اترپردیش میں پولیس سٹیشن سے انسانی ڈھانچے برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ PRESS TRUST OF INDIA
Image caption برآمد ہونے والے انسانی ڈھانچوں کی تعداد 100 سے زیادہ ہونے کا امکان ہے

بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع ناؤ میں پولیس لائن کے ایک پرانے کمرے سے بوریوں میں بند انسانی ڈھانچے برآمد ہوئے ہیں۔

اعلیٰ حکام کے مطابق تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے تاکہ پتہ لگایا جا سکے کہ یہ انسانی ڈھانچے کہاں سے آئے۔

برآمد ہونے والے انسانی ڈھانچوں کی تعداد 100 سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ یہ ڈھانچے 25 کے قریب بوریوں میں رکھے ہوئے ملے ہیں۔

جمعرات کی شام کچھ لوگوں نے اناؤ کی پولیس لائن کے ایک کمرے میں انسانی ڈھانچوں کی موجودگی کا اطلاع دی تھی۔

اناؤ کے ضلعی افسر کے مطابق جس جگہ پولیس لائن ہے وہاں سال 2008 میں ایک سرکاری ہسپتال ہوا کرتا تھا۔

پولیس لائن اناؤ شہر کے وسط میں واقع ہے۔ پولیس افسران نے جب کمرا کھولا تو اس میں کئی بوریاں رکھی ملیں۔ ان میں سے کچھ بوریوں پھٹی ہوئی تھیں۔ بوریوں کو کھولا گیا تو ان میں سے انسانی ڈھانچے برآمد ہوئے۔

اناؤ کے پولیس چیف مہندرا پال سنگھ نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ کم سے کم 100 لاشیں تحقیقات کے لیے پولیس سٹیشن میں رکھی گئی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ ’حقائق جاننے کے لیے باقاعدہ ڈی این اے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔‘

پولیس لائن میں انسانی ڈھانچے کہاں سے آئے اس بارے میں نہ تو فی الحال پولیس کچھ کہہ رہی ہے اور نہ انتظامی افسر کچھ بتا رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے: ’ ڈھانچے کہاں سے آئے، کس طرح آئے، اس کی جانچ کی جائے گی۔‘

اتر پردیش کے پولیس ڈائریکٹر مکل گوئل نے کہا ہے کہ اناؤ پولیس سے انسانی ڈھانچوں کے ملنے کے بارے میں جواب طلب کیا گیا ہے۔

کچھ ہی دن پہلے اناؤ ضلع کے ہی پرير گھاٹ پر 100 سے زیادہ لاشیں گنگا دریا میں ملی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rohit Ghosh
Image caption اناؤ کے ضلعی افسر کے مطابق جس جگہ پولیس لائن ہے وہاں سال 2008 میں ایک سرکاری ہسپتال ہوا کرتا تھا

اسی بارے میں