سعودی ٹی وی پریزینٹرز’سر ڈھانپیں اور عبایا پہنیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption میڈیا حکام کی جانب سے پیش کی جانے والی اس تجویز کی سعودی شوریٰ کونسل نے ابھی منظوری نہیں دی

اطلاعات کے مطابق سعودی عرب میں خواتین نیوز ریڈرز کو مستقبل میں ٹی وی پر آنے کے لیے مزید سادہ لباس زیب تن کرنا ہو گا۔

سعودی عرب کی شوریٰ کونسل ملک کے میڈیا حکام کی جانب سے پیش کی جانے والی تجویز پر غور کر رہی ہے جس میں تمام خواتین ٹی وی پریزنٹرز کو آن ایئر جدید طرز کے لباس نہ پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔

میڈیا حکام کی جانب سے دی جانے والی تجویز کے مطابق تمام خواتین کو آن ایئر جاتے ہوئے اپنے سر کو ڈھاپنے کے ساتھ ساتھ کالے رنگ کی عبایا پہننی ہو گی۔

سعودی عرب کے اخبار سعودی گیزٹ کی رپورٹ کے مطابق اس مجوزہ قانون کے ایک حامی ابراہیم ابو عبط کا کہنا ہے کہ یہ ’شرمندگی کی بات‘ ہے کہ ملک کا میڈیا اسلام کی نمائندگی نہیں کر رہا ہے۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان کا مزید کا کہنا تھا ’سعودی خواتین کو ٹی وی پر قابلِ احترام حجاب کے ساتھ ظاہر ہونا چاہیے جو صحیح معنوں میں ہمارے عقائد اور اقدار کی نمائندگی کرتی ہیں۔‘

میڈیا حکام کی جانب سے پیش کی جانے والی اس تجویز کی سعودی شوریٰ کونسل نے ابھی منظوری نہیں دی۔ تاہم اس نے کچھ خواتین ارکان کی رائے کو تقیسم کر دیا ہے۔

دی گلف نیوز ویب سائٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس تجویز کی حامی ایک خاتون نورا العدوان نےگذشتہ برس اس وقت تنازع کھڑا کر دیا جب انھوں نے کچھ خواتین پریزنٹرز پر روایتی لباس پہننے سے انکار اور حد سے زیادہ میک اپ کرنے کو ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مترادف قرار دیا تھا۔

دوسری جانب ایک اور خاتون لطیفہ الشولان نے اس تجویز پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں غور کرنے کے لیے اس سے زیادہ اہم معاملات بھی ہیں۔

انھوں نے دی عرب نیوز ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے کہا ’کئی اہم معاملات ہیں غور کرنے کے لیے جیسے کہ نام نہاد دولت اسلامیہ نامی شدت پسند تنظیم کی جانب سے میڈیا کا استعمال۔‘

’ہماری میڈیا کو ملک کو خطے میں ایک اعتدال پسند سیاسی قوت کے طور پر پیش کرنا چاہیے۔‘

ٹی وی پریزینٹر پر اس قسم کی پابندی لگانے پر پہلی بار سوچ بچار نہیں ہو رہی۔ پچھلے سال ریاستی ٹی وی چینل الاخباریہ کے لندن سٹوڈیو میں ایک خاتون پریزینٹر سر پر سکارف پہنے بغیر آن ایئر آ گئی تھیں جس پر تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔

اسی بارے میں