’ کشتی تباہ کرنے کا حکم میں نے دیا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مبینہ طور پر پاکستان سے آنے والی کشتی پر بھارتی وزارت دفاع کے مطابق دہشت گرد سوار تھے

بھارتی کوسٹ گارڈ کے ایک سینیئر افسر کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں انھیں یہ دعویٰ کرتے دیکھا جا سکتا ہے کہ 31 دسمبر کی رات مبینہ طور پر پاکستان کی طرف سے بھارتی سمندری حدود میں داخل ہونے والی کشتی کو ’اڑانے کا حکم‘ خود انھوں نے دیا تھا۔

یہ حیرت انگیز انکشاف کوسٹ گارڈ کے نائب انسپکٹر جنرل بی کے لوشالی نے پیر کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا تھا اور اخبار انڈین ایکسپریس نے بدھ کو اس تقریر کی ویڈیو جاری کی ہے۔

لوشالی شمال مغربی خطے کے چیف آف سٹاف ہیں۔

اس واقعے کے بعد وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ کشتی پر دہشت گرد سوار تھے، اس میں دھماکہ خیز مواد لدا ہوا تھا اور اور جب کوسٹ گارڈ نے کشتی کو تلاشی کے لیے روکنے کی کوشش کی تو اس میں سوار افرد نے اس میں آگ لگا دی تھی۔

کوسٹ گارڈ کے افسر کے بیان کے بعد وزیر دفاع موہن پریکر نے بنگلور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اپنے موقف پر قائم ہیں، اگر کسی افسر نے کوئی غلط بیان دیا ہے تو انکوائری کے بعد اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔۔۔ یہ معاملہ یہیں ختم ہو جاتا ہے۔‘

بدھ کی دوپہر لوشالی نے بھی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تقریر کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے اور وہ یہ حکم نہیں دے سکتے تھے کیونکہ آپریشنل کمان ان کے ہاتھ میں نہیں تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ indian coast guard
Image caption بھارتی کوسٹ گارڈ کی جانب سے کشتی کی تصویر جاری کی گئی تھی

تاہم ویڈیو میں انھیں یہ کہتے ہوئے صاف سنا جا سکتا ہے کہ ’مجھے امید ہے کہ آپ کو 31 دسمبر کی رات یاد ہوگی۔۔۔ ۔۔۔میں وہاں موجود تھا، میں نے اس کشتی کو اڑنے کا حکم دیا تھا۔۔۔میں نے کہا کشتی کو اڑا دو، ہم انہیں بریانی نہیں کھلانا چاہتے۔‘

انڈین ایکسپریس کے صحافی پروین سوامی نے حکومت کے موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے دو جنوری کو ہی یہ خبر دی تھی کہ اس کشتی میں معمولی سمگلرز سوار تھے۔ پاکستان نے بھی اس دعوے کو مسترد کیا تھا کہ کشتی اس کے کسی ساحل سے روانہ ہوئی تھی۔

بعد میں وزیر دفاع نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ کشتی میں ’مشتبہ‘ دہشت گرد سوار تھے اور اگر وہ معمولی سمگلرز ہوتے تو ’خود کشی‘کیوں کرتے۔

لیکن ڈی آئی جی کوشالی کا دعویٰ وزارت دفاع کے موقف سے متضاد ہے اور اس کے بعد کانگریس کے سینیئر لیڈر منیش تیواری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے وہ یہ بتائے کہ اس رات کیا ہوا تھا۔

اس سے پہلے جب کانگریس نے حکومت کے موقف پر سوال اٹھائے تھے تو حکومت نے اسے مشورہ دیا تھا کہ وہ قومی سلامتی کے معاملات پر سیاست نہ کرے۔

بھارتی وزارت دفاع کا دعوی تھا کہ پاکستان کی جانب سے آنے والی ایک کشتی 31 دسمبر کی شب مشتبہ انداز میں بھارتی سمندری حدود میں داخل ہوئی تھی لیکن بھارتی کوسٹ گارڈ کی جانب سے چیلنج کیے جانے پر کشتی میں سوار افراد نے اسے آگ لگا کر تباہ کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PIB
Image caption وزیر دفاع منوہر پریکر نے اعلان کیا کہ وہ اس واقعے کی انکوائری کی رپورٹ جاری کریں گے

کشتی کن حالات میں تباہ ہوئی، اس پر سوار لوگ کون تھے، بھارتی انٹیلیجنس سے کیا معلومات حاصل ہوئی تھیں، خود بحریہ اس آپریشن میں کیوں شامل نہیں تھی، کشی کو بیچ سمندر میں ہی کیوں روکنے کی کوشش کی گئی ۔۔۔ایسے بہت سے سوال میڈیا میں اٹھائے گئے تھے لیکن حکومت کی جانب سے کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا تھا۔

وزیر دفاع نے بدھ کو اعلان کیا کہ وہ اس واقعے کی انکوائری کی رپورٹ جاری کریں گے۔

وزارت دفاع کے مطابق اس کشتی میں چار افراد سوار تھے جنھیں بچایا نہیں جا سکا کیونکہ آگ لگائے جانے کے کچھ دیر بعد دھماکہ ہوا اور کشتی غرقاب ہوگئی۔

ممبئی پر سنہ 2008 کے حملوں کے لیے بھی مبینہ طور پر مچھلی پکڑنے کے کام آنے والی ایک کشتی استعمال کی گئی تھی۔ وزارت دفاع کے مطابق انٹیلیجنس ایجنسیوں کی فراہم کردہ معلومات کے پیش نظر گذشتہ تقریباً دو مہینوں سے ساحلی علاقوں میں خاص نگرانی کی جا رہی تھی۔

کوسٹ گارڈ کی جانب سے جلتی ہوئی کشتی کی تصاویر جاری کی گئی تھیں۔ اس وقت اخبارات نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے یہ خبریں شائع کی تھیں کہ یہ لشکر طیبہ کی جانب سے ایک اور بڑا حملہ کرنے کی کوشش تھی۔

حکومت کے مطابق یہ واقعہ گجرات کےشہر پوربند سے تقریباً ساڑھے تین سو کلومیٹر دور بھارت اور پاکستان کی سمندری سرحد کے قریب پیش آیا۔

وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ اسے انٹیلیجنس کے ذریعہ یہ معلومات حاصل ہوئی تھی کہ ’ کراچی کے قریب کیٹی بندر سے روانہ ہونے والی ایک کشتی بحیرہ عرب میں کچھ غیر قانونی کام انجام دے گی۔۔۔جب اسے تلاشی اور تفتیش کے لیے رکنے کا حکم دیا گیا تو کشتی نے فرار کی کوشش کی، کوسٹ گارڈز نے تقریباً ایک گھنٹے تک اس کا تعاقب کیا اور آخرکار اسے روکنے میں کامیاب ہوگئی۔۔۔اس دوران تنبیہہ کے طور پر فائرنگ بھی کی گئی۔۔۔لیکن کشتی پر سوال چار افراد نے اس میں آگ لگا دی اور کچھ ہی دیر بعد ایک دھماکہ ہوا۔۔۔‘

اسی بارے میں