’تمنائیں تو بہت مگر پوری نہیں کر پاؤں گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خشونت سنگھ اگر زندہ ہوتے تو اس ماہ سو سال کے ہوتے

دنیا بھارت کے معروف صحافی، ادیب اور دانشور خشونت کے دو روپ کو جانتی ہے۔ ایک وہ خشونت سنگھ جو شراب اور جنسی باتوں کے شوقین ہیں۔ ہمیشہ حسین لڑکیوں سے گھرے رہتے ہیں، بات بات پر لطیفے سناتے اور قہقہے لگاتے ہیں۔ اور دوسرا وہ خشونت جو سنجیدہ مصنف ہے، نہایت شائستہ اور خوش مزاج انسان ہے، چیزوں کی گہرائیوں میں جاتا ہے اور جسے کم لوگ جانتے ہیں۔

ان کی ایک چیز آپ کو فوری طور اپنی طرف کھینچتی ہے اور وہ ہے ان کا اپنا مذاق اڑانے کا حوصلہ۔ ان کے بارے میں ایک قصہ مشہور ہے۔ جب وہ ’ہندوستان ٹائمز‘ کے ایڈیٹر ہوا کرتے تھے تو وہ ہمیشہ مڑے تڑے، پان کی پیک سے اٹے پٹھان سوٹ میں دفتر آیا کرتے تھے۔ ان کے پاس ایک پرانی ایمبیسڈر کار ہوتی تھی جسے وہ خود چلاتے تھے۔

ایک بار جب وہ ’ہندوستان ٹائمز‘ بلڈنگ سے اپنی کار میں باہر نکل رہے تھے تو دو حسین امریکی لڑکیوں نے آواز لگائی، ’ٹیکسی! ٹیکسی! تاج ہوٹل۔‘ اس سے پہلے کہ خشونت کچھ کہہ پاتے، انھوں نے کار کا پچھلا دروازہ کھولا اور اس میں بیٹھ گئیں۔ خشونت نے بغیر کسی رد و کد کے انھیں تاج ہوٹل پہنچایا۔ ان سے سات روپے وصول کیے۔ دو روپے کی ٹپ بھی لی اور پھر اپنے گھر روانہ ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ RAHUL SINGH
Image caption خشونت سنگھ اپنی اہلیہ کے ساتھ۔ ان کی شادی میں محمد علی جناح نے شرکت کی تھی

جب 1998 میں انھیں ’آنیسٹ مین آف دی ایئر‘ کا ایوارڈ ملا تو انھوں نے کہا: ’میں ایمانداری کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ ایمانداری میں دو چیزیں ہونی چاہیے۔ ایک تو کسی پرائے کا مال نہیں لینا اور دوسرا کبھی جھوٹ نہیں بولنا۔ میں نے یہ دونوں ہی کام کیے ہیں۔ مجھے قلم چرانے کی بیماری ہے۔ یوں تو میرے پاس قلموں کا اچھا ذخیرہ ہے لیکن جو بات چوری کے قلم میں ہے وہ خریدنے میں نہیں۔ جب بھی میں کسی کانفرنس میں جاتا ہوں، کوشش کرتا ہوں کہ سب سے پہلے پہنچوں تاکہ وہاں رکھے فولڈرز میں لگے قلموں پر اپنا ہاتھ صاف کر سکوں۔ جہاں تک جھوٹ کی بات ہے میں نے بڑا جھوٹ کبھی نہیں بولا۔ ہاں چھوٹے موٹے جھوٹ کئی بار بولے ہیں۔ مثلاً کسی لڑکی کے حسن کی تعریف کر دی، چاہے وہ خوبصورت نہ بھی ہو، تاکہ اس کا دل خوش ہو جائے۔‘

خشونت کی دوست اور ان کے ساتھ کتاب لکھنے والی حمرہ قریشی کہتی ہیں: ’خشونت سنگھ بہت ہی سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ ایک چیز پكتي تھی۔ دال یا ایک سبزی، دوپہر میں صرف سوپ۔ موبائل انھوں نے کبھی نہیں خریدا اور نہ ہی وہ کمپیوٹر استعمال کرتے تھے۔ کبھی کبھی ہم دونوں لودی گارڈن چہل قدمی کے لیے جاتے تھے لیکن وہ آدھا چکر لگا کر گنبد کی سیڑھیوں کے پاس بیٹھ جاتے تھے اور ہم سے کہتے تھے تمہارا جتنا جی چاہے گھومو۔ چالیس منٹ بعد جب میں واپس آتی تھی تو ان کے چاروں طرف بیس پچیس لوگ بیٹھے ملتے تھے اور وہ ان سے باتیں کر رہے ہوتے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ RAHUL SINGH
Image caption خشونت سنگھ کا شمار بھارت کے سرکردہ صحافیوں میں ہوتا ہے

ان کے بڑبولے پن، جرات رندانہ، جنس و سکاچ کے رسیا کی تصویر کے پیچھے ایک نہایت ہی خوش مزاج انسان تھا جس کی زندگی میں نظم و ضبط کی بہت اہمیت تھی۔ خشوت کے بیٹے اور معروف مصنف راہل سنگھ کہتے ہیں ’وہ صبح چار بجے اٹھ جاتے تھے۔ اپنی چائے خود بناتے تھے۔ پھر دوردرشن (ٹی وی) پر ہرمندر صاحب سے نشر ہونے والے کیرتن سنا کرتے تھے۔ اس کے بعد وہ اپنا کام شروع کرتے تھے۔ پھر ٹھیک بارہ بجے وہ بہت ہلکا لنچ لیتے تھے۔ پھر وہ ایک ڈیڑھ گھنٹے کے لیے سوتے تھے۔ جو لوگ شراب پینا چاہتے تھے وہ سات بجے آتے تھے، لیکن پہلے سے اپائنٹمنٹ لے کر۔ بغیر اطلاع کے آنے پر وہ ملنے سے انکار کر دیتے تھے۔‘

سوراج پال کہتے تھے کہ اگر کبھی وہ وقت سے پہلے ملنے پہنچ جاتے تھے تو باہر چہل قدمی کرکے اپنا وقت گزارتے تھے اور ٹھیک سات بجے ان کے گھر کی گھنٹی بجاتے تھے۔ آٹھ بجے سب کو وہاں سے چلے جانا ہوتا تھا۔ آٹھ بجے وہ کھانا کھاتے تھے اور نو بجے سو جاتے تھے۔ ان کا یہ معمول آخر تک ان کے ساتھ رہا۔

ان کی ایک اور دوست کامنا پرساد کہتی ہیں کہ ’ایک بار اس وقت کے صدر گیانی ذیل سنگھ ان کے یہاں کھانے پر آئے ہوئے تھے اور آٹھ بجنے کے بعد بھی وہ باتوں میں مشغول تھے تو خشوت کی بیوی كول نے ان سے صاف کہہ دیا، گیانی جی، ہن ٹیم ہو گیا۔‘ (اب ٹائم ہو گیا ہے)

تصویر کے کاپی رائٹ Mustafa Quraishi
Image caption خوشنت سنگھ اپنی دوست حمرہ قریشی کے ساتھ

معروف صحافی ایم جے اکبر کو سب سے پہلے خشوت نے ’السٹریٹیڈ ویکلی‘ میں موقع دیا تھا۔ وہ یاد کرتے ہیں ’ستّر کی دہائی میں خشونت سنگھ کے بدن پر ایک ٹی شرٹ ہوتی تھی اور چہرے پر مسکراہٹ۔ انھیں بھدے مذاق سے لوگوں کو جھٹکا دینے میں مزہ آتا تھا۔ ہم اس زمانے میں ٹائمز آف انڈیا میں ٹرینیز تھے اور ٹرینیز کو ہر شعبہ میں بھیجا جاتا تھا۔ میرا الاٹمنٹ السٹریٹیڈ ویکلی میں نھیں ہوا تھا لیکن انھوں نے ضابطے میں تبدیلی کرا کر دو لوگوں کی مانگ کی تھی اور رمیش کے ساتھ مجھے لیا تھا۔ وہاں سے پھر جتنی دور مجھے آگے جانا تھا، گئے۔‘

اکبر کہتے ہیں کہ ’اس زمانے میں اگر معاون ایڈیٹر لندن یا کیمبرج سے پاس نہیں ہوتا تھا تو اسے ٹائمز آف انڈیا میں گھسنے نہیں دیا جاتا تھا۔ اس زمانے میں وہ ٹی شرٹ پہنے کلابہ سے پیدل چل کر آتے تھے۔ میرا خیال ہے ایڈیٹر رہتے ہوئے انھوں نے کبھی بھی قمیض نہیں پہنی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ RAHUL SINGH
Image caption جوانی کے دنوں میں خشونت سنگھ

خشونت کے ایک اور ساتھی جگس كالرا کہتے ہیں کہ ’خشونت انھیں بڑے جتن سے ضرب لگانے والے جملے لکھنے کا فن سكھاتے تھے۔ ان کے پاس ایک سادہ سا منتر تھا: جہاں تک ہو آٹھ حروف سے بڑا لفظ نہ لکھو، آٹھ لفظوں سے بڑا جملہ نہ لکھو اور آٹھ جملوں سے بڑا پیرا نہ لکھو۔‘

خشونت کی دوست حمرہ قریشی کہتی ہیں: ’مجھ میں اور ان میں کوئی چیز یکساں نہیں تھی۔ میں ٹی ٹوٹلر تھی (شراب بالکل نہیں پیتی تھی) ان کی طرح سوشل بھی نہیں تھی لیکن یہ شخص میرا ہمیشہ خیال رکھتا تھا۔ گڑگاؤں منتقل ہونے کے بعد جب میں ایک ہفتے تک ان کے یہاں نہیں جاتی تھی تو ان کا فون آ جاتا تھا کہ سب ٹھیک تو ہے نا۔ انھیں پتہ تھا کہ میرے یہاں کوئی نوکر یا باورچی نہیں تھا۔ جب بھی میں ان کے یہاں جاتی تھی تو وہ اپنے باورچی سے کہتے تھے کہ حمرہ کے لیے کھانا پیک کر دو۔ میں ان کے ساتھ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتی تھی۔‘

خشونت کے بیٹے راہل سنگھ کہتے ہیں کہ بظاہر خشونت جس قدر بھی ماڈرن نظر آنے کی کوشش کریں، اندر سے وہ ’دقیانوسی اور قدامت پسند‘ تھے۔ وہ کہتے ہیں: ’ہمارے گھر کی اوپر کی منزل پر ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی رہتی تھی۔ وہ ایک افغان ڈپلومیٹ کی لڑکی تھی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کی طرف متوجہ تھے۔ جب بھی اس کے والدین باہر جاتے وہ مجھے فون کر دیتی اور میں اس کے گھر پہنچ جاتا۔ وہ بھی کبھی کبھی میرے گھر آتی تھی۔ اس کا اس طرح سے آنا جانا میرے والد سے پوشیدہ نہیں رہا اور انھوں نے مجھے ڈانٹ پلائی کہ کسی دن پکڑے گئے تو اس لڑکی کا باپ تمہیں زندہ نہیں چھوڑے گا۔‘

راہل کہتے ہیں: ’خدا پر ایمان نہ ہونے کے باوجود انھیں اپنی سکھ شناخت پر بہت فخر تھا۔ جب میں نے اپنے بال کٹوائے تو وہ مجھ سے بہت ناراض ہو گئے تھے لیکن اس کے باوجود انھیں کسی رسم یا پوجا وغیرہ میں یقین نہیں تھا اور وہ علم نجوم کو لغو خیال کرتے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption خشونت سنگھ وقت کے بہت پابند تھے اور انھیں اپنی سکھ شناخت پر بہت فخر تھا

خشونت سنگھ کی شخصیت کے بہت سارے رنگ تھے۔ اردو شاعری، تاریخ اور قدرت کے مزاج میں ان کی دلچسپی تھی۔ ان کے لطيفے اور ان کی حاضر جوابی اور ان کی غیر معمولی توانائی انھیں بھیڑ سے الگ کرتی تھی۔ اپنی زندگی کے آخری لمحے تک وہ جواں دل رہے۔

جب وہ 90 سال کے ہوئے تو بی بی سی نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا اب بھی کچھ کرنے کی تمنا ہے، تو ان کا جواب تھا: ’تمنا تو بہت رہتی ہے دل میں۔ کہاں ختم ہوتی ہے۔ جسم سے بوڑھا ضرور ہو گیا ہوں لیکن آنکھ اب بھی بدمعاش ہے۔ دل اب بھی جوان ہے۔ دل میں خواہشات تو رہتی ہیں ۔۔۔ آخری دم تک رہیں گی ۔۔۔ پوری نہیں کر پاؤں گا، یہ بھی مجھے معلوم ہے۔‘

اسی بارے میں