کیا کرن بیدی تُرپ کا پتہ ثابت ہوں گی؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 65 سالہ کرن بیدی انتخابی مہم میں بہت زیادہ مصروف ہیں، وہ ہر روز پورے شہروں میں انتخابی جلسوں سے خطاب کرتی ہیں

بھارت کی پولیس سے ریٹائر ہو کر سیاست میں قدم رکھنے والی کرن بیدی سنیچر کو دہلی اسمبلی انتخابات کے لیے بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے وزیر اعلیٰ کے عہدے کی امیدوار ہیں۔

بی بی سی کی گیتا پانڈے نے ان کی کامیابی کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ان کی انتخابی مہم میں ان کے ہمراہ سفر کیا۔

فروری کی گرم سہ پہر جب کرن بیدی دہلی کے قلب میں کناٹ پلیس سے اپنی انتخابی مہم کے لیے روانہ ہوئیں تو ان کے ہمراہ ڈھول بجانے اور لوک رقص کرنے والے افراد کے علاوہ ان کے حامی چند سو پر جوش نوجوان بھی موجود تھے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے انتخابی مہم کے دوران نئی دہلی کے ڈھانچے کو بدل کر اسے ایک ’ورلڈ کلاس شہر‘ کے ساتھ خواتین کے لیے محفوظ شہر بنانے کا وعدہ کیا ہے۔

کرن بیدی نے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپنے حامیوں سے کہا ’یہ لڑائی سچ اور جھوٹ کے درمیان ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بی جے پی کو ان انتخابات میں بد عنوانی کے خلاف کام کرنے والے نئی دہلی کے سابق وزیرِ اعلیٰ اروند کیجریوال کی جماعت عام آدمی پارٹی سے سخت مقابلے کا سامنا ہے

’میں پولیس، استغاثہ، والدین اور اساتذہ کو خواتین کے ساتھ ہونے والے جرائم کے خلاف لڑنے کے لیے متحد کروں گی۔ میں اس مقصد کے لیے اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ محنت بھی کروں گی۔‘

خیال رہے کہ نئی دہلی حالیہ برسوں میں متعدد ریپ کیسوں کے حوالے سے زیادہ نمایاں رہا ہے۔

کرن بیدی کے متعدد حامیوں کا کہنا ہے کہ شہر کو ریپ جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے ان جیسی سابقہ سخت پولیس خاتون کی ضرورت ہے۔

دہلی کے ایک کالج کی طلبا زیبا خان کا کہنا ہے کہ کرن بیدی اچھی انسان ہیں اور خواتین کے تحفظ کو بہتر بنانے کےلیے کام کریں گی اور اسی لیے میں انھیں ووٹ دوں گی۔

65 سالہ کرن بیدی انتخابی مہم میں بہت زیادہ مصروف ہیں، وہ ہر روز پورے شہروں میں انتخابی جلسوں سے خطاب کرتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نئی دہلی اسمبلی انتخابات سے قبل کیے جانے والے تقریباً تمام جائزوں کے مطابق عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجروال کے جیتنے کی امید ہے

بھارت کی پہلی خاتون پولیس افسر اور مجرموں کے خلاف سخت رویہ رکھنے کے طور پر مشہور کرن بیدی کو صدر کی جانب سے پولیس بہادری کا تمغہ بھی دیا جا چکا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کرن بیدی نے بھارت کی سابق وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کی گاڑی کو غلط پارکنگ پر ایک کرین کی مدد سے ہٹا دیا تھا۔

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امیت شاہ نے تین ہفتے قبل کرن بیدی کو اپنی پارٹی کی جانب سے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا امیدوار نامزد کیا۔

نئی دہلی میں سنیچر کو ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے بی جے پی کی حکمتِ عملی ان کے منصوبےکے مطابق نہیں جا رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارتیہ جنتا پارٹی نے انتخابی مہم کے دوران نئی دہلی کے ڈھانچے کو بدل کر اسے ایک ’ورلڈ کلاس شہر‘ کے ساتھ خواتین کے لیے محفوظ شہر بنانے کا وعدہ کیا ہے

بی جے پی کو ان انتخابات میں بد عنوانی کے خلاف کام کرنے والے نئی دہلی کے سابق وزیرِ اعلیٰ اروند کیجریوال کی جماعت عام آدمی پارٹی سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

یاد رہے کہ سماجی کارکن انا ہزارے کی قیادت میں بدعنوانی مخالف مہم کے دوران یہ دونوں رہنما کیجریوال اور کرن بیدی ایک دوسرے کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے تھے۔

بی جے پی کی جانب سے وزیرِ اعلیٰ کی نامزدگی حاصل کرنے کے فوراً بعد ان کے مخالف اروند کیجریوال نے کرن بیدی کو مباحثے کا چیلنج دیا جسے انھوں نے مسترد کر دیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ کرن بیدی نے مباحثے سے اس لیے اجتناب برتا کیونکہ وہ عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجروال سے مباحثے میں مقابلہ نہیں کر سکتیں۔

نئی دہلی اسمبلی انتخابات سے قبل کیے جانے والے تقریباً تمام جائزوں کے مطابق عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجروال کے جیتنے کی امید ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے کرن بیدی کو ان انتخابات میں عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجروال کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو کم کرنےکے لیے میدان میں اتارا ہے۔ اگر بی جے پی یہ سمجھتی ہے کرن بیدی ان کا تُرپ کا پتہ ثابت ہوں گی تو ایسا نہیں ہے۔

اسی بارے میں