شادی کے اشتہار میں بولا گیا کڑوا سچ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اندوجا کی جانب سے شائع کیا گیا اشتہار جس میں انھوں نے اپنی بے حد منفی تصویر پیش کی تھی انٹرنٹ پر وائرل ہوگیا

یہ کہانی ہے اندوجا پلے کی، جن کی عمر 24 برس ہے جو ایک ’ٹام بوائے‘ ہیں اور ایسے آدمی سے شادی کرنا چاہتی ہے جسے بچوں سے نفرت ہو۔

اندوجا نے اپنے رشتے سے متعلق یہ اشتہار اس وقت شائع کیا جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کے والدین نے ان کی شادی کے لیے ایک اشتہار دیا ہے۔

اندوجا کی جانب سے شائع کیا گیا اشتہار جس میں انھوں نے اپنی بے حد منفی تصویر پیش کی تھی انٹرنیٹ پر وائرل ہوگیا۔

انہیں بہت سے لڑکوں کی جانب سے رشتے بھی آئے اور ان کے والدین کو ان کا اس طرح سے اشتہار شائع کرنا برا بھی نہیں لگا۔

بی بی سی کے ساتھ ایک انٹریو میں اندوجا نے پوری کہانی یوں بیان کی:

یہ سب اس وقت شروع ہوا جب مجھے معلوم ہوا کہ میرے والدین نے رشتوں کی ویب سائٹ پر میرے بارے میں اشتہار شائع کیا۔ میرے والدین نے اس اشتہار کا لنک مجھے بھیجا اور اسے دیکھنے کے لیے کہا ۔۔۔ اس اشتہار میں میرے بارے میں جو بھی کچھ کہا گیا تھا وہ میرے والدین کا نظریہ تھا۔ میرے والدین دنیا کو میرے بارے میں بتا رہے تھے کہ میں کیسی ہوں اور مجھے کیسا رشتہ چاہیے؟

اشتہار میں میرے والدین نے کہا تھا ’ہم اپنی سافٹ ویئر انجینیئر بیٹی کے لیے دولھا کی تلاش میں ہیں۔‘

’مجھے اس بات سے کوئی پریشانی نہیں ہے کہ میرے والدین میرے لیے دولھا تلاش کریں۔ انڈیا میں یہ عام بات ہے لیکن میں چاہتی تھی کہ میرے بارے میں درست اطلاع دی جائے۔ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ میں اصل میں کیسی ہوں۔ مجھے یہ اشتہار دیکھ کر غصہ آیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اندوجا کے بقول میرے والدین نے اشتہار میں کہا تھا کہ میں ایک سافٹ ویئر انجینئر ہوں انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ میرے شوق کیا ہیں اور میرا مذہبی عقیدہ کیا ہے

’میں سافٹ ویئر انجینیئر نہیں ہوں۔ میں چھوٹی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتی ہوں۔ میں چھوٹی کمپنی کو بڑا بننے میں مدد کرتی ہوں اور اسی میں خوشی حاصل کرتی ہوں۔‘

میں نے انہیں بتایا کہ انھوں میرے بارے میں بنیادی باتیں صحیح نہیں بتائی ہیں۔ اس لیے میں نے اس اشتہار کو ہٹا کر اپنا اشتہار شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔

میں نے جو ویب سائٹ بنائی اس کا مقصد تھا کہ میرے والدین کا کام آسان ہو۔ وہ میری پوری سوانح عمری کے بجائے لڑکے والوں کو میری ویب سائٹ کا لنک بھیج سکتے ہیں۔

میرے والدین نے اشتہار میں کہا تھا کہ میں ایک سافٹ ویئر انجینیئر ہوں۔ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ میرے شوق کیا ہیں اور میرا مذہبی عقیدہ کیا ہے۔

میں نے اپنی ویب سائٹ پر اپنے بارے میں لکھا تھا ’میں شراب نہیں پیتی اور نہ ہی سگرٹ پیتی ہوں۔ میں گوشت نہیں کھاتی لیکن انڈا کھا لیتی ہوں، مجھے کھانے کا کوئی زیادہ شوق نہیں ہے۔ میں بیڈمنٹن کھیلتی ہوں، ناچتی ہوں، گاتی ہوں۔ میں چشمہ پہنتی ہوں اور اس میں بہت اچھی نہیں لگتی۔‘

’مجھے شاپنگ کرنے اور فضول خرچی کا کوئی شوق نہیں۔ ٹی وی کا شوق نہیں ہے۔ میرا رویہ دوستانہ ہے لیکن مجھے دوست بنانے کا کوئی شوق نہیں۔ مجھ میں بہت نسوانیت نہیں ہے۔ میں بالکل بھی ایسی نہیں ہوں جس سے کوئی شادی کرنا چاہے گا۔ میں کبھی بھی اپنے بال لمبے نہیں کروں گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اندوجا نے لکھا ہے کہ میں چشمہ پہنتی ہوں اور اس میں بہت اچھی نہیں لگتی۔

میں نے لکھا مجھے کیسے آدمی کی تلاش ہے۔ ’ایک ایسا آدمی جس کی ہوسکے تو داڑھی ہو، جسے دنیا دیکھنے کا جنون ہو۔ کوئی ایسا جو پیسے کماتا ہو اور اپنی نوکری سے نفرت نہ کرتا ہو، ہوسکے تو اپنے والدین اور خاندان سے زیادہ محبت نہ کرتا ہو۔ اس شخص کو زیادہ ترجیج دی جائے گی جسے بچوں سے نفرت ہو۔ ایسے شخص کو بھی زیادہ ترجیج دی جائے گی جو کم سے کم بغیر بور ہوئے 30 منٹ تک گفتگو کرسکتا ہے۔‘

اس اشتہار کے شائع ہوتے ہی انٹرنٹ پر یہ وائرل ہوگیا اسے بے حد دیکھا گیا اور اب تک تین لاکھ پچاس ہزار لوگ اسے دیکھ چکے ہیں۔ میرے پیج کو فیس بک پر 11 ہزار افراد پسند کرچکے ہیں۔ اور 40 لڑکے اپنا رشتے کی پیش کش بھی کرچکے ہیں۔ سب سے تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض دلچسپ رشتے بھی آئے ہیں۔

ان میں دو کے بارے میں بتاتی ہوں۔ ایک نے کہا کہ وہ ’انٹر سٹیلر‘ فلم کے بارے میں میری معلومات کا امتحان لینا چاہتا ہے۔ اس نے لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس کے داڑھی ہے یا نہیں یا وہ اپنے خاندان سے قریب ہے یا نہیں ہے۔

دوسرے لڑکے نے کہا ہے کہ اس نے اپنے والد سے میرے بارے میں واٹس ایپ پر بات کی تو اس کے والد نے کہا ویسے تو لڑکی ٹھیک لگتی لیکن کیا واقعی اس سے شادی کی جاسکتی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Indhuja Pillai
Image caption انہیں بہت سے لڑکوں کی جانب سے رشتے بھے آئے اور ان کے والدین کو ان کا اس طرح سے اشتہار شائع کرنا برا بھی نہیں لگا

اس کے علاوہ دنیا بھر سے مختلف رشتے آئے لیکن ان سب میں جس ایک چیز نے مجھے سب سے زيادہ متاثر کیا وہ تھی میری ویب سائٹ کے خواتین کی آرا۔ انہیں میری ہمت اور اپنے بارے میں ایمان داری سے بتانے کی بات پسند آئی۔ میں اپنی ویب سائٹ کے ذریعے میں یہ بتانا چاہتی تھی کہ اپنے بارے میں ایمانداری سے بات کرسکتے ہیں۔

میرے والدین اب کیا کہتے ہیں؟ میرے والدین اب خوش ہیں اور انہیں اس بات کی بھی خوشی ہے کہ لوگوں کو میرا یہ قدم حوصلہ افضا لگ رہا ہے۔

میری ماں میری ویب سائٹ پر آنے والے سب کمنٹس پڑھتی ہیں۔ وہ مجھ سے پوچھتے ہیں ’تمہیں ان میں سے کوئی پسند ہے کیا؟‘

میں ان سے کہتی ہوں ’خدا کے لیے اس وقت آپ چپ ہوجائیں۔۔۔!‘

اسی بارے میں