افغان حکومت کو انتخابی اصلاحات میں ناکامی کا سامنا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ملک کے آئین کے مطابق اس سال انتخابات کا انعقاد ضروری ہے

افغانستان میں حکومت اور ملک کے انتخابی ادارے کے درمیان ووٹنگ کے نظام میں مجوزہ اصلاحات کے بارے میں اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔

پارلیمان کے ایوان زیریں جسے ’ولسی جرگہ‘ کہا جاتا ہے کے انتخابات ملکی آئین کے مطابق جون میں ہونے چاہیں۔

ملک کے آئین کے مطابق اگر انتخابات میں ایک سال سے کم عرصہ رہ گیا ہو تو کسی قسم کی انتخابی اصلاحات نہیں کی جاسکتیں۔

خیال رہے کہ صدر اشرف غنی اور ان کے اتحادی عبداللہ عبداللہ جن کا سرکاری عہدہ چیف آپریٹنگ آفیسر ہے دونوں اس وعدے کے ساتھ حکومت میں آئے تھے کہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے انتخابات سے پہلے ووٹنگ کے نظام میں اصلاحات کی جائیں گی۔

لیکن آزاد الیکشن کمیشن (آئی ای سی) اسی سال پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کر رہا ہے۔

آئی ای سی کے سربراہ احمد یوسف نورستانی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اگرچہ وہ اس سال ستمبر تک انتخابات کو موخر کرسکتے ہیں مگر اس سے زیادہ تاخیر نہیں کی جاسکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پارلیمنٹ کا وقت پورا ہو چکا ہے، اس کو اب جانا پڑے گا۔‘

انتخابی اصلاحت کا حوالہ دیتے ہوے انھوں نے کہا کہ ’حکومت قانون کو روند کر ہی اب یہ اصلاحت لا سکتی ہے۔‘

Image caption بین الاقوامی عطیہ دہندگان نظام میں اصلاح کے بغیر کسی بھی مزید انتخابات کے لئے رقم فراہم نہیں کریں گے

اس صورتحال نے بہت سے مسائل پیدا کر دیے ہیں ان میں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان انتخابات کے لیے پیسے کون دے گا۔

گزشتہ سال دونوں انتخابات اور ان میں دھاندلی کی شکایت کے بعد ایک جامع آڈٹ کے لیےفنڈز فراہم کرنے والے عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ وہ نظام میں اصلاح کے بغیر کسی بھی مزید انتخابات کے لیے رقم فراہم نہیں کریں گے۔

انتخابی دھوکہ دہی کے امکان کو کم کرنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہوگا کہ ایک نیا ووٹر رجسٹر بنایا جائے۔

خیال رہے کہ موجودہ طریقہ کار کے تحت ووٹ ڈالنے کے لیے ووٹروں کو کسی خاص مقام پر نہیں جانا پڑتا اور وہ 2001 کے بعد سے جاری کردہ کسی بھی کارڈ کو کسی بھی پولنگ سٹیشن میں ووٹ ڈالنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے صدارتی انتخابات کے دوران شہر کے مقبول پولنگ اسٹیشنوں پر افراتفری پھیلی تھی اور بیلٹ پیپرز کے ختم ہوجانے کے باعث بہت سے لوگ ووٹ دینے کے حق سے محروم ہو گئے تھے۔

2001 سے تین دفعہ ووٹروں کا اندراج اور تقریباً دو کڑوڑ انتخابی پرچیوں کا اجرا کیا جا چکا ہے۔ایک اندازے کے مطابق ملک میں ووٹروں کی تعداد ایک کڑوڑ بیس لاکھ کے لگ بھگ ہے، اضافی انتخابی کارڈز واضع طور پر ممکنہ انتخابی دھاندلی کی وجہ بن سکتے ہیں۔ کچھ اندازوں کے مطابق ایک مکمل الیکٹرانک شناخت کا نظام متعارف کرانے کے لیے 10 سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

اصلاحات کے لیے مہم چلانے والے نادر نادری کا کہنا ہے کہ ’ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ انتخابات کو طویل عرصے کے لیے موخر کیا جائے، ووٹروں کی مکمل تازہ رجسٹریشن کے علاوہ دیگر دوسری اصلاحات بھی کی جاسکتی ہیں جو انتخابات کو صاف وشفاف بنانے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں۔‘

وقت پر انتخابات کرانے کی آئینی پابندی کے بارے میں نادری کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ آئین کے تحت انتخابات اسی سال منعقد ہونا ضروری ہیں مگر آئین انتخابات کے صاف وشفاف انعقاد کا بھی مطالبہ کرتا ہے جو اصلاحات کے بغیر ممکن نہیں ہے۔‘

لیکن دو سرکردہ سیاستدانوں کے درمیان اس سلسلے میں واضح اختلاف ہے۔

عبداللہ عبداللہ اصرار کر رہے ہیں کہ مکمل اصلاحات کے بغیر انتخاب نہیں ہونے چاہیں، مگر دوسری جانب اشرف غنی کے نائب صدر محمد سرور دانش نے کہا ہے کہ جامع اصلاحات کی ضرورت نہیں ہے۔

انتخابات کے بعد سے افغانستان پہلے ہی سیاسی تعطل کا شکار ہے اور اصلاحت میں ناکامی کی وجہ سے ملک میں عوامی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔

یاد رہے کہ ابھی کابینہ کے وزرا کی تعداد بھی مکمل نہیں ہے اور ملک میں جاری غیر یقینی صورتحال نے تجارت کو مفلوج کر دیا ہے جس کا معیشت پر تباہ کن اثر پڑا ہے۔

اسی بارے میں