’وادئ چنبل میں اب ڈاکو نہیں فصلیں پیدا ہوں گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چنبل کا علاقہ سطح مرتفع کا علاقہ ہے جہاں پہاڑیاں اور ٹیلے ہیں

مدھیہ پردیش حکومت نے وادئ چمبل کے علاقے کو جو ڈاکوؤں کی وجہ سے شہرت رکھتا تھا تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب وہاں ریاستی حکومت کی توجہ کے باعث کاشت کاری کی جا رہی ہے اور باغات لگانے کی تیاری ہے۔ پڑھیے شوریٰ نیازی کی رپورٹ بھوپال سے۔

حکومت اس کے لیے مرکز سے مدد چاہ رہی ہے جس کا پیسہ عالمی بینک کے ذریعہ آنا ہے اور اس کام کے مکمل ہونے میں تقریباً پانچ سال لگ سکتے ہیں لیکن مقامی لوگوں میں اس کے بارے میں کوئی خاص امید نہیں ہے۔

مدھیہ پردیش کے چیف سیکرٹری زراعت راجیش راجورا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بھنڈ، مرینا اور شيوپر کے میدان میں ہم لوگ دو لاکھ ہیکٹر زمین پر کام کریں گے۔ اس میں ہر طرح کے کام کیے جائیں گے تاکہ اس علاقے کی ترقی ہو سکے۔ ہماری کوشش ہوگی اس زمین کو کاشت کے قابل بنانا اور اس کام کو اس طرح سے کیا جائے گا کہ یہ پھر سے بنجر ویرانے میں تبدیل نہ ہو۔‘

یہ پورا منصوبہ تقریباً 1100 کروڑ روپے کی مالیت کا ہے جس میں سے 900 کروڑ روپے عالمی بینک کے ذریعہ ریاستی حکومت کے پاس آنے ہیں جبکہ باقی دو سو کروڑ روپے ریاستی حکومت دےگي۔

اس منصوبہ کے تحت زمین کو پہلے برابر کیا جائے گا اور پھر اس میں کھیتی اور باغات لگانے کا کام کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رکن پارلیمان بننے سے پہلے اس علاقے میں پھولن دیوی کا راج ہوا کرتا تھا

اگرچہ حکومت کے اس فیصلے کو مقامی لوگ صحیح نہیں مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کام آسان نہیں ہے اور اسے ہموار کر کے کھیتی اگانے کے اپنے نقصانات ہیں جو علاقے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

ماہرِ ماحولیات انیل گرگ کہتے ہیں ’اس سے پہلے بھی حکومت اس علاقے میں کئی اقدمات کر چکی ہے لیکن کچھ بھی تبدیلی نہیں ہوا۔ اب اگر زمین کو برابر کر کے کاشت کیا جاتا ہے یا فیکٹری لگائی جاتی ہے تو اس سے ماحول کا کوئی تحفظ نہیں ہونا ہے بلکہ نقصان ہی ہونا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کچھ اسی طرح کی رائے ایک اور مقامی رہائشی اجے دوبے کی بھی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ علاقے گھڑیال، مگرمچھ، ڈولفن اور مہاجر پرندوں کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔ ان کا نقصان پہلے ہی غیر قانونی کھدائی کی وجہ سے ہوتا رہا ہے۔ لیکن جب زمین کو ہموار کیا جائے گا تو اس سے نقصان یہ بھی اٹھانا پڑے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ SHURIAH NIAZI

وہیں مقامی لوگوں کو بھی اس اسکیم سے کوئی خاص امید نظر نہیں آتی ہے۔

مقامی کسان بھگوتی نے بتایا کہ ’حکومت نے ان پہاڑیوں کے لیے اس طرح کی کئی اسکیمیں پہلے بھی بنائی ہیں لیکن وہ سب کاغذوں میں ہی رہ گئی اور ہمیں کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا۔ ہمیں لگتا ہے کہ کچھ ہونا نہیں ہے۔ یہ جیسے برسوں سے ہے ویسے ہی رہیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اگرچہ افسر خود ہی مانتے ہیں کہ ان پہاڑیوں کو ہموار کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔

1970 میں ان پہاڑیوں میں ایک منصوبہ شروع کیا گیا تھا اور ہوائی جہاز کے ذریعہ بیج کا چھڑکاؤ کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ بھی کئی اور کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں