سیاست کی شکار نئی دہلی کی غیر قانونی کالونیاں

Image caption نئی دہلی کی کئی غیر قانونی بستیوں میں سے ایک گھڑولي کی سپیرا بستی بھی ہے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک اندازے کے مطابق تقربیاً 60 لاکھ افراد 2,000 غیر قانونی کالونیوں میں رہتے ہیں۔

بھات کی سیاسی جماعتوں نے اس بار بھی نئی دہلی کی ان کالونیوں کو قانونی قرار دینے کے لیے انتخابی موضوع بنایا ہے۔

لیکن یہاں بسنے والے افراد کو اس پر کتنا یقین ہے؟

Image caption سانپ پکڑنے پر پابندی عائد ہونے کے بعد اب یہ لوگ بین بجا کر اپنا پیٹ پالتے ہیں

نئی دہلی کی کئی غیر قانونی بستیوں میں سے ایک گھڑولي کی سپیرا بستی بھی ہے جہاں کئی نسلوں سپیرےسے رہتے آئے ہیں۔

سانپ پکڑنے پر پابندی عائد ہونے کے بعد اب یہ لوگ بین بجا کر ہی اپنا پیٹ پالتے ہیں، تاہم آج کے جدید دور میں بین کے شوقین بھی زیادہ نہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کے لیے اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پالنا ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔

گھڑولي کی سپیرا بستی بھی غیر قانونی ہے اور اسی وجہ سے ان لوگوں کو اپنی جائیداد پر کسی بینک سے قرض نہیں ملتا۔

گھڑولي بستی کے سردار بہادر سنگھ ناتھ کہتے ہیں کہ اگر ان کی بستی کو قانونی حیثیت دے دی جائے تو یہاں رہنے والے لوگوں کی مشکلات دور ہو جائیں گی۔

Image caption گھڑولي سے کچھ ہی فاصلے پر ملا کالونی قائم ہے۔ یہاں کی کہانیاں بھی ویسی ہی ہیں، تنگ گالیاں، گھروں کے باہر جمع نالی کا گندا پانی اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں

یہیں کے رہنے والے اتھر سنگھ کا چہرہ وہ ہے جن کی تصاویر ٹی وی چینلوں پر دولت مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب کے دوران چھائی رہی تھیں۔

اتھر سنگھ اور اس بستی کے کئی سپیروں نے دولت مشترکہ کھیلوں کے دوران اپنی روایتی بین بجا کر لوگوں کا دل بہلايا تھا۔

اتھر سنگھ نے بی بی سی ہندی کو بتایا: ’جب مینکا گاندھی ماحولیاتی وزیر تھیں تب سانپ پکڑنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اور اب صرف بین کا سہارا ہے مگر بین بھی اب کون سنتا ہے؟ شادی بیاہ میں بین کون بجوانا چاہتا ہے؟ ہم اپنے گھر پر ہی کچھ دھندا کرنا چاہتے ہیں مگر ہماری بستی غیر قانونی ہے اور کوئی بینک ہمیں قرض نہیں دیتا۔‘

گھڑولي سے کچھ ہی فاصلے پر ملا کالونی قائم ہے۔ یہاں کی کہانیاں بھی ویسی ہی ہیں: تنگ گالیاں، گھروں کے باہر جمع نالی کا گندا پانی اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں۔

اس علاقے کے رکن اسمبلی منوج کمار کہتے ہیں کہ جس کالونی میں وہ رہتے ہیں وہ بھی غیر قانونی ہے۔

Image caption مرکزی کابینہ نے حال ہی میں دہلی کی 2,000 غیر قانونی کالونیوں کو قانونی بنانےکی منظوری دی ہے

منوج کہتے ہیں: ’اسمبلی کا رکن ہونے کے باوجود میں اتنا مجبور ہوں کہ یہاں کی ترقی کے لیے اسمبلی فنڈ سے کچھ خرچ نہیں کر سکتا، لوگ یہاں آتے ہیں مگر غیر قانوی کالونی ہونے کے ناطے یہاں ترقی کے کام نہیں ہو سکتے۔‘

منوج کے مطابق: ’دہلی میں بی جے پی اور کانگریس دونوں نے حکومت کی، ان کالونیوں کو قانونی بنانے کے نام پر انھوں نے خوب سیاست کی اور اس کا فائدہ بھی اٹھایا مگر کسی نے بھی یہاں رہنے والے افراد کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔‘

مشرقی دہلی میونسپل کارپوریشن کے کونسلر راجیو کمار ورما کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت یعنی کانگریس نے ان کالونیوں کو قانونی بنانے میں پہل کی تھی۔

Image caption اسمبلی کا رکن ہونے کے باوجود اتنا مجبور ہوں کہ یہاں کی ترقی کے لیے اسمبلی فنڈ سے کچھ خرچ نہیں کر سکتا: منوج کمار

مرکزی کابینہ نے حال ہی میں دہلی کی 2,000 غیر قانونی کالونیوں کو قانونی بنانےکی منظوری دی ہے۔

مرکزی کابینہ نے یکم جون سنہ 2014 تک قائم ہونے والی بستیوں کو قانونی بنانے کا فیصلہ کیا جبکہ اس سے پہلے 31 مارچ سنہ 2002 تک کی بستیوں کو قانونی درجہ دینے کا فیصلہ ہوا تھا۔

بھارت کی حزبِ مخالف جماعتوں کا الزام ہے کہ بی جے پی نے ایسا دہلی میں انتخابی فائدہ اٹھانے کی نیت سے کیا ہے۔

شہری ترقی کے وزیر وینکیا نائیڈو ان الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی پارٹی اس معاملے پر سیاست نہیں کر رہی ہے۔

Image caption گذشتہ کئی اسمبلی انتخابات سے سیاسی جماعتیں دہلی کی ان غیر قانونی بستیوں کو اپنا انتخابی موضوع بناتے آ رہی ہیں

انھوں نے کہا: ’مرکزی کابینہ کا ان بستیوں کو قانونی درجہ دینے کا فیصلہ اس بات کی تصدیق ہے کہ ہم اس مسئلے پر سنجیدہ ہیں۔‘

گذشتہ کئی اسمبلی انتخابات سے سیاسی جماعتیں دہلی کی ان غیر قانونی بستیوں کو اپنا انتخابی موضوع بناتی آ رہی ہیں۔

اس بار مرکزی کابینہ کے فیصلے سے ایک امید تو بندھی ہے اور اگر معاملہ پھر بھی زیر غور رہا تو یہاں رہنے والے افراد کو ایک بار پھر مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔