صرف ایک آئیڈیا آپ کی زندگی بدل سکتا ہے!

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس وقت ایپل کی مالیت تقریباً 630 ارب ڈالر ہے

ایپل کو ہی کیوں نہ خرید لیں؟

صرف ایک آئیڈیا آپ کی زندگی بدل سکتا ہے۔

آپ نے سنا ہی ہوگا کہ روزانہ ایک سیب کھانے سے آپ اپنی صحت اور ڈاکٹر دونوں کو قابو میں رکھ سکتے ہیں۔ ایک سیب پیڑ سے گرا تو ہمیں کشش نقل کا قانون ملا، ایک سیب کھایا گیا تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ کیا ہوا۔

دنیا کی سب سے بیش قیمت کمپنی ایپل نے جب گذشتہ سہ ماہی کے لیے اپنے منافعے کا اعلان کیا تو ہندوستان میں یہ خبر زیادہ تر بڑے اخبارات کے صفحہ اول پر شائع ہوئی۔

صرف آئی فون کا آئیڈیا اس کمپنی کو نئی بلندیوں تک پہنچا رہا ہے۔ ایپل نے صرف تین مہینوں میں 18 ارب ڈالر کمائے ہیں، تو آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ رقم کتنی ہوتی ہے۔

ہندوستان کی 50 سب سے بڑی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنیاں مل کر بھی اتنا منافع نہیں کماتیں۔

اس وقت ایپل کی مالیت تقریباً 630 ارب ڈالر ہے۔ ہندوستان کی معیشت کا کل حجم تقریباً 1900 ارب ڈالر ہے۔ یعنی آپ چاہیں تو ایپل کے سائز کی صرف تین کمپنیاں ہی خرید سکتے ہیں۔

ایپل کے پاس 178 ارب ڈالر نقد رقم بھی موجود ہے۔ یہ رقم امریکہ میں تقسیم کی جائے تو ہر شہری کو 30 ہزار روپے سے زیادہ ملیں گے۔

ایپل چاہے تو ہندوستان کا بجٹ خسارہ پلک جھپکتے ہی ختم ہو سکتا ہے۔

یہ فہرست تو لمبی ہے لیکن آپ کو اندازہ ہوگیا ہو گا کہ 18 ارب ڈالر کتنے ہوتے ہیں۔ پورے سال کے منافعے کا حساب آپ خود جوڑ لیجیے۔

اگر ایپل کو خرید لیا جائے تو سالانہ 72 ارب ڈالر کی بندھی ہوئی آمدنی ہوسکتی ہے۔ یہ آئیڈیا آپ کی زندگی بدل سکتا ہے، لیکن ایپل کو خریدا کیسے جائے؟ یہ آئیڈیا آپ کے پاس ہو تو ضرور اطلاع کیجیے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایپل کے پاس 178 ارب ڈالر کیش بھی موجود ہے۔ یہ رقم امریکہ میں تقسیم کی جائے تو ہر شہری کو 30 ہزار روپے سے زیادہ ملیں گے

بجلی بھی مفت، پانی بھی اور رہنے کے لیے گھر بھی

اگر کوئی آئیڈیا نہ آئے تو فکر کی کوئی بات نہیں۔ اچھی زندگی گزارنے کے لیے اتنے پیسے کی ضرورت کہاں پڑتی ہے۔

اور اگر آپ دہلی میں رہتے ہوں تو پندرہ بیس دن کے بعد یہ سمجھ میں نہیں آئے گا کہ پیسہ خرچ کیا جائے تو کہاں۔ دہلی کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں اور میدان میں اترنے والی تینوں پارٹیوں کا وعدہ ہے کہ وہ آپ کی زندگی بدل دیں گی۔

میدان میں عام آدمی پارٹی ہے جو نریندر مودی کی بی جے پی کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کانگریس بھی ہے، بس اس کا ذکر نہیں ہے۔

لیکن تینوں پارٹیوں نے کچھ ایسے وعدے کیے ہیں کہ تینوں کو ہی ووٹ دینے کا دل کرتا ہے۔

کانگریس اور عام آدمی پارٹی کا وعدہ ہے کہ آپ کا بجلی کا بل آدھا کر دیا جائے گا، بی جے پی 30 فیصد کی کٹوتی کا وعدہ کر رہی ہے۔

اگر ووٹر ہوشیاری سے کام لیں اور تینوں پارٹیوں کی مخلوط حکومت بن جائے تو تینوں کو ہی اپنے وعدے پورے کرنے پڑیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو بجلی استعمال کرنے پر آپ کو بل دینے کے بجائے الٹا حکومت سے ہی پیسے ملا کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ reuters ap
Image caption دہلی کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں اور میدان میں اترنے والی تینوں پارٹیوں کا وعدہ ہے کہ وہ آپ کی زندگی بدل دیں گی۔

یا بی جے پی اور عاپ کا یہ وعدہ لیجیے کہ جتنے بھی لوگ کچے مکانوں میں رہتے ہیں، ان کے گھر پکے کر دیے جائیں گے۔

یہ اعلان کرتے وقت پارٹیوں نے شاید ان لوگوں کے بارے میں نہیں سوچا جو غریب بھی ہیں لیکن قانون کی پاسداری بھی کرتے ہیں اور انھیں کبھی سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کا آئیڈیا پسند نہیں آیا۔

یا اروند کیجریوال کا یہ وعدہ کہ ہر بس میں ایک محافظ تعینات رہے گا اور اگر کوئی لڑکا کسی لڑکی کو چھیڑے گا تو یہ محافظ اسے پکڑ کر سیدھا تھانے پہنچا دے گا۔ لیکن یہ وعدہ کرتے وقت پارٹی کو یہ آئیڈیا کیوں نہیں آیا کہ ہر بس میں پہلے سے ہی ایک ڈرائیور اور ایک کنڈکٹر موجود ہوتا ہے، یہ ذمہ داری انھیں کیوں نہیں سونپی جا سکتی؟

وعدوں کی فہرست لمبی ہے، کچھ ممکن ہیں لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو حلق سے آسانی سے نیچے نہیں اتریں گے۔

لیکن فکر مت کیجیے گا، ایک پارٹی نے آپ کی سہولت کے لیے بالکل مفت پانی فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

اسی بارے میں