کیجریوال کا پلِ صراط

Image caption کیجریوال کی عام آدمی پارٹی کو تاریخی جیت حاصل ہوئي ہے

بھارت میں عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نےدہلی پر قبضہ تو کر لیا لیکن ان کی اصل آزمائش اب شروع ہو گی اور ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہو گا کہ وفاقی حکومت سے ٹکراؤ کا راستہ اختیار کیے بغیر حکومت کیسے چلائی جائے۔

یہ کام آسان نہیں ہو گا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور اروند کیجریوال میں غیرمعمولی شخصی مماثلت بھی ہے۔

جس طرح اس وقت نریندر مودی بی جے پی کا واحد چہرہ بنے ہوئے ہیں اسی طرح عام آدمی پارٹی بھی صرف اروند کیجریوال کے اردگرد گھومتی ہے۔ دونوں کے سیاسی نظریات تو بالکل مختلف ہیں لیکن کام کرنے کا انداز نہیں۔ دونوں زیادہ صبر سے کام لینے میں یقین نہیں رکھتے، ضابطوں کی زیادہ پروا نہیں کرتے اور جب ایک مرتبہ کسی بات پر اڑ جائیں تو آسانی سے پیچھے ہٹنا پسند نہیں کرتے۔

گذشتہ برس جب اروند کیجریوال وزیر اعلیٰ بنے تھے تو ایک تجزیہ نگار نے کہا تھا کہ ان کی ضد ان کی سب سے بڑی طاقت بھی ہے اور سب سے بڑی کمزوری بھی۔

اسی ضد کی وجہ سے ہی وہ عام آدمی پارٹی کو اقتدار تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن جب یہ ضد ’میں جو کہہ رہا ہوں وہ ہی صحیح ہے‘ کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو یہ ان کی سب سے بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Hindi
Image caption بی جے پی کو اس قسم کی شکست ہوگی ایسی کسی کو امید نہیں تھی

اسی وجہ سے صرف ایک سال کے عرصے میں ان کے کئی قریبی ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ کر چلے گئے۔ شازیہ علمی پارٹی کا واحد مسلمان چہرہ تھیں وہ ناراض ہوکر بی جے پی میں چلی گئیں۔ یوگیندر یادو پارٹی کی بنیاد ڈالنے والے اور اسے نظریاتی سمت دینے والے اہم ترین رہنماؤں میں شامل تھے لیکن چند ماہ قبل انھوں نے کیجریوال پر پارٹی کو ایک ’سپریمو‘ کی طرح چلانے کا الزام لگایا تھا اور ہندی کے شاعر کمار وشواس بھی پارلیمانی انتخابات کے بعد سے ناراض ہیں۔

اسی طرح سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل پرشانت بھوشن بھی اب اتنے سرگرم نہیں ہیں جتنے چند ماہ پہلے تک ہوا کرتے تھے۔

ان سبھی رہنماؤں نے بالواسطہ یا براہ راست دو بنیادی الزام لگائے ہیں: ’پارٹی جمہوریت کی جڑیں مضبوط کرنے کا دعوی تو کرتی ہے لیکن خود ان پر عمل نہیں کرتی اور تمام فیصلے کیجریوال اور ان کے چند مخصوص ساتھیوں کا ایک گروپ کرتا ہے۔‘

لیکن اس الیکشن میں کیجریوال کچھ بدلے ہوئے نظر آئے۔ مثال کے طور پر انھوں نےوہ زبان استعمال نہیں کی جو پہلے الیکشن میں کھل کر بولی جا رہی تھی: ’تمام سیاستدان چور یا بے ایمان ہیں، غدار ہیں۔۔۔ہم سے صاف شفاف کوئی نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کیجریوال نے دہلی کی عوام سے بہت سے وعدے کر رکھے ہیں

اس مرتبہ بھی انھوں نے اپنے انتخابی منشور میں بڑے بڑے وعدے کیے ہیں لیکن کسی ڈیڈلائن کا اعلان نہیں کیا ہے، اس لیے ہوسکتا ہے کہ وعدوں کو عملی شکل دینے میں اس طرح کی جلدبازی نہ دکھائی جائے جیسی گذشتہ برس نظر آئی تھی۔ لیکن انتخابی مہم کے دوران جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ جو وعدے انھوں نے کیے ہیں انھیں پورا کرنے کے لیے پیسے کہاں سے آئيں گے تو مسلسل ان کا جواب تھا کہ اگر بدعنوانی پر قابو پا لیا جائے تو پھر پیسے کی کمی نہیں ہو گی۔

انتخابی مہم کے دوران تو یہ جواب چلتا ہے، لوگ خوش بھی ہوتے ہیں، لیکن جب بڑے پروجیکٹوں پر عمل درآمد کا وقت آئے گا اور سرمائے کی ضرورت ہوگی تو وفاقی حکومت سے تعلقات ہی کام آئیں گے۔

اس لیے کیجریوال کو یہ مشکل فیصلے کرنے ہوں گے کہ کیا وہ نریندر مودی کی حکومت سے مستقل محاذ آرائی کی پالیسی اختیار کریں گے، جیسا انھوں نے کانگریس کے خلاف کی تھی، یا مشروط یا محدود پیمانے پر تعاون کی پالیسی؟

مختصر یہ کہ کیا وہ حزب اختلاف کے رہنما سے حکمراں تک کا سفر کامیابی کے ساتھ طے کر پائیں گے یا نہیں؟ کیا وہ پھر اپنی سادگی ثابت کرنے کے لیے ’چھوٹی گاڑی، چھوٹے گھر یا میٹرو سے سفر‘ کی بحث میں پڑیں گے یا پھر انھوں نے گذشتہ برس کی اس علامتی اور بہت سے تجزیہ نگاروں کے مطابق غیر ضروری بحث سے کچھ سبق سیکھا ہے؟

Image caption اس انتخابی نتیجے کے بعد بی جے پی کے حامیوں میں مایوسی نظر آئی ہے

حکومت میں آنے کے بعد حکمرانوں کی زبان بدل جاتی ہے، نریندر مودی اس کی تازہ ترین مثال ہیں۔ وہ بہت بڑے وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے، صرف نو مہینوں میں بہت سے غریب بدظن ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ اروند کیجریوال کی کامیابی کی یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے۔

کیجریوال نے بھی عوام سے صاف شفاف سیاست کا وعدہ کیا ہے، کچے مکانوں کو پکے میں بدلنے کا وعدہ، نئے سکول کالجوں کی تعمیر کا وعدہ، سستی بجلی اور مفت پانی کا وعدہ۔۔۔ عام آدمی نے اس مرتبہ عام آدمی پارٹی پر اعتماد کیا ہے، اور جیسا ہمیشہ ہوتا ہے پہلے وہ انتظار کرے گا اور پھر سوال۔

اروند کیجریوال کو پل صراط سے گزرنا ہوگا اور آج سے ان کی الٹی گنتی شروع ہوجائے گی۔

اسی بارے میں