’مودی مئی میں چین جائیں گے‘

Image caption ستمبر 2014 میں چینی صدر نے بھارت کا دورہ کیا اور 12 معاہدے کیے

بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی رواں سال مئی میں چین کا دورہ کریں گے۔

اس بات کا اعلان بھارت کی وزیرخارجہ سشما سوراج نے اپنے تین روزہ دورہ بیجنگ کے موقعے پر کیا۔

چین بھارت کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے، لیکن خطے میں اثر و رسوخ اور سرحدی تنازعات پر دونوں میں مسابقت بھی ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی کے دورۂ چین کا اعلان گذشتہ ہفتے امریکی صدر براک اوباما کے دورۂ بھارت کے بعد سامنے آیا ہے۔ امریکہ اور بھارت مشترکہ طور پر خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر بند باندھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے دورہ بھارت کے موقعے پر وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ’جوائنٹ سٹریٹیجی فار دی ایشیا پیسیفک اینڈ انڈین اوشن ریجن‘ کے نام سے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک نے خاص طور پر جنوبی چین کے سمندری علاقے میں بحری جہازوں، بحریہ کی سکیورٹی اور فضائی حدود کے تحفظ کے لیے اکٹھے کام کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

نامہ نگاروں کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب بھارت اور امریکہ نے اکٹھے مل کر واضح انداز میں کہا ہے کہ وہ ایشیا میں کسی ایک طاقت کی اجارہ داری نہیں ہونا چاہتے۔

پریس ٹرسٹ انڈیا کے مطابق بھارتی وزیرخارجہ نے بیجنگ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ نریندر مودی مئی میں چین کا دورہ کریں گے اور اس کی تاریخ آج بتائی جائے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ ابتدائی نوعیت کا دورہ ہو گا۔

رپورٹوں کے مطابق چین کے صدر شی جنگ پنگ بھارتی صدر کو اپنے آبائی علاقےصوبہ شان شی میں لے کر جائیں گے۔

چینی صدر نے گذشتہ سال ستمبر میں بھارت کا دورہ کیا تھا اور اس دوران دونوں ممالک نے کل 12 معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔

مودی بھارت کی سابقہ حکومت کے مقابلے میں چین کے حوالے سے زیادہ پراعتماد بیانات دیتے ہیں، تاہم تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم چین کی مخالفت سے بچنے کے لیے بہت احتیاط سے کام لیں گے، کیونکہ بھارت کو معاشی ترقی حاصل کرنے کے لیے چینی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

چین کے ساتھ تجارت میں بھارت کا تجارتی خسارہ جو 2001 سے 2002 کے دوران ایک ارب ڈالر تھا، وہ اب 40 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔

مسلسل سامنے آنے والی کشیدگی کے باوجود چین اور بھارت کے درمیان تجارت میں تقریباً سالانہ طور پر 70 ارب امریکی ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں