات، زراعت سے متعلق تنازع اور جوہری توانائی میں تعاون کی بات کی ہے

ڈان اخبار لکھتا ہے: ’مشکل صحیح، لیکن خاموشی فی الحال بہتر متبادل ہے۔ کسی مثبت بات چیت کے لیے پاکستان اور بھارت کو مسلسل اور فضول کی دوڑ سے دور رہنا ہوگا۔ اوباما اگر بھارت کے دورے پر گئے ہیں تو یہ ہندوستان کا معاملہ ہے۔ جب اوباما پاکستان آئیں گے تب یہ پاکستان اور امریکہ کا معاملہ ہو گا۔‘

’دا نیشن‘ اخبار کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ افغانستان میں بھارت کے کردار کی امریکہ کی جانب سے تعریف کیے جانے کے بعد پاکستان خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے۔

اخبارکا کہنا ہے: ’امریکہ ہمیشہ سے بھارت کی، یہاں تک کہ افغانستان میں بھارت کے کردار کی تعریف کھلے دل سے کرتا رہا ہے۔ اس سے پاکستان گذشتہ کچھ دنوں سے خود کو غیر محفوظ اور غیر آرام دہ محسوس کرنے لگا ہے۔‘

اسی بارے میں