’مدر ٹریسا کا مقصد خدمت کے نام پر مذہب تبدیل کرنا تھا‘

ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریا سیوک سنگ کے سربراہ موہن بھاگوت کا خیال ہے کہ غریبوں کی خدمت کرنے کے پیچھے مدر ٹریسا کا اہم مقصد لوگوں کو عیسائی بنانا تھا۔

راجستھان کے بھرت پور شہر میں ایک غیر سرکاری تنظیم ’اپنا گھر‘ کے ایک پروگرام کے دوران انہوں نے کہا کہ ’مدر ٹریسا کی خدمت اچھی رہی ہوگی۔ پر اس یں ایک مقصد چھپا ہوا کرتا تھا کہ جس کی خدمت کی جا رہی ہے اس کو عیسائی بنایا جائے۔‘

آر ایس ایس کے سربراہ نے مزید کہا کہ ’سوال صرف دین تبدیل کرنے کا نہیں ہے۔ لیکن یہ خدمت کے نام پر کیا جاتا ہے، تو اس سے خدمت کی قیمت ختم ہو جاتی ہے۔‘

جس ادارے کی دعوت پر موہن بھاگوت وہاں گئے تھے اس کی تعریف کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ اس این جی او کا مقصد خالصتاً غریبوں اور بے سہارا لوگوں کی خدمت کرنا ہے۔

بھاگوت کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ چند مہینوں میں دارالحکومت دلی سمیت کئی مقامات پر عیسائیوں کے گرجا گھروں پر حملے ہوئے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے کچھ دنوں پہلے ہی عیسائیوں کے ایک پروگرام میں حصہ لیا تھا اور انہیں یقین دلایا تھا کہ کسی بھی مذہب پر ہونے والے حملوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

بھاگوت کے اس بیان پر رد عمل آنی بھی شروع ہو گئی ہے جن میں ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ ڈیریک او برائن نے کہا کہ مدر ٹریسا کا اس طرح کے کام سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کا نام لیے بغیر اشارہ کرتے ہوئے پوچھا کہ اب دیکھنے والی بات ہے کہ مودی آر ایس ایس سربراہ کو کیا کہتے ہیں۔

اسی بارے میں