چین: مغربی اقدار کو فروغ دینے والا نصاب ترک کرنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گذشتہ برس چین کے صدر شی جن پنگ نے بھی ملک کی جامعات میں ’عظیم تر نظریے‘ کے تحفظ کا مطالبہ کیا تھا

چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے وزیرِ تعلیم نے جامعات کو مغربی اقدار کی تشہیر کرنے والی نصابی کتابوں کو ترک کر دینے کا حکم دیا ہے۔

یوان گورین نے کہا ہے کہ ملک بھر کی یونیورسٹیاں سیاسی ساکھ قائم رکھیں اور چین کے سیاسی رہنماؤں اور سیاسی نظام پر کمرۂ جماعت میں تنقید نہ ہونے دیں۔

شن ہوا نیوز ایجنسی کے مطابق انھوں نے یہ بات ایک تعلیمی فورم کے دوران کہی۔

چین میں گذشتہ چند ماہ میں تعلیم کے شعبے پر حکومتی گرفت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

دسمبر میں قانون کی تعلیم دینے والے چینی پروفیسر ژانگ شوئی ہونگ نے دعویٰ کیا تھا کہ انھیں ایسٹ چائنا یونیورسٹی سے اس لیے برطرف کر دیا گیا تھا کیونکہ انھوں نے حکومت کے خلاف تنقیدی مضامین پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا تھا۔

اس سے قبل اکتوبر 2014 میں پیکنگ یونیورسٹی سے آزادیِ اظہار کے حامی ماہرِ اقتصادیات شیا ییلیانگ کو نکالا گیا تھا۔ شیا نے چارٹر 08 نامی اس دستاویز پر دستخط کیے تھے جن میں چین سے جمہوری اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

شن ہوا کے مطابق وزیرِ تعلیم نے تعلیمی اداروں کے سربراہان سے کہا کہ ’مغربی اقدار کو فروغ دینے والی کتابوں کو ہمارے کلاس رومز میں دکھائی نہیں دینا چاہیے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قیادت، سوشلزم یا ملک کے آئین و قوانین کی تضحیک کرنے والے خیالات کالجوں کے کمرۂ جماعت میں نہ تو پیش کیے جانے چاہییں نہ ہی ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ برس چین کے صدر شی جن پنگ نے بھی ملک کی جامعات میں ’عظیم تر نظریے‘ کے تحفظ کا مطالبہ کیا تھا۔