ایرانی خارجہ پالیسی پاسداران کے ہاتھ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

گذشتہ پانچ سالوں میں ایران مشرقِ وسطیٰ کے چند اہم کشیدہ مقامات پر اہم طاقت بن کر ابھرا ہے۔

شام، عراق کے بعد اب یمن سمیت تمام علاقوں میں ایرانی تعلق نظر آتا ہے اور یہ بہت زیادہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ اس نئی متحرک خارجہ پالیسی کے پیچھے ایران کے پاسدارانِ انقلاب ہیں۔

دور دراز ممالک میں فوجی تربیت اور ہدایات فراہم کرنے سے لے کر حامی سیاست دانوں، ملیشیا اور گروہوں کو پیسہ دینے تک پاسدرانِ انقلاب ایک نئے نظریے پر عمل پیرا ہیں کہ ایران کی اسلامی ریاست کی تحفظ کے لیے اسے درپیش خطرات کو اس سے باہر ہی نمٹا جائے۔

اس پالیسی کی حالیہ مثال اس وقت سامنے آئی جب گولان کی پہاڑیوں کے قریب حزب اللہ کے قافلے پر ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہونے والوں میں حیرت انگیز طور پر ایک ایرانی جرنیل بھی شامل تھا۔

پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر جنرل محمد علی جعفری نے اس ہلاکت کے بعد ایک تقریر میں دعویٰ کیا تھا کہ ’ہم اسرائیل کو تباہ کرنے کے لیے آخری لمحے تک لڑیں گے۔ یروشلم کی آزادی بہت قریب ہے۔‘

خامنہ ای انچارج

ایران کی وزارتِ خارجہ نے سوئس سفارت خانے میں امریکی معاملات کے شعبے میں ایک نوٹ کے ذریعے امریکیوں کو مطلع کیا تھا کہ اسرائیل نے اس حملے کے نتیجے میں آخری حد پار کی ہے اور اسے سمجھنا چاہیے کہ اس کے نتائج ٹھیک نہیں نکلیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدر حسن روحانی اور وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے خارجہ پالیسی کے حوالے سے ثانوی کردار اپنایا ہوا ہے

ایرانی حکام اور رہنماؤں کی طرف سے جارحانہ بیانات خصوصاً اسرائیل کے خلاف بیانات معمول کی بات ہے اور انھیں اکثر بیان بازی اور ایرانی عوام کے لیے سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے جس کے ذریعے حکومت ایرانی عوام کی نظر میں اپنے ملک کا دنیا میں ایک طاقتور پیش کرتی ہے۔

تاہم اب اس میں ایک نیا پہلو ہے اور وہ یہ کہ پاسدارانِ انقلاب ایران کی خارجہ پالیسی کو چلا رہے ہیں اور اس کے مفادات کو ترویج دے رہے ہیں۔

پاسدارنِ انقلاب جنھیں 1979 کے انقلاب کے بعد سے ملک کے اسلامی نظام کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا تھا اور ان کے قیام کا مقصد ایران کی روایتی فوج کے مقابلے میں ایک قوت بنانا ہے جو اب ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کا ایک انتظامی بازو بن چکے ہیں۔

اس کے نتیجے میں انھوں نے ایران کی خارجہ پالیسی کا دنیا کے اکثر معلاملات میں کنٹرول سنبھال لیا ہے جس کےنتیجے میں انھوں نے صدر حسن روحانی کی نسبتاً معتدل مزاج حکومت کو عالمی سیاست سے منقطع کر دیا ہے اور وزارتِ خارجہ کے کردار کو پالیسی سازی میں معاونت کا کردار ادا کرنے مجبور کر دیا ہے جن پر عمل در آمد حقیقتاً پاسدارنِ انقلاب کرتے ہیں۔

ایرانی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی ایک انتہائی واضح علامت کے طور پر جنرل قاسم سلیمانی کے کردار پر نظر ڈالی جا سکتی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران کیسے اپنی خارجہ پالیسی چلا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sepahnews
Image caption جنرل محمد علی اللہ دادی لبنان میں اسرائیل کے فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے

پاسدارنِ انقلاب کے بیرونی آپریشن قدس فورس کے کمانڈر اور کرشماتی شخصیت کے مالک جنرل سلیمانی اچانک پسِ منظر سے سامنے آنے کے بعد شروع ہوئے ہیں جب وہ خاموشی سے ایران کے ہمسائے عراق میں خاموشی سے ایران کے کردار اور اثر رسوخ کو بڑھانے میں مصروف رہے۔

ان دنوں ایرانی ویب سائٹوں اور اخبارات ان کی مختلف مصروفیات کی تصاویر سے بھرے پڑے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ پاسداران ان کے اس کردار کو اپنے بڑھتے ہوئے اثر کو بڑھاوا اور جواز دینے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

جنرل سلیمانی کو گذشتہ سال بغداد کو دولتِ اسلامیہ کے حملے سے بچانے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔

اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ انہوں نے ذاتی طور پر اگلے مورچوں کا دورہ کیا اور لڑنے والے عراقی فوجیوں سے ملاقات کی اور انھیں ہدایات دیں کہ وہ کیسے بغداد کا دفاع کریں اور اس کے ساتھ ساتھ عراق کی ایران نواز شیعہ ملیشیا کو متحرک کرنے کے لیے پیسے اور ہتھیار بھی دیے۔

یہ ملیشیا اب عراق میں ایک بڑی قوت ہیں اور دارالحکومت کے کئی حصوں پر ان کا قبضہ ہے اس کے باوجود کے عراق کی عرب آبادی کو ان کے بارے میں شدید تحفظات ہیں۔

اثر رسوخ میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ ISNA
Image caption ان دنوں ایرانی ویب سائٹیں اور اخبارات جنرل سلیمانی کی مختلف مصروفیات کی تصاویر سے بھرے پڑے ہیں

شام میں جنرل سلیمانی اور پاسداران نے بشار الاسد کی حکومت کو پیسہ اور ہتھیار فراہم کیے اور ایران کی بسیج ملیشیا کی طرز پر حکومت نواز ملیشیا بھی قائم کیے ہیں جو نوجوانوں کا ایک جز وقتی مسلح گروہ ہیں۔

اس کے علاوہ انھوں نے لبنان کی شیعہ اسلام پسند تحریک حزب اللہ کو بھی ترغیب دی ہے کہ وہ شام میں حکومت کی حمایت میں متحرک ہوں۔

گذشتہ ہفتے جب گولان کی پہاڑیوں ہر حملہ کیا گیا تھا تو اس حملے میں ہلاک ہونے والے پاسداران کے کمانڈر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ مبینہ طور پر حزب اللہ کے لیے ایک میزائلوں کی بیٹری کی تنصیب کے عمل کی نگرانی کر رہے تھے جو اسرائیل کو نشانہ بنا رہی تھی۔

شام کے ذریعے ایران حزب اللہ کو مسلح کر رہا ہے اور اسے مختلف فاصلے تک مار کرنے والے اور مختلف اقسام کے ہزاروں میزائل فراہم کر رہا ہے۔

ایرانی رہنما حزب اللہ کے زیراثر جنوبی لبنان کو ایران ہی کا ایک قسم کا حصہ سمجھتے ہیں اور آیت اللہ خامنہ ای اسرائیل کے خلاف ایک اور محاذ مغربی کنارے میں کھولنے پر تلے ہوئے ہیں۔

انھوں نے اس کا اظہار کھلے عام کیا ہے اور پاسداران کے کمانڈر بارہا حالیہ ہفتوں میں اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ اس علاقے میں جنگجوؤں کو مسلح کرنا ان کا ایجنڈا ہے۔

سنی اسلام پسند تحریک حماس جو غزہ کی پٹی میں اکثریت رکھتی ہے، پہلے سے ہی ایران سے مالی اور میزائل بنانے کی معلومات حاصل کرنے والوں میں سے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جنرل سلیمانی اچانک پس منظر سے متحرک ہوئے اور انھیں گذشتہ سال بغداد کو دولتِ اسلامیہ کے حملے سے بچانے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے

اس کے بعد حالیہ چیلنج یمن میں سامنے آیا ہے جہاں زیدی شیعہ حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا ہوا ہے۔

بظاہر ایران کا حوثیوں کے عروج میں کوئی ہاتھ نظر نہیں آتا مگر ان کا دنیا کا نظریہ بالکل ایک جیسا ہے جس میں اسرائیل اور امریکہ کی شدید مخالفت شامل ہے۔

اور اس بات کے ثبوت پہلے سے موجود ہیں کہ ایران یمن میں ہتھیاروں کی سمگلنگ میں ملوث رہا ہے۔

اس کے علاوہ اس بات کے بھی ثبوت ہیں کہ ایران کے پاسداران مغربی افریقہ کے جنگ زدہ ممالک کو ہتھیار سمگل کرنے میں ملوث رہا ہے اور ان کی موجودگی لاطینی امریکہ میں بھی ہے جہاں ابھی ان کی توجہ معاشی اور انسانی خدمت کے منصوبوں پر ہے۔

پاسداران کا خطے میں مرکزی کردار اسرائیل کا مقابلہ کرنا، شامی صدر بشار الاسد کے اقتدار کا تحفظ اور اسے قائم رکھنا، عراق میں بڑے پیمانے پر اثر رسوخ قائم رکھنا اور امریکہ اور سنی اکثریتی سعودی عرب کے اثر رسوخ کا خطے میں مقابلہ کرنا ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای کا اس سے قبل اتنا اثر رسوخ کبھی نہیں تھا۔

اسی بارے میں