’پاکستانی سرحد کے قریب آپریشن، 18 شدت پسند ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان کی سرحد سے متصل افغان علاقے میں سکیورٹی فورسز نے متعدد کارروائیاں کی ہیں

افغان پولیس کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سرحد کے قریب افغان علاقے میں ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 18 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق صوبہ ننگرہار کے ضلع نازیان میں ہونے والی یہ جھڑپیں بدھ کی شام ختم ہوئیں۔

صوبے کی پولیس کے سربراہ کے ترجمان حضرت حسین مشرقی وال نے کہا ہے کہ اس آپریشن کے دوران 26 شدت پسند زخمی ہوئے جبکہ تین پاکستانیوں سمیت چار افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ترجمان کا کہنا تھا کہ ان جھڑپوں میں افغان پولیس کا ایک اہلکار بھی ہلاک ہوا ہے۔

حسین مشرقی وال کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران افغان سکیورٹی فورسز نے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ’اگر ہمیں ننگرہار کے کسی ضلعے میں بھی شدت پسندوں کی موجودگی اور کارروائی کا پتہ چلتا ہے تو ہم ان کے خلاف آپریشن کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

جھڑپوں کا مرکز بننے والے ضلع نازیان میں ہی افغان طالبان نے بدھ کو ایک امریکی شنوک ہیلی کاپٹر گرانے اور درجنوں افغان فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔

طالبان نے کہا تھا کہ یہ کارروائی ’کٹھ پتلی افواج کے ایک حملے کے دوران کی گئی۔‘ تاہم امریکی فوج نے ایسے کسی واقعے سے انکار کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغانستان کی سکیورٹی فورسز نے کنڑ کے علاوہ غزنی، ہلمند اور اوزگان میں بھی طالبان کے خلاف کارروائیاں کی ہیں

خیال رہے کہ پاکستان کے شہر پشاور میں طالبان کے حملے میں ڈیرھ سو افراد کی ہلاکت کے بعد پاکستان کی سرحد سے متصل افغان علاقے میں سکیورٹی فورسز نے متعدد کارروائیاں کی ہیں۔

اس حملے کے ایک ہفتے بعد پاکستانی طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے افغان صوبے کنڑ میں 21 مسلح شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔

افغانستان کا صوبہ کنڑ پاکستان کے سرحدی علاقوں سے قریب ہے جہاں مبینہ طور پر پاکستان طالبان کے کمانڈر ملا فضل اللہ مقیم ہیں۔

پاکستان کی حکومت متعدد بار افغانستان کی حکومت سے پاکستانی طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر چکی ہے۔

پشاور میں حملے کے بعد پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے افغانستان کا دورہ کیا تھا اور افغانستان کے صدر اشرف غنی کو وہ شہادتیں مہیا کی تھیں جن کے مطابق ملا فضل اللہ افغانستان سے پشاور کے سکول میں آپریشن کی نگرانی کر رہے تھے اور حملہ آوروں سے مسلسل رابطے میں تھے۔

اسی بارے میں