’پاکستانی اداروں کے دباؤ کی وجہ سے ملک چھوڑنے پر مجبور‘

افغان طالبان کے مشہور کمانڈر منصور داد اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی اداروں کے دباؤ کی وجہ سے وہ پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور اب افغانستان میں اپنے جنگجوؤں کو تربیت دے رہے ہیں۔

ملا داداللہ کی تنظیم دادا اللہ محاذ کے ایک ترجمان شہاب الدین اتل نے افغانستان سے ٹیلی فون پر بی بی سی کو بتایا کہ منصور داداللہ گذشتہ ماہ اپنے خاندان سمیت پاکستان سے نکل گئے تھے۔

منصور داد اللہ نے بی بی سی سے گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ ’پاکستانی اداروں نے ان پر اپنی بات ماننے کے لیے دباؤ ڈالا لیکن انہوں نے اپنے خاندان سمیت پاکستان چھوڑنا پسند کیا۔‘

منصور داد اللہ نے کہا کہ ’مجھے پاکستانی اداروں نے کہا تھا کہ وہ ان کی بات مانیں تاہم میں نے ان سے کہا کہ مجھے کہنے کی بجائے طالبان قیادت سے رابطہ کریں، اور یہ کہ میں اپنے کمانڈروں اور مجاہدین کے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔‘

منصور داد اللہ تقریباً پانچ سال تک پاکستانی سکیورٹی فورسز کی حراست میں رہے اور گذشتہ سال انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔

وہ ان سینئر طالبان کی فہرست میں شامل ہیں جنہیں سابق افغان حکومت کی جانب سے امن کے عمل کو تیز کرنے میں مدد حاصل کرنے کے لیے ان کی رہائی کی درخواست کی تہی۔

منصور داداللہ کافی عرصے سے ضلع ژوپ میں تھے اور سیکورٹی فورسز نے 2008 میں اُن کی رہائش گاہ پرچھاپہ مارا تھا اور انہیں اُن کے ساتھیوں سمیت زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا تھا۔ منصور داداللہ کو اپنے بھائی ملا داد اللہ کے امریکی اور برطانوی فوجوں کی مشترکہ آپریشن میں 2007 میں ہلاک کرنے کے بعد ان کے بھائی کی جگہ جنوبی افغانستان میں کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔

ان کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ طالبان کے خودکش بمبار تیار کرنے کے ماہر ہیں۔ ان کے پاکسانی طالبان کے بانی بیت اللہ محسود کے ساتہ بھی گہرے رابطے تھے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے منصور داد اللہ کے افغانستان واپس چلے جانے کی تصدیق کی ہے تاہم انہوں نے مزید کسی بات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption پاکستان اور افغانستان کے درمیان شدت پسندی کے خلاف جنگ میں تعاون کی نئی فضا سمجھی جاتی ہے اور مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کے نیے صدر کو پاکستانی جرنیل دوستانہ نظر سے دیکھتے ہیں

پاکستانی وزارت خارجہ نے منصور داد اللہ کے الزامات اور دعووں سےمتعلق کیے جانے والے سوالات پر تبصرہ نہیں کیا تاہم پاکستانی سفارتی اہلکار ماضی میں بھی افغان طالبان پر دباؤ کے حوالے سے خبروں کی تردید کرتے رہتے ہیں۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستانی حکام شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضربِ عضب کے بعد یہ بات تسلیم کی تھی کہ کئی طالبان رہنما افغانستان فرار ہو گئے ہیں اور پاکستان اور افغانستان کے اعلیٰ سطحی سکیورٹی حکام گذشتہ تین مہینوں میں ایک دوسرے کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کر چکے ہیں جن کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد دونوں جانب شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں تعاون کو بڑھانا تھا۔

افغانستان چلے جانے کے بعد منصور داد اللہ کا کردار کیا ہو گا؟

اس سوال کے جواب میں منصور داد اللہ نے کہا کہ وہ اپنے بھائی سے منسوب شہید داد اللہ محاذ کو منظم کریں گے۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا یہ محاذ افغان طالبان کا حصہ ہے؟ تو انہوں نے تصدیق کی کہ اُن کا گروہ افغان طالبان کا حصہ رہے گا تاہم وہ طالبان رہنماؤں کے ردِعمل کا جائزہ لیں گے۔

دادا اللہ محاذ کے ایک اور ترجمان رہبر مل نے بی بی سی کو بھیجے گئے ایک تحریری پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ دادا للہ محاذ نے خودکش حملے کرنے کے لیے رضاکاروں کی بھرتیاں شروع کی ہیں اور اس سلسلے میں انہوں کئی دعوے بھی کئے۔

طالبان کے ملٹری کمانڈر ملا داداللہ کی ہلاکت کے بعد منصور دااللہ کا کردار افغان طالبان میں متنازعہ رہا ہے ۔ انہوں نے اپنے بھائی کی ہلاکت کے الزام میں مبینہ طور پر جاسوسی کرنے پرگرفتاری کے بعد کئی افغان طالبان کمانڈروں کو قتل کر دیا تھا۔

طالبان کے امیر ملا محمد عمر نے ایک آڈیو پیغام میں طالبان کمانڈروں کو ہلاک کرنے پر منصور داداللہ کی مذمت کی تھی اور طالبان رہنماؤں سے کہا تھا کہ وہ کسی بھی عہدے کی ذمہ داری گٹھانے کے اہل نہیں ہیں۔

Image caption دولتِ اسلامیہ نے حال ہیں پاکستان اور افغانستان کے علاقے میں اپنے نئے صوبے کے قیام کا اعلان کیا اور اس کی قیادت طالبان کے منحرف کمانڈر حافظ سعید کے سپرد کی

تاہم ایک طالبان رہنما نے بی بی سی کو بتایا کہ رہائی کے بعد طالبان کے سیاسی اور فوجی امور کے موجودہ انچارج ملا اختر منصور نے دیگر رہنماؤوں کے ساتہ منصور دادا اللہ کے ساتہ ملاقات کی تھی اور اختلافات ختم کرنے کے بعد انہیں ہرات صوبے میں طالبان کاگورنر بنایا تھا۔

منصور دادا اللہ نے ہرات کا طالبان کی جانب سے گورنر بننے کی پیشکش کی تصدیق کی اور کہا کہ انہوں نے یہ عہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

دادا اللہ کے حوالے سے افغانستان میں ایسی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ وہ دولت اسلامیہ کے قریب ہوتے جا رہے ہیں تاہم تنظیم کے ترجمان رہبر مل نے اس خبر کی تردید کی ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے گذشتہ دنوں طالبان کے ایک سابق ترجمان حافظ سعید خان کو اس خطے میں جس کا نام انہوں نے خراسان صوبہ رکھا ہے اپنا کمانڈر مقرر کر دیا ہے۔ حافظ سعید اس سے قبل طالبان سے منحرف ہو گئے تھے۔

اس سے قبل شمالی صوبے ہلمند میں دولتِ اسلامیہ کے سیاہ پرچم نظر آئے تھے جہاں طالبان سے منحرف ایک کمانڈر ملا عبدالرؤف نے کہا تھا کہ انھوں نے دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا ان کا واقعی دولتِ اسلامیہ سے کوئی رابطہ ہے یا نہیں۔

تاہم یہ بات اہم ہے کہ خادم کے منصور داداللہ کے ساتہ قریبی مراسم ہیں۔

اسی بارے میں