بھارت میں ریپ کے ملزم سے متاثرہ لڑکی کی شادی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption عدالت کے حکم پر شادی کی تقریب جیل میں ہوئی

بھارت کی شمالی ریاست اوڑیسہ میں ایک لڑکی نے اس شخص کے ساتھ شادی کی ہے جس پر اس نے مبینہ طور پر ریپ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

لڑکی کے خاندان کے مطابق ان کے پاس اس کے علاوہ ’کوئی اور چارہ نہیں‘ تھا۔

لڑکی کے والد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا خاندان ضمانت پر رہا ہونے والے ملزم کے خلاف دائر درخواست واپس لینے پر سوچ رہا ہے۔

اس سے قبل اس لڑکی نے بھارتی ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ شادی ان کی مرضی سے ہو رہی ہے۔

ریپ اور دیگر جنسی جرائم جیسے موضوعات پر بھارت میں اب بھی کھل کر بات نہیں کی جاتی۔

متاثرین کے لیے شادی کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور ان پر اکثر اوقات یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ ریپ کی ذمہ دار بھی وہ ہی ہیں۔

لڑکی کے والد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس اپنی بیٹی کی شادی مبینہ طور پر ریپ کرنے والے مرد کے ساتھ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا: ’اس کی ساری زندگی برباد ہو جاتی اور ہمیں تمام عمر اس شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔‘

شادی کی یہ تقریب 28 جنوری کو اوڑیسہ کے دارالحکومت بھوبنیشور میں واقع جھاڑپڑا جیل میں ادا کی گئی جہاں یہ مرد گذشتہ سال کے شروع میں ریپ کے الزام میں قید ہے۔

ایک جج نے الزام عائد کرنے والی لڑکی اور ملزم کی درخواست پر جیل حکام کو شادی کی اس تقریب کے انعقاد کے حکم دیا تھا۔

’میرا ذاتی فیصلہ‘

بھارتی اخبار دی ٹائمز آف انڈیا کے مطابق لڑکی کا کہنا تھا: ’اس کے ساتھ شادی کرنے کا فیصلہ میرا اپنا ہے۔ ہمارے ماں باپ بھی اس پر راضی ہیں۔ میں پرامید ہوں کہ ہماری زندگی اچھی گزرے گی۔‘

دولہا کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے اور اب وہ اپنی بیوی کے خاندان کے ساتھ رہتے ہیں۔

دسمبر 2012 میں دہلی میں ایک بس میں گینگ ریپ کے واقعے سے اس مسئلے کے بارے میں عوامی غم و غصے میں اضافہ ہوا ہے اور کئی روز تک جاری رہنے والے عوامی احتجاج کے بعد ریپ کے جرم میں زیادہ سخت قانون سازی کی گئی تھی۔

بھارت میں ریپ کے واقعات

5 فروری 2015: ہریانہ میں ذہنی طور پر معذور نیپالی خاتون سے گینگ ریپ کے الزام میں آٹھ مرد گرفتار ہوئے۔

3 جنوری 2015 :ایک جاپانی سیاح حاتون کے اغوا اور ریپ کے الزام میں پانچ مرد گرفتار ہوئے۔

4 اپریل 2014 :ممبئی میں ایک23 سالہ فوٹو جرنلسٹ کے ریپ کے جرم میں تین مردوں کو عدالت نے پھانسی کی سزا دی

23 جنوری2014 : مشرقی بنگال میں ایک لڑکی کے گینگ ریپ میں ملوث ہونے کے الزام میں 13 افراد کی گرفتاری۔ گینگ ریپ کا حکم مبینہ طور پر گاؤں کے بڑوں نے لڑکی کے ایک اور مرد کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے دیا۔

15 جنوری 2014 : ایک ڈینش خاتون کا مبینہ گینگ ریپ جو دہلی میں اپنے ہوٹل کا راستہ بھول گئی تھی۔

17 ستمبر 2013 : آسام میں 5 نوجوان ایک 10 سالہ بچی کے مبینہ گینگ ریپ کے الزام میں گرفتار۔

4 جون 2013 : ہماچل پردیش میں ایک 30 امریکی حاتون کا گینگ ریپ۔

30 اپریل 2013 : مدھیا پردیش میں ایک پانچ سالہ بچی کی گینگ ریپ کا نشانہ بننے کے دو ہفتے بعد ہلاکت۔

16 دسمبر 2012 : دہلی میں ایک بس میں ایک طالبہ سےگینگ ریپ کے واقعے کے بعد ملک بھر میں غصے اور احتجاج کی لہر دوڑ گئی۔

اسی بارے میں