مہاراشٹر: گائے کا گوشت کھانے پر جرمانہ اور سزا

تصویر کے کاپی رائٹ ALOK PUTUL
Image caption ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بھارت کی ایک ارب بیس کروڑ آبادی کا 80 فیصد ہیں اور گائے کو مقدس مانتے ہیں

بھارت کے صدر پرناب مکھرجی نے ایک بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت ریاست مہاراشٹر میں گائے کو ذبح کرنے اور اس کے گوشت کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی۔

اس نئے قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ عائد کیا جائے گا اور پانچ سال تک کی قید بھی ہو سکتی ہے۔

جانوروں کے تحفظ سے متعلق یہ بل مہاراشٹر اسمبلی نے تقریباً بیس برس پہلے پاس کیا تھا جسے سوموار کو پرناب مکھرجی کے دستختوں کے بعد قانون کی شکل مل گئی ہے۔

ہندو مذہب کے پیروکار بھارت کی ایک ارب بیس کروڑ آبادی کا 80 فیصد ہیں اور ہندو مذہب میں گائے کو مقدس تصور کیا جاتا ہے جبکہ بھارت میں بڑی تعداد میں مسلمان اور عیسائی اقلیتیں بھی بستی ہیں جن کے ہاں گائے کا گوشت کھایا جاتا ہے۔

گائے کے گوشت کی فروخت اور استعمال پر بھارت کی کئی دیگر ریاستوں میں بھی پابندی عائد ہے اور اس کے استعمال پر متعدد بار فسادات ہو چکے ہیں۔

بھارت کی ریاست آندھرا پردیش کے دارالحکومت حیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی میں 16 اپریل 2012 کو گائے کے گوشت کھانے کے مسئلے پر دلت اور سخت گیر ہندو طلباء کے درمیان پر تشدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔

ہمارے نامہ نگاروں کے مطابق بھارت میں فروخت اور استعمال ہونے والا زیادہ تر گوشت بھینسوں کا ہے جنہیں مذہبی لحاظ سے تقدیس کا درجہ حاصل نہیں ہے۔

بھارت ہر سال 65 سے زیادہ ممالک کو 2.3 ارب ڈالر مالیت کا بھینس کا گوشت فروخت کرتا ہے اور اہم بات یہ ہے کہ بھینس کے گوشت کی مانگ بڑھ رہی ہے کیونکہ وہ گائے کے گوشت سے سستا ہے۔

اسی بارے میں