اگنی 5 کو موبائل لانچر سے داغنے کا کامیاب تجربہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption موبائل لانچر سے اگنی فائیو داغنے کے کامیاب تجربے کے بعد اب چین کا تمام علاقہ بھارتی میزائلوں کی زد پر آ گیا ہے۔

بھارت نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے جوہری میزائل اگنی 5 کو موبائل لانچر کی مدد سے داغنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

سنیچر کو ہونے والی آزمائش اگنی فائیو کا تیسرا تجربہ تھا لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ اسے ٹرک پر نصب لانچر کے ذریعے ہدف کی جانب روانہ کیا گیا۔

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اس تجربے کی کامیابی پر ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ موبائل لانچر سے اگنی فائیو کے کامیاب تجربے نے اس میزائل کو ہماری افواج کے لیے اہم اثاثہ بنا دیا ہے۔

یہ میزائل بھارت کے دفاعی تحقیق اور ترقی کے ادارے نے تیار کیا ہے اور اس کا تازہ ترین تجربہ ریاست اڑیسہ کے ساحل سے دور ایک جزیرے پر کیا گیا۔

2012 میں پہلی مرتبہ متعارف کروایا جانے والا اگنی فائیو میزائل پانچ ہزار کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے اور یہ جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق موبائل لانچر سے یہ میزائل داغنے کے کامیاب تجربے کے بعد اب چین کا تمام علاقہ بھارتی میزائلوں کی زد پر آ گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption بھارت نے اگنی میزائلوں کی تیاری کا سلسلہ 1983 میں شروع کیا تھا

بھارت نے اگنی میزائلوں کی تیاری کا سلسلہ 1983 میں شروع کیا تھا اور ابتدا میں اگنی ایک اور دو پاکستانی علاقے کی وسعت کو مدِنظر رکھ کر تیار کیے گئے تھے۔

اے ایف پی کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعدازاں اگنی سیریز کے میزائلوں کی حد میں اضافہ کیا گیا ہے جس سے بھارت کی توجہ چین کی جانب مرکوز ہونے کا پتہ چلتا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت اس وقت دنیا میں اسلحے کا سب سے بڑا درآمدکنندہ ہے۔

ملک میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد دفاعی اخراجات میں مزید اضافے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی کہہ چکے ہیں کہ بھارت کو اپنی عسکری قوت میں اتنا اضافہ کرنا چاہیے کہ کوئی بھی ملک اس کی جانب بری نظر سے نہ دیکھ سکے۔

اسی بارے میں