بھارت میں خفیہ سرکاری دستاویزات فروخت کرنے پرگرفتاریاں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارت اس وقت اپنی ضروریات کا 80 فیصد تیل اور 40 فیصد گیس درآمد کرتا ہے

بھارت میں پولیس نے اہم سرکاری دستاویزات چوری کر کے توانائی کی کمپنیوں کو فروخت کرنے کے الزام میں سات افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

دارالحکومت دہلی کی پولیس کے مطابق رقم کے عوض دستاویزات فروخت کرنے کے الزام میں جمعرات کو وزارتِ پیٹرولیم کے دفتر سے دو اعلیٰ سرکاری افسران، توانائی کمپنی کے ایک اہلکار اور سودا کرانے والے دو افراد کو گرفتار کیا گیا۔

جمعے کو توانائی کے شعبے کے دو ماہرین کو گرفتار کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق چرائی جانے والی ستاویزات توانائی کی قیمتوں اور پالیسی سے متعلق تھیں۔

دہلی پولیس کے سربراہ بی ایس باسیّ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ کارروائی اس اطلاع پر کی گئی کہ چند افراد غیر قانونی طور پر وزارتِ پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے دفتر سے سرکاری دستاویزات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان افراد کو گرفتار کرنے کے لیے جال بچھایا گیا جس میں تین افراد کو دفتر سے باہر دستاویزات سمیت گرفتار کیا گیا اور اس کے بعد چار دیگر افراد کی گرفتاری عمل میں آئی۔

پولیس سربراہ کے مطابق رقم دیے کر خفیہ سرکاری دستاویزات حاصل کرنے لیے خاصی لابنگ کی گئی اور اس کی مدد سے دستاویزات کو افشا کرایا گیا اور ان کی فوٹو کاپی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ پولیس جلد ہی ان افراد کو گرفتار کر لے گی جو دستاویزات حاصل کرنا چاہتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بھارت میں نجی کمپنیوں کی پیٹرولیم کے شعبے میں دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے

اطلاعات کے مطابق پولیس نے توانائی کی کم از کم پانچ نجی کمپنیوں کے درجنوں اہلکاروں سے پوچھ گچھ کی ہے۔

وزیرِ پیٹرولیم دھرمیندرا پردھان نے کہا ہے کہ ان کی وزارتِ میں مبینہ طور پر ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

بھارت اس وقت اپنی ضروریات کا 80 فیصد تیل اور 40 فیصد گیس درآمد کرتا ہے۔ اس وقت ملک میں تیل اور گیس کی تلاش، تیل صاف کرنے والے کارخانے اور اسے فروخت کرنے والی زیادہ تر کمپنیاں سرکاری ہیں تاہم بڑی تعداد میں بااثر نجی کمپنیوں کی اس شعبے میں اپنے حصے کو بڑھانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

اقتصادی امور کے ماہر پرجی گھا ٹھاكرتا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نجی کمپنیاں بڑی پیمانے پر یہ معلومات حاصل کرنے کے لیے لابنگ کرتی ہیں کہ حکومت تیل اور گیس کی صارفین کو کس قمیت پر فروخت کی پالیسی بنا رہی ہے۔

اسی بارے میں