یمن میں ایرانی سفاتکار 18 ماہ بعد رہا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شیعہ باغیوں نے نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا ہے اور پارلیمنٹ تحلیل کر دی ہے

القاعدہ کے مشتبہ عسکریت پسندوں کے ہاتھوں یمن میں اغوا کیے جانے والے ایران کے ایک سفارت کار کو 18 ماہ کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔

نور احمد نیک بخت تہران لوٹ آئے ہیں جہاں حکام اور ان کے رشتے داروں نے ان کا استقبال کیا۔

یمن میں اغوا عام بات ہے اور حکام القاعدہ سے وابستہ بغاوت اور علیحدگی پسند تحریک کو قابو کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سفارتکار کی رہائی ایران کے لیے ایک کامیابی ہے۔

عرب اور افریقن معاملات کے لیے نائب وزیرِ حسین عامر عبداللہ کے حوالےسے پریس ٹی وی نے بتایا کہ اس کامیابی کے لیے ’یمن کے شورش زدہ علاقوں میں کافی پیچیدہ اور مشکل کارروائیاں کی گئیں۔‘

پیر کو ان کی رہائی سے قبل حکام نے بتایا تھا کے نیک بخت کی صحت اچھی ہے۔انھیں سنہ 2013 میں اغوا کیا گیا تھا اور رواں برس جنوری میں ایک موقعے پر خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ انہیں ہلاک کر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حوثیوں پر شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ اُنہیں ایران کی حمایت حاصل ہے جس سے دونوں انکار کرتے ہیں

گذشتہ ماہ ملک میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور سیاسی بحران کے باعث سعودی عرب اور کئی مغربی ممالک نے یمن میں اپنے سفارتخانے بندکر دیے تھے۔

اقوامِ متحدہ کی کوشش ہے کہ وہ سیاسی دھڑوں اور شیعہ باغیوں کے درمیان مذاکرات کروائے جنہوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا ہے اور پارلیمنٹ تحلیل کر دی ہے۔

پیر کو ہی القاعدہ نے تین سال سے مغوی سعودی عرب کے ایک سفارت کار کو بھی رہا کر دیا تھا۔ عبداللہ الخالدی یمن کے ساحلی شہر عدن میں سعودی عرب کے ڈپٹی قونصل تھے اور انھیں مارچ 2012 میں اغوا کیا گیا تھا۔

اس سے پہلے دسمبر میں القاعدہ کے شدت پسندوں نے دو مغربی مغویوں کو ہلاک کر دیا تھا جس میں ایک امریکی صحافی اور جنوبی افریقہ کے ٹیچر شامل تھے۔

اسی بارے میں