لاشوں سے بھری بوریوں سے بھارتی پولیس پریشان

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ کمرہ 2008 تک ایک مردہ خانے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔

بھارتی پولیس کی ملکیتی ایک عمارت کے بے آباد کمرے سے درجنوں ڈھانچے اور جسمانی عضا ملے ہیں۔

اطلات کے مطابق انسانی باقیات پر مشتمل بوریاں ریاست اتر پردیش کے علاقے اناؤ میں واقع پولیس عمارت پر کام کرنے والے مزدوروں کو ملی ہیں۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے علم میں نہیں کہ یہ لاشیں کہاں سے آئی ہیں مگر یہ کمرہ 2008 تک ایک مردہ خانے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔

علاقائی حکام نے کہا ہے کہ لاشوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے گا اور یہ تحقیقات کی جائیں گی کہ ان کو یہاں کیوں چھوڑا گیا۔

اناؤ پولیس کے سربراہ مہندرا پال سنگھ نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا ہے کہ ریکارڈ کے مطابق پولیس کے ذیرِ استعمال اس عمارت میں تحقیقات کے لیے تقریباً 100 لاشوں کو رکھا گیا تھا۔

مہندرا سنگھ کا کہنا تھا کہ ’اس معاملے مناسب تحقیقات کی جائیں گی، لاشوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے گا اور پتا چلانے کی کوشش کی جائے گی کہ ان انسانی باقیات کو یہاں کیوں چھوڑا گیا۔‘

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ پوسٹ مارٹم کے بعد لاشوں کو ٹھکانے لگانے کے طے کردہ طریقہ کار کی خلاف ورزی کا نتیجہ لگتا ہے۔

خیال رہے کہ اناؤ ضلع میں حکام ایک الگ واقعے میں دریِا گنگا میں سے حال ہی میں ملنی والی 100 سے ذائد لاشوں کے بارے میں بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ ان لاشوں کو ان کے غریب رشتہ داروں نے آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے پیسے نہ ہو نے کی وجہ سے دریا میں پھینک دیا تھا۔

اسی بارے میں