’کشمیریوں کا جوش و خروش ماند پڑ رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں ہر سال پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر سرکاری سطح پر منایا جاتا ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں بھارتی کنٹرول کے خلاف 25 سال سے مسلح اور غیر مسلح سطحوں پر عوامی تحریک جاری ہے۔

پاکستان اس تحریک کی حمایت کرتا رہا ہے اور ہر سال پانچ فروری کو ملک بھر میں کشمیر کے ساتھ یکجہتی کا دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے کشمیریوں میں پہلے پہل تو کافی جوش وخروش پایا جاتا تھا، لیکن اب الگ الگ آرا پائی جاتی ہیں۔

وادی کے تجارتی مرکز لال چوک میں میوہ فروش محمد رفیق کہتے ہیں: ’ہم ٹی وی اور ریڈیو پر سنتے ہیں کہ پاکستان ہماری تحریک کا ساتھ دیتا ہے۔ وہ آئندہ ساتھ دینے کا بھی وعدہ کرتے ہیں، لیکن اس سے ہمارے حالات بدلتے نہیں ہیں۔ مجھے تو لگتا ہے جتنا وہ لوگ ہماری تحریک کی حمایت کرتے ہیں اتنا ہی یہاں ہم پر ظلم ہوتا ہے۔‘

امرسنگھ کالج کے طالب علم مدثر اقبال کہتے ہیں: ’اس دن کی اپنی اہمیت ہے۔ پاکستان کی نئی نسل کو بھی پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کی آزادی کشمیر کی آزادی تک نامکمل ہے۔ یہ ضروری ہے۔ البتہ ہمیں پاکستان سے یہ شکایت ہے کہ وہ عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلے سے متعلق موثر حمایت اکٹھی نہیں کر پایا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیر سے اظہار یک جہتی میں روایتی طور پر مذہبی سیاسی جماعتیں پیش پیش ہوتی ہے

واضح رہے کہ کشمیر میں حقِ خودارادیت کی تحریک کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کے لیے یہاں کے علیحدگی پسند حلقے روز بروز سے ممنون ہیں۔

حکومت ہند کا الزام ہے کہ حریت کانفرنس یا اس کے ہم خیال گروپ سبھی پاکستان کے تنخواہ دار ہیں اور پاکستانی حکومت کے موقف کی ہر حال میں حمایت کرتے ہیں۔ اس صورت حال میں پہلی مرتبہ 2004 میں تبدیلی رونما ہوئی جب یہاں کے بعض رہنماؤں نے فوجی حکمران پرویز مشرف کے چار نکاتی فارمولے کی مخالفت کی۔

مشرف کا خیال تھا کہ کشمیر سے فوجیں نکال لی جائیں، عبوری سرحد یعنی لائن آف کنٹرول کو آمدورفت اور تجارت کے لیے نرم کیا جائے، قیدیوں کو رہا کیا جائے اور بعد میں الگ الگ خطوں میں لوگوں کو اپنا انتظام خود چلانے کی آزادی دی جائے۔ بعض علیحدگی پسندوں نے اس فارمولے کی حمایت کی جب کہ بعض نے مخالف کی اور اسی کے سبب علیحدگی پسند قیادت اندرونی پھوٹ کا شکار ہو گئی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومتیں دراصل کشمیر تنازعے کے حل کی خاطر عالمی سطح پر کوئی موثر حمایت جمع کرنے میں ناکام ہوگئی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پانچ فروری کو کچھ لوگ ایک کھوکھلی سیاسی روایت کہتے ہیں۔ تاریخ اور فلسفہ کی طالب علم انشا آفرین کہتی ہیں: ’طویل عرصے سے پاکستان کے چین اور امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، لیکن اس کے باوجود پاکستان بھارت پر عالمی دباؤ بڑھانے میں ناکام ہوگیا ہے۔ پانچ فروری تو ٹھیک ہے، لیکن کشمیر کی چوتھی نسل بھی اب اسی تنازعے کی نذر ہو رہی ہے، اور پاکستان نہ واضح جنگ پر آمادہ ہے اور نہ واضح مفاہمت پر۔‘

واضح رہے حکومت ہند پاکستان پر کشمیر میں مسلح دراندازوں کو بھیج کر درپردہ جنگ چھیڑ نے کا الزام عائد کرتا رہا ہے، تاہم پاکستانی حکومت کا موقف ہے کہ وہ کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی سطح پر حمایت کر رہی ہے۔

پاکستان کی موجودہ حکومت نے مشرف دور کے کچھ لو اور کچھ دو کے فلسفے سے کنارہ کرتے ہوئے کشمیر کے بارے میں روایتی پالیسی کا احیا کیا ہے۔

اسی بارے میں