’افغانستان سے انخلا کا منصوبہ اگلے ماہ واضح ہو جائے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایش کارٹر نے امریکی وزیردفاع کا عہدہ 17 فروری کو سھنبالا تھا

امریکی وزیرِ دفاع ایش کارٹر نے اپنے پہلے دورہ کابل کے موقع پر کہا ہے کہ وہ افغانستان میں سکیورٹی صورتحال کے مطابق امریکی فوج کے انخلا پر نظرثانی کرنے کے لیے تیار ہیں۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کے انخلا کا منصوبے اگلے ماہ افغان صدر اشرف غنی کے امریکی دورے کے دوران مزید واضح ہو گا۔

امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر نے کہا ’ہم افغانستان میں ایسی کامیابی چاہتے ہیں جو پائیدار ہو۔ یہ کیسے حاصل کی جاسکتی ہے؟ یہی جاننے کے لیے میں افغانستان آیا ہوں۔‘

نئے امریکی وزیرِدفاع غیر اعلانیہ دورے پر سنیچر کو افغانستان پہچے جہاں وہ امریکی کمانڈرز اور افعان قیادت کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔

صدر اشرف غنی نے کہا کہ پچھلے 36 سالوں میں اس وقت طالبان کے ساتھ امن ہونے کے امکانات کافی قوی نظر آ رہے ہیں۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی پیشن گوئی نہیں کی جاسکتی۔

صدر اشرف غنی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکی فوج کے انخلا کے عمل کی رفتار کو سست کیا جائے۔

کابل پہنچنے کے بعد اپنے ابتدائی بیان میں انھوں نے بتایا کہ ان کے ذہن میں پہلا خیال یہ آیا ہے کہ دس ہزار امریکی فوجی اب بھی یہاں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی فوجوں کا افغانستان سےگذشتہ سال دسمبر میں انخلا ہوگیا تھا تاہم قوم کو اب بھی طالبان کی پرتشدد کارروائیوں کا سامنا ہے۔

امریکہ کے فوجی دستے اب بھی افغانستان میں تربیت اور معاونت کے امور سرانجام دے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption افغان طالبان علاوہ مشرقِ وسطی میں متحرک دولتِ اسلامیہ بھی افعانستان میں موجود ہے

انھوں نے افغانستان کے بارے میں امریکہ کی مستقبل کی حکمتِ عملی پر اپنے سفر میں موجود صحافیوں کو سے کم ہی بات کی۔

امریکی وزیرِدفاع نے بتایا کہ رواں سال کے اختتام تک امریکہ افغانستان میں اپنے فوجی دستوں کی تعداد کم کر کے 5500 تک کرے گا۔ اس پالیسی پر امریکی کانگرس میں رپبلیکن پارٹی کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

جب ایش کارٹر سے افغانستان میں دولتِ اسلامیہ کی موجودگی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں بنے بتایا کہ ’جو رپورٹس میں نے اب تک دیکھی ہیں ان کے مطابق ان کی تعداد کم ہے۔‘

امریکی وزیرِدفاع افغان صدر کے علاوہ افغانستان میں امریکہ کے اعلیٰ کمانڈر جنرل جان کیمبل اور سیٹنرل کمانڈ کے سربراہ جنرل لوید آسٹن سے ملاقاتیں کریں گے۔

اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق اس دوران 5000 افغان سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ شہری ہلاکتوں میں 22 تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 2014 میں 3699 افغان شہری ہلاک ہوئے جبکہ 6849 زخمی ہوئے۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جاری اس عالمی جنگ میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کے کوائف اکھٹے کیے جانے کا سلسلہ 2009 میں شروع کیا گیا تھا۔

ادارے کا کہنا ہے کہ یہ پہلہ موقع ہے جب طالبان اور حکومتی فوج کے درمیان جنگ کے نتیجے میں بارودی سرنگوں، خودکش حملوں اور شدت پسندوں کی یک طرفہ کارروائیوں کی نسبت زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں