نئی دہلی میں مشنری سکول پر ایک اور حملہ

Image caption دو ہفتےقبل نئی دہلی کی عیسائی برادری نے اپنی عبادت گاہوں اور اداروں پر حملے اور حملہ آوروں کو گرفتار نہ کیے جانے کے خلاف احتجاج کیا تھا

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں عیسائی مشنریوں کے ایک سکول پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا ہے۔

گذشتہ تین مہینوں میں نئی دہلی میں عیسائیوں کی عبادت گاہوں اور اداروں پر یہ اس نوعیت کا چھٹا حملہ ہے۔ بھارت کی مذہبی اقلیتوں کو شک ہے کہ یہ حملے سخت گیر ہندو تنظیموں کی ایما پر کیے جا رہے ہیں۔

تازہ ترین حملے میں کل رات جنوبی دہلی کے وسنت وہار کے علاقے میں ہولی چائلڈ آگزیلیم سکول کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جمعرات کی رات کئی نقاب پوش افراد سکول کے احاطے میں داخل ہوئے اور وہاں نصب سی سی ٹی وی کیمرے کو توڑ دیا۔

نامعلوم حملہ آوروں نے اس کے بعد پرنسپل کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی اور سکول کی املاک کو نقصان پہنچایا۔

اس واقعے کے بعد سکول کی انتظامیہ نے جمعے کو سکول بند کر کے طلبہ کو واپس گھر بھیج دیا۔

پولیس کےاعلیٰ افسران اس واقعے کی تفتیش کر رہے ہیں۔

نئی دہلی کے نو منتخب وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نےاس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دارالحکومت میں اس طرح کی مذموم حرکت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

خیال رہے کہ کیجریوال نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ کے طور پر سنیچر کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

عیسائی برادری کے ایک ترجمان فادر ڈومنیک امینویل نے سکول پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے پولیس کی تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

انھو‍ں نے کہا کہ نئی دہلی میں گذشتہ تین مہینوں میں یہ چھٹا حملہ ہے، تاہم پولیس ان واقعات کو چوری کا واقعہ بتا کر ہمارے اداروں پر ان حملوں کو رد کرتی رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دلچسپ بات یہ ہے ان واقعات میں نقدی اور قیمتی چیزیں اپنی جگہ موجود ہوتی ہیں۔

فادر ڈومینیک نے کہا: ’بنیاد پرست اور انتہا پسند ہمارے اداروں پر جتنے حملے کریں گے، اپنے عقیدے میں ہمارا یقین اتنا ہی پختہ ہو گا۔‘

گذشتہ ہفتے ایک ملحقہ علاقے وسنت گنج میں تخریب کاروں نے ایک چرچ میں توڑ پھوڑ کی تھی اور چرچ کے مقدس تبرکات زمین پر پھینک دیے تھے۔

دو ہفتے قبل نئی دہلی کی عیسائی برادری نے اپنی عبادت گاہوں اور اداروں پر حملوں اور حملہ آوروں کو گرفتار نہ کیے جانے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

اسی بارے میں