سوائن فلو کشمیر پہنچ گیا، دو ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حکومت ہند کے اعداد و شمار کے مطابق 12 فروری تک ملک میں سوائن فلو سے مرنے والوں کی تعداد 485 تھی۔ لیکن صرف پانچ روز میں یہ تعداد 624 تک پہنچ چکی ہے

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ پانچ ماہ کے دوران ستّر سے زائد مریضوں کو سوائن فلو سے متاثر قرار دیا گیا جبکہ اس بیماری میں مبتلا دو افراد دو روز میں ہلاک ہوگئے۔

بھارت میں ایچ ون این ون نامی وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 600 سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ کشمیر میں سیلاب سے سرکاری ڈھانچہ کی تباہی اور ادویات کی قلّت کے باعث اس بیماری سے متعلق لوگوں میں خدشات پائے جاتے ہیں۔

شیرکشمیرانسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یا SKIMS کے سربراہ شوکت زرگر نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم ان مریضوں کا پچھلے پانچ ماہ سے جائزہ لے رہے ہیں۔‘

شوکت زرگر نے تصدیق کی کہ گذشتہ برس ستمبر میں آئے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے کشمیر کے ہسپتالوں میں موجود تشخیص کا نظام پوری طرح تباہ ہوگیا تھا اور سکمز واحد ادارہ ہے جہاں سوائن فلو کی تشخیص کا انتظام ہے۔

حکام نے ریاست کی سرحد، جموں میں لکھن پور کے مقام پر ایک معائینہ مرکز قائم کیا ہے اور ہوائی اڈے پر بھی مسافروں کے معائنے کا انتظام کیا گیا ہے۔

شوکت زرگر کہتے ہیں: ’یہاں تو سیاحوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ جو بخار یا کھانسی سے دوچار ہو وہ سیرسپاٹے کے لیے نہیں نکلے گا، لیکن کچھ لوگوں میں یہ وائرس موجود ہوتا ہے، اور جب وہ ٹھنڈے ماحول میں پہنچتے ہیں تو وہ بخار یا کھانسی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیری حکام کو زیادہ سے زیادہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔‘

کشمیر میں تعلیمی ادارے گذشتہ برس ستمبر سے بند پڑے ہیں۔ چھہ ماہ بعد یہ ادارے 24 فروری کو کھلنے والے تھے۔ تاہم محکمہ صحت کے حکام نے حکومت سے کہا ہے کہ اس بیماری کے پھیلاو کے انسدادی انتظامات مکمل ہونے سے قبل تعلیمی اداروں کا کھلنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

اس دوران سوائن فلو کے خلاف معروف دوائی ٹیمی فلو ابھی تک کشمیر میں نایاب ہے۔

ڈاکٹرز ایسوسی ایشن آف کشمیر کے سربراہ ڈاکٹر نثارالحسن نے بتایا: ’کشمیر ابھی بھی سیلاب کے اثرات سے دوچار ہے۔ یہاں انفیکشن کے دوہرے خطرات ہیں اس لیے یہاں انتظامات بھی دوہرے ہونے چاہیے۔‘

حکومت ہند کے اعداد و شمار کے مطابق 12 فروری تک ملک میں سوائن فلو سے مرنے والوں کی تعداد 485 تھی۔ لیکن صرف پانچ روز میں یہ تعداد 624 تک پہنچ چکی ہے۔

بھارتی حکام نے کہا ہے کہ سوائن فلو سے ہونے والی ہلاکتوں میں اچانک اضافے پر حکومت ’گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کے لیے مزید کٹ فراہم کر رہی ہے۔‘

حکومت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے انٹگریٹیڈ ڈیزیز سرویلینس پروگرام کے تحت پہلے ہی ایچ ون این ون وائرس کی جانچ کی کٹ میں اضافے کا حکم جاری کر رکھا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس کے خلاف لڑنے کے لیے تیار رہنے کی خاطر دوا کے مزید سٹاک کا آرڈر دیا گیا ہے۔‘

واضح رہے کہ یہ بخار ایچ ون این ون وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔

گذشتہ سال بھارت میں سوائن فلو کے 937 کیسز سامنے آئے تھے جن میں 218 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں