کرناٹک میں ٹرین پٹڑی سے اتر گئی، 11 مسافر ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارت میں روزانہ دو کروڑ 30 لاکھ افراد ریل گاڑیوں پر سفر کرتے ہیں۔

بھارت میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی جنوبی ریاست کرناٹک میں ریل گاڑی کے حادثے میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

بھارتی ریلوے کے اہلکاروں کے مطابق یہ حادثہ جمعے کو کرناٹک اور تمل ناڈو کی سرحد پر ہوسر کے علاقے میں ہوا۔

ریلوے کے یونین وزیر سریش پھربھو کا کہنا ہے کہ حادثہ ریل گاڑی کے ٹریک پر گری چٹان سے ٹکرانے کے نتیجے میں پیش آیا اور بنگلور سے ارناکلم جانے والی انٹر سٹی ایکسپریس کی تین بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔

ایڈیشنل ڈی جی پی ریلوے، آر پی شرما نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے 11 ہلاکتوں کی تصدیق کی اور خدشہ ظاہر کیا کہ مرنے والوں کی تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔

حادثے میں زخمی ہونے والے 17 مسافروں کو بنگلور کے مختلف ہسپتالوں میں داخل کروا دیا گیا ہے۔

یونین وزیر نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور متعلقہ حکام سے رابطے میں بھی ہیں۔

حادثے کا شکار ہونے والی ٹرین پر سوار ونے نامی ایک مسافر نے بتایا کہ ’میں كويبٹور جانے کے لیے صبح چھ بجے ٹرین پر سوار ہوا۔ میری آنکھ لگ گئی تھی کہ ایک جھٹکا لگا اور میں نے دیکھا کہ لوگ گر رہے ہیں۔ میں نے ایمرجنسی کھڑکی سے نکلنے کی کوشش کی، پر وہاں کافی دھواں بھرا تھا۔ میں کود کر ٹرین سے باہر نکلا۔‘

بھارت میں ریل کے نظام کا شمار دنیا کے سب سے بڑے ریل نیٹ ورکس میں ہوتا ہے اور روزانہ دو کروڑ 30 لاکھ افراد ریل گاڑیوں پر سفر کرتے ہیں۔

ملک میں ریل کے حادثات عام ہیں جن میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوتے ہیں۔

گذشتہ برس کے دوران ہی بھارت میں ریل کے پانچ بڑے حادثے ہوئے تھے جن میں سینکڑوں افراد مارے گئے تھے۔

سنہ 2012 میں جاری کی جانے والی ایک سرکاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بھارت میں ہر سال تقریباً 15 ہزار افراد مختلف حادثات میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔

رپورٹ میں خراب حفاظتی معیار کی وجہ سے ہونے والی ان اموات کو ایک طرح کا قتل عام قرار دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں