ملک، سیاست، مردانگی اور پیار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

گذشتہ ہفتے جب دہلی اسمبلی کی نئے لیڈر اروند کیجریوال نے اپنی ایک تصویر ٹویٹ کی جس میں وہ اپنی اہلیہ سے بغل گیر ہو رہے ہیں، تو اس تصویر نے ہندوستانی سیاست میں ایک چھوٹی سی نئی تاریخ مرتب کر دی۔ بی بی سی ہندی کی روپا جھا کہتی ہیں کہ انھیں یہ تصویر دیکھ کر دکھ بھی ہوا اور رشک بھی۔

تصور کریں کہ آپ وہ کھیل کھیل رہے ہیں جس میں آپ سے کہا جاتا ہے کہ ایک لفظ کے جواب میں آپ کے ذہن میں کیا آتا ہے۔ اگر میں کہوں ’ہندوستانی سیاست‘ تو اس کے جواب میں آپ کے ذہن میں کیا آئے گا۔ میرا خیال ہے کہ آپ کہیں گے ’جارحیت اور غصہ۔‘

’پیار‘؟

یقیناً بھارتی سیاست کے جواب میں آپ کے ذہن میں لفظ ’پیار‘ نہیں آئے گا۔

لیکن اس ہفتے بھارتی سیاست میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس سے لگتا ہے کہ اب ’بھارتی سیاست‘ کے جواب میں شاید آپ کے ذہن میں بھی لفظ ’پیار‘ آئے ہی جائے۔

اور اس تبدیلی کے لیے میں جس شخص کا شکریہ ادا کروں گی اس کا نام ہے اروند کیجریوال۔ جی ہاں وہی کیجریوال جنھوں نے بھارت میں بدعنوانی کے خلاف علم بلند کیا اورگذشتہ ہفتے دلی کی اسمبلی میں تقریباً تمام کی تمام نشستیں جیت کر سب کو حیران کر دیا۔

جب یہ واضح ہو گیا کہ وہ اتنی زیادہ بھاری اکثریت سے انتخابات جیتنے جا رہے ہیں تو انھوں نے ایک تصویر ٹویٹ کی جس میں وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ بغلگیر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وہ ہر روز میری ہمت بڑھاتی ہیں۔ وہ مجھے ایک اچھا انسان اور اچھا صدر بناتی ہیں: صدصر اوباما

ٹویٹ کے ساتھ انھوں نے جو دوسری تصویر شئر کی اس میں کیجریوال نے سنیتا کے کاندھے پر ہاتھ رکھا ہوا ہے اور نیچے لکھا ہے: ’شکریہ سنیتا‘۔

تصویر میں ان کی اہلیہ، جو خود ایک سرکاری افسر ہیں، اپنے میاں کے ساتھ قدرے سمٹی ہوئی کھڑی ہیں اور شرما رہی ہیں۔ اگلے تصویر میں کیجریوال اپنی اہلیہ سے بغلگیر دکھائی دیتے ہیں۔

مردانگی اور معاشرے کے امیر طبقے کے آداب سے بھرپور ہندوستانی سیاست میں کیجریوال کا اپنی اہلیہ سے بغلگیر ہونا ایک ایسا منظر تھا جسے دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ یہ تصویر نزاکت سے لبریز ایک ایسے لمحے کی عکاس ہے جو ہمارے ہاں بہت کم دکھائی دیتا ہے۔

اور سونے پر سوہاگہ یہ کہ اروند کیجریوال نے اپنے عہدے کا حلف بھی ’ویلنٹائنز ڈے‘ پراٹھایا۔

مسٹر کیجریوال کی ’عام آدمی پارٹی‘ کے زیادہ تر سپورٹرز سنیتا کیجریوال کو پہچانتے بھی نہیں۔ لیکن سنیتا کے شوہر نے سنیتا کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے کیجریوال کی مدد کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جب راجیو وزیر اعظم تھے تو اس وقت وہ دونوں میاں بیوی عوام کے سامنے ہمیشہ قدرے محتاط اور باوقار رہتے تھے۔

یاد رہے کہ کیجریوال اپنی اہلیہ کے ہمراہ اسی سرکاری فلیٹ میں رہتے رہے ہیں جو سنیتا کو سینیئر ٹیکس انسپکٹر کے عہدے کی وجہ سے حکومت سے ملا ہوا ہے۔ مبینہ طور انھوں نے اپنے شوہر کی انتخابی کامیابی کے حوالے سے یہ کہا کہ ایک سرکاری افسر ہوتے ہوئے یہ ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سیاست پر تبصرہ کریں۔

تاہم کیجریوال نے میڈیا کو بتایا کہ کہ وہ سنیتا سے اس وقت کیسے ملے جو وہ دونوں محکمۂ ٹیکس یعنی انڈین ریوینیو سروس میں کام کرتے تھے۔ کیجریوال کے بقول ایک دن وہ دفتر میں سنیتا کے پاس گئے اور پوچھا کہ ’مجھ سے شادی کریں گی‘۔ سنیتا کا جواب ہاں میں تھا اور پھر ان کی شادی ہو گئی۔

جب کیجریوال اور سنیتا کیجریوال کی تصویر ٹی وی سکرینز پر چلی تو میرے ارد گرد بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے بھی اکثر یہ منظر دیکھ کر متاثر ہو گئے۔ بھارتی لوگوں کے لیے یہ لمحہ ’اوباما مومنٹ‘ جیسا ہی تھا جب امریکی صدر نے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر ایک تصویر ٹویٹ کی تھی جس میں وہ اپنی اہلیہ سے بغلگیر تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سابق وزیرِاعظم منموہن سنگھ اور ان کی اہلیہ کئی متربہ عوام میں اکھٹے نظر آیے

کچھ ہی عرصہ پہلے اوباما نے اپنی اہلیہ کے حوالے سے کہا تھا کہ ’وہ ہر روز میری ہمت بڑھاتی ہیں۔ وہ مجھے ایک اچھا انسان اور اچھا صدر بناتی ہیں۔‘

سچ پوچھیں تو میں جب غیر ملکی سیاستدانوں کو دیکھتی ہوں کہ وہ کس طرح اپنی کامیابیوں میں اپنی جیون ساتھیوں کی مدد کا اعتراف کرتے ہیں اور ان سے پیار کا اظہار کرتے ہیں، تو مجھے ایک بھارتی ہوتے ہوئے رشک آتا ہے۔

گلے لگانا ممنوع ہے

بھارتی سیاسی تاریخ میں سب سے زیادہ جس رومان کے تذکرے ہوتے ہیں وہ راجیو گاندھی اور سونیا گاندھی کا رشتہ ہے۔ تاہم جب وہ وزیر اعظم تھے تو اس وقت وہ دونوں میاں بیوی عوام کے سامنے ہمیشہ قدرے محتاط اور باوقار رہتے تھے۔

ہم بھارتی اکثر یہ سوچتے ہیں کہ آخر ہمارے سیاستدان اپنے جیون ساتھیوں کے ساتھ محبت اور پیار کا اظہار کھل کر کیوں نہیں کرتے۔ لگتا ہے کہ بھارت میں ایسا کرنا ’شجرِ ممنوعہ‘ بن چکا ہے۔

ہندستانی سیاستدان ہمیشہ یہی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ انہیں پیار صرف اپنے وطن اور عوام کی خدمت کرنے سے ہے۔ اسی لیے ان کے جیون ساتھی عوام میں کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔

لیکن یہ بات صرف سیاستدانوں تک ہی محدود نہیں، بلکہ اس کا دائرہ دور تک پھیلا ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جاشودابن اور مسٹر مودی کی شادی بہت کم عمری میں ہؤیی تھی اور وہ کئی برس پہلے ہی ایک دوسرے سے الگ ہو گئے تھے

کیجریوال کا اپنی بیوی کو گلے لگانے اور اپنی اہلیہ کے ساتھ مودی کے تعلقات، دو مکمل متضاد چیزیں ہیں۔ مودی نے تو گذشتہ سال تک یہی نہیں مانا تھا کہ ان کی کوئی بیوی بھی ہے۔ اس بات کا اقرار انھوں نے صرف اس وقت کیا تھا جب انہوں نے اپنے کاعذاتِ نامزدگی جمع کرائے تھے۔

لیکن اس کے باوجود عوام میں مسٹر مودی کے خلاف کوئی برا ردعمل دکھائی نہیں دیا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہندوستانی سیاست میں عوامی خدمت کے نام پر اپنی ازدواجی زندگی کو قربان کر دینے کو برا نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے بہت اچھا کام تصور کیا جاتا ہے۔

لیکن میرا خیال ہے کہ اس سلسلے میں مودی پر اتنی زیادہ تنقید نہیں کی جا سکتی کیونکہ انہوں نے شادی بہت کم عمر میں کر لی تھی اور اس کے بعد دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو گئے تھے اور کسی کو معلوم نہیں تھا کہ آنے والے برسوں میں کون کہاں ہو گا۔

بغلگیر ہونا اچھی سیاست ہے

لوگوں کے سامنے اپنی اہلیہ کے ساتھ بغلگیر ہو کر کیجریوال نے دراصل ایک بہت بڑا معاشرتی اور سیاسی بیان جاری کیا ہے۔ ایک ایسا بیان جس میں عورت اور مرد کی برابری کا پیغام ہے اور یہ پیغام کہ اپنی کامیابی میں اپنی اہلیہ کے کردار کا برملا اظہار کرنا اچھی بات ہے۔

بہت سی خواتین نے مسٹر کیجریوال کی تصویر کے جواب میں انٹرنیٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اپنی تصویر کو عام کر کے عام آدمی پارٹی کے بانی رہنما نے دلی کی لاکھوں خواتین کے دل جیت لیے ہیں، یعنی ایک ایسے وووٹ بینک کی حمایت حاصل کر لی جس میں کم و بیش ساٹھ لاکھ ووٹ جمع ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ یہ کیجریوال کی بہت زبردست سیاسی چال ہی ہو۔

اسی بارے میں