بنگلہ دیشی بلاگر کے قتل کا ’مشتبہ ملزم‘ گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جالیس سالہ رائے گذشتہ دو سالوں میں بنگلہ دیش میں مارے جانے والے دوسرے بلاگر ہیں جبکہ سنہ 2004 کے بعد سے وہ چوتھے مصنف ہیں جنھیں قتل کیا گیا ہے

بنگلہ دیش میں پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے انتہا پسندی کے خلاف لکھنے والے بلاگر اوجیت رائے کے قتل کے سلسلے میں ایک شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔

فرابی شفیع الرحمن ’انتہا پسندی کی حمایت‘ میں بلاگ لکھتے ہیں اور انہیں پیر کی صبح خصوصی پولیس فورس نے ڈھاکہ کے ایک بس سٹاپ سے گرفتار کیا۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے حال ہی میں سوشل میڈیا کے ذریعے اوجیت رائے کو جان سے مار دینے کی دھمکی دی تھی۔

بنگلہ دیشی نژاد امریکی اوجیت رائے پیشے کے اعتبار سے انجینئر تھے اور ان کو گزشتہ جمعرات نامعلوم افراد نے چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا تھا۔

اوجیت رائے پر اس وقت حملہ کیا گیا تھا جب وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں کتابی میلے سے واپس آ رہے تھے۔

اس حملے میں ان کی اہلیہ رفیدہ احمد بھی سر پر ضربیں لگنے سے شدید زخمی ہوئی اور ان کے ہاتھ کی ایک انگلی بھی کٹ گئی۔ فی الوقت وہ ڈھاکہ کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس قتل کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاہم رائے کے اہل خانہ اور دوستوں کا کہنا ہے کہ رائے مذہبی انتہا پسندی کے خلاف آواز اٹھاتے تھے اور ان کوماضی میں دھمکیاں مل چکی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ڈھاکہ میں طلبہ اور سماجی کارکنوں نے 27 فروری کو اوجیت رائے کے قتل کے خلاف مظاہرے کیے

بنگلہ دیش کی ریپیڈ ایکشن بٹیلین کے کرنل ضیاءالحسن نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ فرابی شفیع الرحمن کو جس وقت گرفتار کیا گیا وہ ڈھاکہ شہر چھوڑ کر جا رہے تھے۔

ریپیڈ ایکشن بٹیلین کے ترجمان میجر مقصود عالم کا کہنا ہے کہ اوجیت رائے کے قتل کے معاملے میں فرابی ’مرکزی مشتبہ ملزم‘ ہے۔

میجر عالم نے اوجیت رائے کے خاندان والوں کے حوالے سے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ فرابی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس ٹوئٹر اور فیس بک کے ذریعے اوجیت رائے کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔

اوجیت رائے پر حملے کو بنگلہ دیش میں ’آزادی اظہار‘ پر حملہ سمجھا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا میں اس حملے پر کڑی تنقید کی گئی ہے اور کہا جارہا ہے کہ بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی آزادیِ اظہار اور سیکولرزم کے لیے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

رائے شدت پسندی کے خلاف آواز اٹھاتے اور سیکولرزم کو ہی ملک کی ترقی کے لیے بہتر متبادل مانتے تھے۔

بنگلہ دیش کے ادیب شہریار کبیر نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا ' اس ملک میں آزاد سوچ ایک خطرہ بنتی جا رہی ہے'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم حکومت سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب انہیں معلوم تھا کہ اوجیت را‎ئے کو اسلامی شدت پسندوں کی جانب سے دھمکیاں مل رہی تھیں تو وہ ان کو سیکورٹی فراہم کرنے میں کیوں ناکام رہی؟‘

واضح رہے کہ فرابی شفیع الرحمن سنہ2013 میں انتہا پسندی کے خلاف لکھنے والے ایک دوسرے بلاگر کی ہلاکت کے بعد آن لائن پر پوسٹ کرنے والے مواد کے سلسلے میں گرفتاری کے بعد ضمانت پر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ڈھاکہ میں وہ مقام جہاں اوجیت رائے پر قاتلانہ حملہ کیا گیا

اوجیت رائے ایک ہندو خاندان میں پیدا ہوئے اور انہوں نے ’مکتو مونا‘ یعنی آزاد ذہن کے نام سے بلاگ سائٹ قائم کی تھی جس میں روشن خیال یا سیکولر تحریریں شائع کی جاتی تھیں۔

ڈھاکہ یونیورسٹی میں پروفیسر اور اوجیت رائے کے بہت قریبی دوست انور حسین کا کہنا تھا کہ ’وہ ایک مفکر، ایک دانشور، ایک سائنس داں اور ایک انجینئر تھے۔‘

چالیس سالہ رائے گذشتہ دو سالوں میں بنگلہ دیش میں مارے جانے والے دوسرے بلاگر ہیں جبکہ سنہ 2004 کے بعد سے وہ چوتھے مصنف ہیں جنھیں قتل کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں