مالدیپ: سابق صدر دہشت گردی کے الزام میں گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سابق صدر محمد ناشید کی حالیہ گرفتاری سے ملک میں مزید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

مالدیپ پولیس نےقائد حزب اختلاف اور سابق صدر محمد ناشید کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق ان کی گرفتاری کو جنوری 2012 میں ان کی جانب سے ایک جج کی گرفتاری کے حکم سے منسلک کیا جا رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے ان کے خلاف مقدمات خارج کر دیئےگئے تھے لیکن انسداد دہشت گردی قوانین کی رو سے ان پر دوبارہ الزامات لاگو کیے گئے ہیں جو ریاست کے خلاف اقدامات کی سزا دیتا ہے۔

محمد ناشید انسانی حقوق کی مہم سے وابستہ رہ چکے ہیں اور انھوں نے 2008 سے 2012 کے عرصہ کے دوران صدر کا عہدہ سنبھالے رکھا تھا۔ وہ اگلے جمعے سے حزب اختلاف کے احتجاج کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

محمد ناشید جزائر مالدیپ کے جمہوری طور پر منتخب ہونے والے پہلے رہنما تھے لیکن جج کے معاملے میں فوجی بغاوت اور عوامی احتجاج کے باعث اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔

انھوں نے الزام عائد کیا تھا کہ انھیں فوجی بغاوت کے ذریعے ہٹایا گیا لیکن ان کی جگہ آنے والے ان کے نائب صدر نے ان دعوؤں کی تردید کی تھی۔

موجودہ صدر عبداللہ یامین 2013 میں ہونے والے متنازع انتخابات میں منتخب ہوئے تھے، وہ مامون عبدالقیوم کے سوتیلے بھائی ہیں جو 30 سال کرسی صدارت پر براجمان رہے اور اکثر ان پر آٹوکریسی کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ محمد ناشید کی حالیہ گرفتاری سے ملک میں مزید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

صدر یامین حال ہی میں اپنے اہم سابق ساتھیوں سے محروم ہوگئے ہیں۔

انھوں نے اپنے وزیردفاع کو بغاوت کی منصوبہ بندی کا الزام لگا کر گرفتار کیا۔ ان کے ایک اور حامی نے بھی ان کا ساتھ چھوڑ دیا ہے جب ایک ریزارٹ ٹائیکون نے مسٹر ناشید کی حمایت کا اعلان کیا۔

محمد ناشید کی پارٹی نے ان کی حالیہ گرفتاری کو ’حزب اختلاف کی بڑھتی ہوئی طاقت کے سامنے صدر یامین کی اقتدار سے جڑے رہنے کی بے دھڑک اور مایوس کن کوشش‘ کے طور پر بیان کیا ہے۔

اسی بارے میں