افغانستان: پنج شیر میں برفانی تودے گرنے سے صورتحال مزید خراب

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption پنج شیر میں تین دہائیوں کے بعد اتنی بڑی تعداد میں برفانی تودے گرے ہیں

افغانستان میں حکام کے مطابق صوبہ پنج شیر میں دوبارہ تباہ کن برفافی تودے گرنے سے صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔

پنج شیر صوبہ کے گورنر کے مطابق نئے برفانی تودے گرنے کے نتیجے میں متاثرہ علاقہ ملک کے دوسرے حصوں سے کٹ گیا۔

یہاں چند روز پہلے برفانی تودے گرنے سے مواصلائی نظام بری طرح متاثر ہوا تھا اور علاقے تک رسائی مشکل ہو گئی تھی۔

حالیہ دنوں ملک کے مختلف علاقوں میں برفانی تودے گرنے کے نتیجے میں کم از کم 286 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ا

اس میں سب سے زیادہ متاثر صوبہ پنج شیر ہوا جہاں لوگ اب بھی بھاری برف باری کے نتیجے میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

صوبہ پنج شیر کے گورنر عبدالرحمان کبیری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ برفانی تودے 40 میٹر بلند تھے اور نئی جگہوں پر گرے ہیں۔

حکام نے پنج شیر وادی کی جانب جانے والی سڑک کو بھاری مشنری کی مدد سے کھول دیا ہے تاہم برفانی تودوں کے نتیجے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے پریان تک تاحال رسائی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ہوائی جہازوں کے ذریعے متاثر ہونے والے دیہاتوں میں محصور افراد تک خوراک پہنچائی جا رہی ہے۔ پنج شیر کے علاوہ دیگر متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

رواں برس افغانستان میں موسمِ سرما کی شدت قدرے کم تھی اس لیے حالیہ برفانی تودے گرنے کے واقعات دھچکا ہیں۔

سردی کی شدت میں اضافہ اچانک ہوا اور لوگ اس کے لیے تیار نہیں تھے۔

اگرچہ برفانی تودے گرنا اس علاقے میں عام ہے لیکن ایسے واقعات میں اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں 2010 میں سالانگ کے علاقے میں ہوئی تھیں جب 165 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں