کشمیریوں کا 9/11

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کشمیری افضل گورو کی دوسری برسی پر کشمیر میں احتجاج کر رہے ہیں

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہر سال نو سے گیارہ فروری تک عام زندگی معطل کیوں ہوتی ہے؟

عالمی حافظہ میں نائن الیون کی اپنی اہمیت اور پس منظر ہے۔ گیارہ ستمبر سنہ 2001 میں بارود سے لیس طیارے امریکہ کے ٹوئن ٹاورز اور پینٹاگون سے ٹکرائے۔

اس ہیبت ناک دن کی تاریخ اب نائن الیون سے موسوم ہے۔ 31 برس قبل سنہ 1984 کو کشمیریوں کے پہلے مسلح رہنما محمد مقبول بٹ کو نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی پر لٹکایا گیا اور جیل کے احاطے میں ہی دفن کیا گیا۔

یہ 11 فروری کا دن تھا۔ 31 سال بعد نو فروری کو ایک اور کشمیری اسی جیل میں ٹھیک اسی انجام سے دوچار ہوگیا۔ ان کا نام افضل گورو تھا۔

پھانسی کے وقت افضل کی عمر 44 برس تھی۔ وہ شمالی قصبہ سوپور کے دوآبگاہ گاؤں کی جاگیر بستی میں رہتے تھے۔

یہ بستی 25 سال سے فوجی حصار میں ہے اور گاوں کا راستہ فوجی کیمپ سے ہوکر گزرتا ہے اور بستی کا دروازہ نماز مغرب کے بعد بند کر دیا جاتا ہے۔

مقبول بٹ کی پھانسی کے بعد کشمیر کے نوجوانوں میں ہند مخالف جذبات شدید ہوگئے۔

مقبول بٹ کے ساتھی شبیر شاہ کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے ایک سال بعد ہی نوجوانوں نے مسلح تربیت کے لیے پاکستان کا رخ کرنا شروع کیا تھا۔ تاہم سنہ 1987 میں علیحدگی پسندوں کو انتخابات میں جیتنے کے باوجود ناکام قرار دینے کا متنازع سرکاری اعلان یہاں مسلح شورش کے خونی دور کی شروعات کا موجب بنا۔

کچھ ایسا ہی ماحول سنہ 2013 میں تھا۔ پاکستان میں گو نئی حکومت وجود میں آ چکی تھی لیکن کشمیر میں مسلح شورش کی حمایت کے بارے میں سابق حکمران جنرل مشرف کی پالیسی کے باعث یہاں مسلح مزاحمت کا اثر زائل ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔

سنہ 2008 سے لے کر سنہ 2010 تک تین سال کشمیریوں نے غیرمسلح احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا۔

نہتے مظاہرین پر پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں نے فائرنگ کی اور مختلف واقعات میں قریب 200 نوجوان مارے گئے۔

تاہم حالات پھر بحال ہوگئے، یہاں تک کہ سنہ 2013 میں اچانک افضل گورو کو مقبول بٹ کی طرح ہی پھانسی دی گئی اور جیل میں ہی دفن کر دیا گیا۔

لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یاسین ملک کہتے ہیں ’اب بھلے ہی پاکستان کی پالیسی کچھ اور ہو لیکن افضل گورو کی پھانسی نے عین اسی طرح نئی نسل کو انتقام پر ابھارا ہے جس طرح ہم لوگ مقبول بٹ کی پھانسی کے بعد دیوانہ وار مسلح مزاحمت کے لیے آمادہ ہوگئے تھے۔‘

Image caption افضل گورو کی پھانسی پر مسلسل کئی دنوں تک احتجاج جاری کیے

تجزیہ کار عبدالقیوم کہتے ہیں ’اب تو فروری کی نو اور گیارہ تاریخ کشمیریوں کا اپنا نائن الیون ہے۔ بدقسمتی ہے کہ نیو یارک کا نائن الیون رونما ہوا تو پوری دنیا جنگ پر آمادہ ہوگئی لیکن ہمارے نائن الیون پر عالمی طاقتیں خاموش ہیں۔ دو کشمیریوں کو پھانسی کے بعد جیل میں دفن کیا گیا۔ اب کشمیری ان کی لاشوں کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن امریکہ سے لے کر یورپ تک کوئی زبان نہیں کھولتا۔‘

عبدالقیوم اور ان جیسے متعدد مبصرین کو خدشہ ہے کہ یہ صورت حال کشمیریوں کو کسی بڑے طوفان کا حصہ بھی بنا سکتی ہے۔

خیال رہے کہ افضل گورو کے بعد درجنوں ایسے مسلح شدت پسند پولیس اور فوج کے ساتھ تصادم میں مارے گئے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور آسودہ حال خاندانوں کےچشم و چراغ تھے۔

تازہ واقعہ وسطی کشمیر کے پکھر پورہ سے تعلق رکھنے والے شکیل وانی کا ہے۔

وہ تاریخ اور صحافت میں الگ الگ ڈگریاں حاصل کرچکے تھے اور انھیں سرکاری نشریاتی ادارہ ’دُور درشن‘ میں اعلیٰ کارکردگی کے لیے حکومت ہند نے اعزاز سے بھی نوازا تھا۔

وہ گذشتہ ہفتے ترال میں ایک مسلح تصادم کےدوران ہلاک ہوگئے۔ ان پر پولیس کے ایک حفاظتی دستہ پر حملہ کر کے ہتھیار چھیننے کا الزام تھا۔

لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک کہتے ہیں ’یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں کا نوجوان انتقام کے جذبات میں غرق ہو رہا ہے اور اسے اس انتہا تک پہنچانے کے لیے حکومت ہند ذمہ دار ہے۔‘

تجزیہ نگار عبدالقیوم کہتے ہیں ’امریکہ اور یورپ نے اپنے نائن الیون کے خلاف کمر باندھی اور طویل جنگیں لڑیں لیکن کشمیریوں کا نائن الیون خطرناک مسقبل کے اشارے دے رہا ہے۔ آخر کب تک کشمیری یہ دہائی دیتے رہیں گے کہ کم از کم ہمارے مردہ رہنماوں کو تو جیل سے آزاد کردو؟‘

اسی بارے میں